کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھنے کے منفی اثرات پاکستان پر بہت زیادہ مرتب ہورہے ہیں۔عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ماحولیاتی توازن میں بگاڑ کے باعث پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں رہا اور ہمارے ہاں آنے والا سیلاب بھی اسی وجہ سے آیا ،کیونکہ موسمی درجہ حرارت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اِضافہ ہو رہا ہے۔عارف محمود محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انکے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور آلودگی ہےں۔
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کے سب سے زیادہ منفی اثرات کوہ ہمالیہ کے سلسلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں،جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں رواں سال، آئندہ برس یا کبھی بھی سیلاب کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ڈی جی محکمہ موسمیات عارف محمود کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ سیلاب، قحط سالی، شدید گرم یا سرد موسم کی صورت میں نکل سکتا ہے، تاہم اس کیلئے کسی مدت کی پیشگوئی ممکن نہیں۔
پاکستان میں گزشتہ سال برسات کے موسم میں انتہائی حد تک غیر معمولی بارشوں کے بعد جو سیلاب آیا تھا، وہ ملکی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب ثابت ہوا تھا۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے قریب 2 کروڑ افرادمتاثر ہوئے تھے، 17لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے اور 54 ملین ایکٹر زرعی اراضی کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا، مگرکیا اب ہم مستقبل میں اس قسم کی تباہی سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں؟پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی این ڈی ایم اے کے نام سے ادارہ بنایا گیا۔احمد کمال اس کے ترجمان ہیں، انکا کہنا ہے کہ 2007ءمیں این ڈی ایم اے کے قیام کے بعد اسے 2010ءمیں قانونی حیثیت دی گئی، تاہم اسکے باوجود اس ادارے کے تحت کئی قدرتی آفات کے بعدبحالی کا کام کیا جاچکا ہے۔
عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق رواں سال بھی پاکستان میں سیلاب کی آمد کا خدشہ ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال کا کہنا ہے کہ رواں سال موسم برسات کی آمد سے قبل دریائی نظام پر واقع بندوں کی تعمیراور انہیں سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام سازوسامان کاہونا انتہائی ضروری ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے قومی سطح پر ناگہانی حالات سے نمٹنے کے ایک منصوبے،2011ءمون سون Contingency Planکا آغاز کیا ہے جسکے تحت تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد یکم مئی تک اس منصوبے کو حتمی شکل دیدی جائیگی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو نئے سرے سے وسیع تر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ عالمی ادارے کے مطابق ایسے اہداف حاصل کرنا ہوں گے جن کی مدد سے پاکستان جیسے ملک میں دوبارہ ایسی کسی بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔اقوام متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے اور بار بار آنے والی تباہ کن قدرتی آفات سے تحفظ کے لیے پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت پختہ سیاسی ارادے کی ہے۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچنے کیلئے رضاکاروں کی تربیت ڈی سی او کی سطح پر شروع کردی گئی ہے،جبکہ کئی دیگر اہم اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔
