بات ہو خواتین کو درپیش مسائل کی ،تو پبلک ٹرانسپورٹ کی حالتِ زار اور اِس میں سفر کرنے والی خواتین کی مشکلات کا ذکر نہ کرناقطعی ناانصافی ہو گی۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد حصولِ تعلیم، روزگار اور دیگر روز مرہ مصروفیات کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتی ہے، جی ہاں۔۔سرکاری،منی بسیں اور کوچز ۔۔۔جن میں محض گنتی کی چند سیٹیں خواتین کیلئے مختص کر دی جاتی ہیں جن پر عام طور پہ مرد حضرات کا ہی قبضہ ہوتا ہے،رہی سہی کسر کنڈیکٹر اور ڈرائیور حضرات کے ناروا رویے سے پوری ہو جاتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے مسائل سے مرد و خواتین دونوںہی دوچار رہتے ہیں لیکن بسوں، کوچز کے ڈرائیور و کنڈیکٹر حضرات کے ساتھ ساتھ بسوں میں سفر کرنے والے مرد حضرات کے نازیبا رویوں کے باعث خواتین کیلئے یہ ایک گھمبیر مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے والی ایک ملازمت پیشہ خاتون کا اس بارے میں کہنا ہے :
اس حوالے سے کراچی پبلک ٹرانسپورٹ سوسائٹی کے ایڈمنسٹریٹر شمس الدّین اَبڑو کا کہنا ہے کہ بسوں میں گنجائش سے بڑھ کر مسافروں کو سوار کروانے سے دیگر مسافروں خصوصاً خواتین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
شمس الدّین اَبڑو کا کہنا ہے کہ اِس صورتحال کی روک تھام کیلئے قوانین تو موجود ہیں ،لیکن اُن پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مسائل جوں کے توں ہیں:
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد حسین بخاری کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اخلاقی اقدار کی کمی ہے ،جسکا ذمے دار اداروں کو ٹھہرایا جا تا ہے، اس صورتحال کی حوصلہ شکنی کیلئے میڈیا کی جانب سے عوام الناس کو شعور و آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے:
ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کیلئے محکمہ ٹریفک پولیس، ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ اور دیگر ذمے دار اداروں کی جانب سے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں، اس سلسلے میں پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے والے ہر شہری کو انفرادی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
