پاکستان میں کل عام انتخابات ہورہے ہیں، مگر اس بار انتخابی مہم میں ماضی جیسا جوش و خروش نظر نہیں آیا، جس کی وجہ سے عسکریت پسندوں کی جانب سے بم دھماکے اور دھمکیاں تھیں۔یہی وجہ ہے کہ اس بار گھر گھر جانے کی بجائے سیاستدانوں نے انٹرنیٹ کو اپنی انتخابی مہم کا ذریعہ بنایا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
نشتر پارک عام طور پر کراچی میں انتخابی مہم کیلئے معروف مقام سمجھا جاتا ہے، مگر اس بار یہاں کوئی بھی عوامی اجتماع نہیں ہوا، یہاں کی گلیوں میں کوئی سیاسی جھنڈا لہرا نہیں رہا اور نہ ہی کوئی کارنر میٹنگ ہوئی۔ 45 سالہ جاوید اختر کا کہنا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ انتخابات ہونے والے ہیں۔
جاوید”یہاں پر بہت بڑے اور تاریخی اجتماعات ہوئے ہیں، اب انتخابات میں کچھ ہی دن رہ گئے ہیں، مگر اب تک یہاں کوئی جلسہ نہیں ہوا۔ گلیوں میں دہشتگردوں کے راج کی وجہ سے کراچی صحرا بن کر رہ گیا ہے، ہر جگہ بم دھماکے ہورہے ہیں، لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں”۔
پاکستانی طالبان نے انتخابات سے قبل سیکیولر سیاسی جماعتوں پر خونریر حملے کئے،اپریل میں طالبان کے سیاستدانوں پر حملوں میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔
حال ہی میں سیکیولر جماعتوں نے حکومت پر انتخابی عمل کے دوران مکمل سیکیورٹی کی فراہمی کیلئے دباﺅ ڈالا، انھوں نے حملوں سے بچنے کیلئے اپنے دفاتر بھی بند کردیئے۔ زمان چکرزئی کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماءہیں۔
زمان”ہماری جماعت نے ملک بھر سنگین سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں، ہمارے متعدد رہنماءقتل کئے جاچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس جدید دور میں ہم اپنی سرگرمیوں کیلئے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا استعمال کررہے ہیں۔ میں خود بھی اپنی انتخابی مہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے چلا رہا ہوں
فیس بک اور ٹیوئیٹر اب سیاستدانوں میں کافی مقبول ہوچکے ہیں، مریم انور پاکستان تحریک انصاف کی آن لائن مہم چلانے میں مصروف ہیں، یہ پاکستان کی پہلی جماعت ہے جس نے فیس بک کا ایسا استعمال کیا۔
مریم”ماضی میں آپ مظاہروں، بل بورڈز اور ایسے ہی چیزوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے تھے، مگر اب اس کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ اب آپ کا پیغام ایس ایم ایس اور فیس بک کے ذریعے ہر جگہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ آپ مضامین کو کاپی اور پیسٹ کرسکتے ہیں، اور لوگوں کو قائل کرسکتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کو زیادہ بہتر معلومات مل جاتی ہے اور وہ خود جانچ پڑتال کرکے ہمارے موقف کو تسلیم کرلیتے ہیں”۔
اس وقت پاکستان میں اسی لاکھ پاکستانی فیس بک استعمال کررہے ہیں، جبکہ بیس لاکھ کے لگ بھگ ٹیوئیٹر میں سرگرم ہیں، جبکہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں سالانہ سات فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔ مریم کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ مہم چلانے کیلئے زیادہ محفوظ ہے اور اس سے آپ بہت زیادہ افراد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
مریم”فیس بک پر ہم چار سو سے پانچ سو افراد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اگر کوئی ایونٹ طے ہے تو سوشل میڈیا کے ذریعے آپ متعدد افراد تک رسائی حاصل کرکے بہت بڑا ہجوم اکھٹا کرسکتے ہیں۔ تو اگر آپ پانچ یا چھ سو افراد تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں تو یہ تعداد خود بخود بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ لوگ بھی دیگر پانچ چھ سو افراد تک آپ کا پیغام پہنچا دیتے ہیں، یہ ایک لہر کی طرح ہے”۔
مگر اس وقت پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی ان پڑھ اور انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد جماعتیں عام عوام تک اپنا پہنچانے میں ناکام رہتی ہیں، اس کی مثال جاوید اختر بھی ہے۔
جاوید”اس وقت سب کچھ انٹرنیٹ پر ہورہا ہے اور جن کے پاس کمپیوٹر ہیں وہ ہی اس سے آگاہ ہوپاتے ہیں۔ میں تو صرف ٹی وی دیکھتا ہوں جس میں چند جماعتیں ہی نظر آتی ہیں۔ میں صرف ان امیدواروں کے بارے میں جانتا ہوں جو میرے حلقے میں کھڑے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں”۔
شاہد عباسی آزاد نیوز ویب سائٹ دی نیوز ٹرائب کے ایڈیٹر ہیں۔
شاہد عباسی”سوشل میڈیا کچھ بھی نہیں، مگر جب آپ اسے اپنی آف لائن سرگرمیوں کے ساتھ استعمال کریں تو یہ رابطے کا اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے، اس کے ذریعے آپ مخصوص طبقے کو اپنے قریب لاسکتے ہیں”۔
مگر اس کے لئے مضبوط آن لائن موجودگی بھی ضروری ہے۔ خرم عبدالرزاق پاکستان کی بڑی اسلامی جماعت کے سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے ان لوگوں تک بھی رسائی ہوسکتی ہے جو سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
خرم عبدالرزاق”سوشل میڈیا اب روایتی میڈیا کا حریف بن چکا ہے اور سوشل میڈیا کسی اور میڈیا کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے”۔