فلپائنی حکومت نے حال ہی میں معروف شاعر و سماجی کارکن اریکسٹن ایکوسٹا کے خلاف مقدمہ خارج کردیا، وہ گزشتہ دو سال سے بغیر عدالتی کارروائی کے جیل میں قید تھے، ان پر غیرقانونی بارودی مواد رکھنے کا الزام تھا۔اسی طرح فلپائنی جیلوں میں تین سو سے زائد فنکار و سیاسی قیدی موجود ہیں، جن کی رہائی کے لئے حال میں ایک کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا۔
یہ فنکاروں، موسیقاروں اور مصنفین کیلئے خصوصی رات ہے۔ اس طرح کے ایونٹس دنیا بھر میں ہوتے رہتے ہیں، رنان آرٹز اس تقریب کا اہتمام کرنے والے گروپ،کنسرنڈ آرٹسٹ آف دی فلپائن کے ترجمان ہیں۔
رنان آرٹز” متعدد فنکاروں کو غیرقانونی طور پر پکڑ کر سیاسی قیدی بنالینے کے عمل کے خلاف ہونیوالی یہ تقریب درحقیقت عالمی ثقافتی تقاریب کا حصہ ہے۔ یہ دنیا بھر کے ان فنکاروں کا ایک نیٹ ورک ہے جو مختلف سماجی و سیاسی مسائل اپنے اپنے ممالک میں اٹھانے کا کام کرتے ہیں”۔
یہاں ایریکسن ایکوسٹا بھی موجود ہیں جنھیں حال ہی میں رہائی ملی ہے، وہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ دو برس قبل کیا ہوا تھا۔
یہاں ایریکسن ایکوسٹا “ مجھے فلپائنی فوج کی ایک پلاٹون نے گرفتار کیا، میں اس وقت فلپائنی علاقے سمرمیں انسانی حقوق کی صورتحال پر تحقیق کررہا تھا، میں اس علاقے کے کاشتکاروں کے تجربات جاننے کی کوشش کررہا تھا، جو دہائیوں سے فوجی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہورہے ہیں۔ میرا خیال میں اسی وجہ سے مجھے گرفتار کیا گیا، فوج کو میرے قبضے سے صرف ایک لیپ ٹاپ ملا مگر انھوں نے مجھ پر غیرقانونی اسلحہ رکھنے کا الزام عائد کردیا”۔
اس کے بعد سے فلپائن بھر میں مقامی فنکاروں اور بین الاقوامی گروپس کی جانب سے ایریکسن ایکوسٹا کی رہائی کیلئے مہم چلتی رہی، ایریکسن ایکوسٹا نہ صرف شاعر ہیں بلکہ وہ سماجی کارکن، صحافی اور سیاسی گیت نگار بھی ہیں۔2011ءمیں انکا نام فریڈم ٹو کرےئٹ امپرزنڈ آرٹسٹ پرائزکیلئے منتخب کیا گیا، جبکہ جیل میں انھوں نے سیاست کے حوالے سے کئی گانے تیار کئے۔
ایرکسن” جب تک میں فوج کی تحویل میں تھا تو مجھ پر تشدد بھی ہوا، تین روز تک مجھ سے تفتیش اور تشدد کیا گیا، مجھے اس دوران سونے نہیں دیا گیا، سول تحویل میں دینے سے پہلے فوج نے مجھے تین دن تک اپنی حراست میں رکھا، جو کہ انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے”۔
فلپائنی فنکاروں کے مطابق اس وقت حکومت نے غیرقانونی طور پر چار سو فنکاروں اور سیاستدانوں کو گرفتار کر رکھا ہے، جن میں سے متعدد پر فرضی الزامات ہیں، جس کی مثال ایریکسن ایکوسٹا کا مقدمہ بھی ہے۔
اڑسٹھ سالہ پیٹے لاکاباایوارڈ یافتہ صحافی اور شاعر ہیں، 1974ءمیں انہیں صدر مارکوس کیخلاف لکھنے پر فوج نے گرفتار کرلیا تھا،اور انہیں دو برس رہائی مل سکی تھی۔وہ بھی آج رات ہونے والی تقریب میں شریک ہیں تاکہ جیلوں میں قید فنکاروں سے اظہار یکجہتی کرسکیں۔
پیٹے لاکابا” جب ہم بڑے ہوتے ہیں تو تبدیلی کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، اگرچہ اب میری عمر ایسی نہیں کہ میں بہت زیادہ متحرک رہ سکوں، نہ ہی میں اب ریلیوں میں شرکت کرتا ہوں، اس لئے اب میں جو کام کرتا ہوں وہ شاعری ہے، میں ریلیوں، احتجاج اور ہڑتالوں کے بارے میں نظمیں لکھتا ہوں”۔
تاہم کنسرنڈ آرٹسٹ آف دی فلپائن نامی گروپ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ابھی بہت کام کیا جانا باقی ہے۔ یہ گروہ لوگوں میں فنی سرگرمیوں کے ذریعے شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ اس گروپ کے ترجمان رینن کارٹز اس بارے میں بتارہے ہیں۔
رینن کارٹز” ہم اپنی ثقافت کے ذریعے معاشرتی مسائل جیسے غربت، طبقاتی جنگ، ناانصافی اور ماحول وغیرہ کی بات کرتے ہیں۔ہم عوامی ثقافت کو گلیوں میں لے آئے ہیں۔ لوگوں کو اب اپنے جذبات کے اظہار کیلئے متبادل ذریعہ مل گیا ہے اور وہ اپنے ارگرد کے مسائل کے بارے میں جاننے لگے ہیں”۔
ایریکسن ایکوسٹا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ایریکسن ایکوسٹا “ میں ملک بھر سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے اپنی مہم کو سرگرمی سے جاری رکھوں گا۔ اس وقت چار سو سے زائد افراد جیلوں میں موجود ہیں،سیاسی قیدیوں اور انکے خاندانوں سمیت دیگر گروپس نے صدر نوئے نوئے اکینوتمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے دباﺅ بڑھا دیا ہے”۔