سرسبز وشاداب گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں اگے درخت اور سبز ہ ختم ہوجائے تو دنیا کیسی دکھائی دے گی؟؟ یقینا ایسی ہی جیسے کوئی خوب صورت شخص گنجا ہوکر بدنما لگنے لگے ۔ صدر آصف علی زرداری نے نوفروری 2011ءکو رواں سال کیلئے شجرکاری مہم کا آغاز کیا، جسکے دوران5 کروڑ 30 لاکھ یا 53ملین پودے لگائے جانیکا اعلان کیا گیا تھا۔معاشی ترقی اور بہتر ماحولیات کیلئے دنیا میں فارسٹ لینڈیاجنگلات پر مشتمل علاقوں کی شرح 252 فیصد مقررہے، جس کیلئے شجرکاری مہمات اور دیگر طریقے اختیار کئے جاتے ہیں، لیکن پاکستان کا صرف 5 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ صوبوں کی سطح پر بات کی جائے تو رواں سال صرف موسم بہار کے دوران پنجاب بھر میں 2 کروڑ، سندھ میں 85 لاکھ، خیبرپختونخواہ میں50 لاکھ کے قریب اور بلوچستان میں صرف ساڑھے آٹھ ہزارپودے لگائے جائیں گے۔اسی طرح ریاست آزاد جموں وکشمیر میں بھی ہرسال شجرکاری مہم کا انعقاد ہوتا ہے۔ عابد صدیق آزادکشمیر میں پی پی آئی کے نمائندے ہیں، وہ ان مہمات کی تفصیلات اور حقائق بتارہے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے خطے میں بھی جنگلات کا رقبہ بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پی پی آئی کے نمائندے عقیل اظہر اس حوالے سے بتا تے ہیں۔
تاہم اس علاقے میں محکمہ جنگلات کے ضلعی افسر حق نواز کھوسہ کا کہنا ہے کہ شجرکاری کا مقررکردہ ہدف حاصل کرلیاگیا ہے ۔
پاکستان میں پائے جانے والے پودوں ،درختوں اور جنگلات کی بات کریں تو یہاں پودوں کی 5700 اقسام پائی جاتی ہیں، لیکن خشک موسم میں اگنے والا سبزہ اور پودے ،پاکستان کے سبزصحرا کہلائے جانے والے تھرکے زیور ہیں۔مگر بے تحاشاکٹائی کی وجہ سے اس خطے کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔اشوک آزم اوڈانو، تھرپارکر میںنیشنل کمیشن فار ہیومین ڈویلپمنٹ کے جنرل منیجر ہیں، وہ اس حوالے سے بتارہے ہیں۔
تھرپارکر میں جنگلات کے 7 فیصد حصے کا مکمل طور پر صفایا ہوچکا ہے، اس بات کا انکشاف یہاں درختوں کے تحفظ کیلئے کام کرنیوالی این جی اوSociety for Conservation & Protection of Environment (SCOPE)کے ضلعی کوآرڈنیٹربھارومل نے کیا ہے۔
پنجاب اور سندھ میں بااثر زمیندار جنگلات کی کٹائی میں ملوث ہوتے ہیں، جو اپنے اثررسوخ کی وجہ سے قانونی کارروائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
محکمہ جنگلات رحیم یار خان کے ضلعی افسر حق نوازکھوسہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومت پنجاب نے قوانین میں تبدیلی کی ہے اور جرمانے کی شرح میں گیارہ گنا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے صوبے میں صورتحال بہتر ہوجائیگی۔
نیشنل کمیشن فار ہیومین ڈویلپمنٹ کے تھرپارکر میں جنرل منیجر اشوک آزم کے خیال میں حکام شجرکاری یا غیر قانونی کٹائی روکنے سمیت اپنی دیگر ذمہ داریاں نبھانے کیلئے زیادہ سنجیدہ نہیں۔
ملک کے تمام جنگلات کی مجموعی اراضی میں صوبہ سندھ کے جنگلات کی اراضی 0.678 ملین ہیکٹر پر مشتمل ہے جو شرح تناسب کے لحاظ سے 16 فیصد ہے،جس میں سے 35 فیصد دریائی اور 51 فیصد ساحلی جنگلات پر مشتمل ہے، تاہم اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے، تھرپارکر میں کام کرنیوالی این جی او SCOPEکے کوآرڈنیٹر بھارومل کارونجھر نیشنل پارک بنانے کی تجویز سمیت اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔
پاکستان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے یعنی گزشتہ دس برسوں میں جنگلات پر مبنی کل رقبہ 4.8 سے بڑھ کر 5.01 فیصد ہوگیا ہے۔ تاہم دوسری جانب ان جنگلات کی کٹائی کی شرح آج بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔1992 ءسے لے کر 2004 ءتک قدرتی جنگلات کا رقبہ3.6 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر 3.3 ہیکٹر رہ گیا ہے۔ ان اعدادوشمار کو مدنظررکھا جائے تو شجرکاری کی ناقص مہمات اور بے تحاشا کٹائی سے ملک میں جنگلات کا مستقبل تاریکی میں ہی ڈوبا ہوا نظرآتا ہے۔
