Philippines’ Group That Promotes Harmony Recognisedفلپائنی امن گروپ

فلپائنی شہر زمباﺅنگاکی سٹی کونسل نے حال ہی میں ایک بین المذاہب کونسل کی تشکیل کی منظوری دی، تاکہ رواداری کو زیادہ فروغ دیا جاسکے۔ اس نئی کونسل کے اراکین میں سلسلہ ڈائلاگ موومنٹ بھی شامل ہے جو شہر میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا کام کررہی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہم لوگ اس وقت ہار منی ولیج میں موجود ہیں، یہ پہاڑیوں اور جنگلات سے گھرا چودہ ایکڑ پر پھیلا ہوا علاقہ ہے جو زمباﺅنگا شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس گاﺅں میں عیسائی اور مسلمان رہتے ہیں، اور یہی سلسلہ ڈائلاگ موومنٹ کا گھر بھی ہے۔

عربی زبان کے لفظ سلسلہ یا چین کے ذریعے اس گروپ نے اس خیال کو پیش کیا ہے کہ مسلم، عیسائی اور دیگر مذاہب کے افراد ایک ہی عالمی خاندان کا حصہ ہیں، اس گروپ کو ایک اطالوی پادری فادر سبسٹیا نو ڈی ایمبرا نے 1984ءمیں قائم کیا تھا۔
فادر سبسٹیا نو ڈی ایمبرا”میں نے دیکھا تھا کہ مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے افراد کے درمیان مکالمہ نہیں ہورہا، تو میں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پل بننے کا فیصلہ کیا”۔

سنہ 2000ءمیں فلپائنی صدر جوزف اسٹراڈے منداناﺅمسلم علیحدگی پسند گروپ کیخلاف مکمل جنگ کا اعلان کیا، جس کے بعد سلسلہ نے تمام مذاہب کے ماننے والے اپنے اراکین کی مدد سے اس گاﺅں میں امن کے قیام کیلئے کوششیں کیں، اور اب زیادہ تر افراد امن سے زندگی گزار رہے ہیں۔

اس گاﺅں میں اس گروپ نے اپنی کوششیں 1999ءمیں شروع کیں، 37 سالہ استاد گارسن حمجہ ایک استاد ہیں۔

استاد گارسن حمجہ “ماضی میں ہم قیدی رہ چکے ہیں،جس کے دوران میں نے اسلام قبول کرلیا جب میری والدہ نے سلسلہ ڈائلاگ موومنٹ میں شمولیت اختیار کی تو انھوں نے مجھے بہتر مسلمان بننے کا حوصلہ دیا،کیونکہ وہ ہماری اچھی عیسائی پڑوسی بن گئی تھیں”۔

امباﺅنگاگزشتہ چار دہائی سے فوج اور مسلم علیحدگی پسند گروپ کے درمیان جاری جھڑپوں کا مرکز رہا ہے، گزشتہ سال ستمبر میں مسلم گروپ نے اس شہر پر حملہ کرکے ایک خودمختار ریاست کے قیام کا اعلان کیا، اس جھڑپ میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد بے گھر ہوگئے۔ ان میں سے ایک سلسلہ کی رکن راسما سپان بھی شامل ہیں۔

راسما سپان”میں بھی گزشتہ سال بے گھر ہوگئی تھیں، مگر ہم نے اپنا یتیم بچوں کی نگہداشت کا اپنا کام جاری رکھا، ہم نے اس بحران سے متاثر ہونے والے افراد کی بھی مدد کی”۔

سلسلسہ موومنٹ کی جانب سے ہارمنی ولیج میں امن کے فروغ کیلئے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں، ورجینیا منٹے بون اس گروپ کی رکن ہیں۔

ورجینیا منٹے بون “پیڈایون سینٹر میں ہم کسی سے امتیازی سلوک نہیں کرتے، مثال کے طور پر ایک اتوار کو ایک شخص کافی دور دراز کے گاﺅں سے آیا اور ہم سے اپنی اہلیہ کیلئے خون مانگا، ہم اس سے واقف نہیں تھے، ہم نے اسے ریفرنس دیکر جنرل ہسپتال بھیج دیا، اگلے روز وہ آیا اور اپنی بیوی کے علاج پر ہمارا شکریہ ادا کیا”۔

قیام امن کی کوششوں پر حال ہی میں سلسلہ گروپ کو گوئی پیس ایوارڈ سے نوازا گیا، مگر پادری سباسٹیانو کا کہنا ہے کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
سباسٹیانو”ہمارا نعرہ ہے کہ امن کا قیام بات چیت سے ہی ممکن ہے، ہم ہار منی پریئر نامی دعائیہ پروگرام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، 2010ءمیں اقوام متحدہ نے عالمی بین المذاہب ہم آہنگی نامی ویک کا آغاز کیا، تو ہمیں اچھا لگا، کیونکہ یہ ہمارا گروپ بھی اسی کیلئے کام کررہا ہے”۔