Mater Inayat Hussain Death Anniversary ما سٹر عنا یت حسین کی بر سی

پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے جیسے سینکڑوں لافانی گیتوں کے خالق پاکستان کے معروف موسیقار ماسٹر عنایت حسین 1916ءکو لاہور میں پیدا ہوئے۔واجبی سی تعلیم کے بعد خاندانی دستور کے مطابق موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم خاں صاحب بڑے غلام علی خاں سے حاصل کی۔
انھوں نے 1946ءمیں پہلی بار ایک پنجابی فلم کملی کی موسیقی ترتیب دی، جسکے بعد ان کے لیے کام کے دروازے کھل گئے۔
قیام پاکستان کے بعد ان کی پہلی فلم ’ہچکولے‘ تھی جو 1949ءمیں نمائش کے لیے پیش ہوئی۔
تاہم انہیں شہرت فلم گمنام کے گیت پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے سے ملی، اور 1955ءمیں فلم قاتل میں اقبال بانو کی آواز میں گائے گئے گیت الفت کی نئی منزل کو چلا نے تو اس دور میں تہلکہ مچادیا۔
اسی طرح 1963ءمیں ماسٹر عنایت حسین نے فلم عشق پر زور نہیں کی موسیقی دی جس نے انہیں بام عروج پر پہنچا دیا۔ اس فلم کا یہ گیت سن کر بھی لوگ جھوم اٹھتے ہیں۔دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے
بڑی مہنگی پڑے گی جدائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے
1965ءمیں ماسٹر عنایت حسین نے پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ کی موسیقی ترتیب دی۔ اس فلم میں مالا بیگم نے اتنے خوبصورت گیت گائے کہ آج بھی کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔جیسے غم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے ،
اسی طرح فلم دیور بھابھی میں بھی آپ کی موسیقی نے شائقین کے کانوں میں رس گھول دیا، خصوصاً یہ کاغذی پھول گانا تو بہت مشہور ہوا۔
ماسٹر عنایت حسین نے اپنے 36سالہ دور میں تقریباً 60فلموں میں موسیقی دی جن میں 22کے قریب پنجابی فلمیں ہیں۔پنجابی کی شہرہ آفاق فلم مولا جٹ کی موسیقی بھی ماسٹر عنایت نے ترتیب دی۔
اسی طرح فلم بے تاب کا گیت ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں، فلم آنسو بن گئے موتی کا گیت رم جھم برسن لاگی پھوار، فلم نجمہ کا گیت جو بچا تھا وہ لٹانے کیلئے آئے ہیں بھی زبان زد عام ہوئے۔
زندگی کے آخری دس سالوں میں وہ زیادہ تر امراض کا شکار رہے اور اس وجہ سے وہ مجالس وغیرہ سے کٹ گئے تھے۔ 26 مارچ 1993ءکوان کا س±رشناس ذہن بحرِ سکوت کے سروں میں ڈوب گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *