Polio Vaccination پو لیوویکسنیشن

دو قطرے آپکے بچے کو عمر بھر کی معذوری سے بچاسکتے ہیں، پاکستا ن اُن ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کی شرح تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔۔۔اسکی وجہ۔۔تعلیم کی کمی، پولیو ویکسنشن کے بارے میںلوگوں کے ذہنوں میں موجود غلط فہمیاں اور سب سے بڑھ کر گھر گھر جانے والی پولیو ٹیموں کے ساتھ افراد خانہ خصوصاً خواتین کا عدم تعاون پر مبنی رویہ ہے۔
گزشتہ18سالوں سے پاکستان پولیو کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں اس مرض پر قابو پایا جا چکا ہے۔پچھلے سال پاکستان میں 198پولیو کیسزریکارڈ کئے گئے جبکہ رواں سال میں14کیسز سامنے آچکے ہیں۔انٹرنیشنل پولیو مانیٹرنگ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اگر اس سال بھی پولیو پر قابو نہیں پایا جا سکا تو پاکستان میں پولیو کی شرح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
نیشنل پروگرام برائے پرائمری ہیلتھ سے منسلک حلیمہ لغاری کا کہنا ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو خواتین کی جانب سے شدید نوعیت کے منفی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے،گھر میں موجود خواتین کم عمر بچوں کی تعداد درست نہیں بتاتی ہیں، شیر خوار بچوں کو کمروں میں چھپا دیتی ہیں یا پولیو کے قطرے پلوانے سے صاف انکار کر دیتی ہیں:
اس معاملے میں دیہاتی خواتین کے ساتھ ساتھ شہروں میں رہنے والی تعلیم یافتہ خواتین کا رویہ بھی زیادہ مختلف نہیں ہے، جسکی وجہ پولیو جیسے خطر ناک مرض سے عدم آگہی کے علاوہ پولیو ویکسین کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود غلط فہمیاں بھی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکر حلیمہ لغاری کہتی ہیں کہ پولیو سے متعلق خواتین کو مکمل طور پر آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں میڈیا کیمپین کے ساتھ ساتھ سیمینارز اور ورک شاپس کا انعقاد کیا جا نا چا ہئیے جس میں خواتین کو بتایا جائے کہ پولیو ویکسین انکے بچے کی صحت اور زندگی کیلئے کس قدر ضروری ہے۔
پولیو ایک شدید نوعیت کا انفیکشن ہے جسکاشکار5سال سے کم عمر بچے ہو سکتے ہیں،صرف ویکسنیشن کے ذریعے ہی پولیو سے بچا جا سکتا ہے ، EPIکے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر علی خمیسانی کا کہنا ہے کہ آپکا ایک درست فیصلہ آپکے بچے کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتا ہے:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *