Consumer rights and Responsiblities صا رفین کے حقو ق اور ذمہ د اریاں

یہ ایک گھریلو خاتون شیما صدیقی ہیں جو روزافزوں بڑھتی مہنگائی سے انتہائی پریشان ہیں، کیونکہ مہنگائی کی لہر ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔جس شے کو لیں اسکی قیمت میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جس سے عام آدمی کا بجٹ شدید متاثر ہوا ہے۔اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے تو صرف دو سال کے دوران مہنگائی میں 80فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

مگر اس صورتحال میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ مہنگائی پر صارفین بہت رونا روتے ہیں،لیکن اس کی روک تھام کیلئے آگے قدم نہیں بڑھاتے اور نہ احتجاج کرتے ہیں۔حمید میکرصارفین کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے ادارے ہیلپ لائن ٹرسٹ کے بانی ٹرسٹی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں حکومت کیساتھ ساتھ صارفین کی کمزوری کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔
ابھی تک موثر انداز میں صارفین کی تنظیمیں بھی سامنے نہیں آئیں،جبکہ دنیا بھر میں صارفین کی تنظیمیں اتنی موثر اور مضبوط ہوتی ہیں کہ کنزیومر پروڈکٹ بنانے والی کمپنیاں ان کے سامنے بے بس ہوتی ہیں،لیکن ہمارے ملک میں صارفین یا نمائندہ تنظیمیں ان کمپنیوں کے سامنے بے بس ہیں۔کوکب اقبال کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ہیں۔

تاہم کوکب اقبال کا کہنا ہے کہ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے مہنگی چینی کے بائیکاٹ کا صارفین نے بھرپور ساتھ دیا اور چینی کی قیمتیں کم ہوگئیں۔

چینی کا بحران ہو یا گندم، اسی طرح گھی یا خوردنی تیل کی قیمتیں ہو یا سبزیاں وغیرہ ، تمام کنزیومر پروڈکٹ کمپنیاں مرضی کی قیمت پر اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہیںاور وفاقی و صوبائی حکومتیںبے بس نظر آتی ہےں۔ہیلپ لائن ٹرسٹ کے بانی ٹرسٹی حمید میکرکا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ کے گورنر چار مرتبہ کنزیومر پروٹیکشن بل پر دستخط کر چکے ہیں، مگر آج تک سندھ میںاس بل کا نفاذ عمل میں نہیں آسکا۔
لیکن کوکب اقبال کا دعویٰ ہے کہ انکی کوششوں سے پنجاب، خیبرپختونخواہ، اور بلوچستان میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایکٹ نافذ ہوچکا ہے۔
اجناس کی قیمتوں پر قابو پانے کا حکومتی سطح پر بہترین طریقہ موثر اصلاحات اور مسابقتی کمیشن پاکستان جیسے اداروں کو مستحکم کرنا ہے، مگرمہنگائی کی روک تھام کیلئے صارفین کی تنظیموں کو بھی موثر انداز میں آگہی مہم چلانی چاہئے،ایک گھریلو خاتون نسیم بانو کا کہنا ہے کہ ایک اکیلے شخص کے بائیکاٹ کرنے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔
گھریلو خاتون شیما صدیقی چاہتی ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجا ئز منافع کو روکنے کیلئے سب کو مل کسی ایکشن پلان پر کام کرنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *