اگرچہ دنیا کا سب سے مختصر قامت شخص نیپال سے تعلق رکھتا ہے، تاہم فلپائن میں چند بونوں کے خواب بہت بڑے ہیں۔وہ بونوں کا شہر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کوئی بھی ان کے ساتھ نامناسب سلوک نہ کرسکے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے ایک کلب کے اندر جائیں تو وہاں ہال میں فلم لارڈ آف دی رنگز کی تصاویر آویزاں ہے، جبکہ گلوکار اسٹیج پر گانا گا رہے ہیں۔
Hobbit House نامی کلب میں خوش آمدید، یہ کلب JRR Tolkien کے ناولوں کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، جہاں ہر چیز انتہائی مختصر ہے، جن میں یہاں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
یہ کلب 1973ءمیں کھولا گیا تھا اور یہاں چھوٹے قد کے لوگوں کو ویٹرز کی حیثیت سے رکھا گیا تھا۔ 59 سالہ Pidoy Fetalino کلب کے منیجر ہیں۔ وہ یہاں تیس برس سے کام کررہے ہیں۔
Hobbit House” (male) Pidoy Fetalino ہم جیسے چھوٹے قد کے افراد کو ملازمتیں فراہم کررہا ہے۔ اس کا نام لارڈ آف دی رنگز کی کتاب سے متاثر ہوکر رکھا گیا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم جیسے بونے اپنے جیسے دیگر افراد کی مدد کرتے ہیں۔مجھ جیسے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، مگر بہت کم لوگوں کو مناسب روزگار دستیاب ہے”۔
فلپائن میں ان چھوٹے قد کے افراد یا بونوں کے سرکاری اعدادوشمار تو موجود نہیں، تاہم دارالحکومت منیلا میں انہیں کافی زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ایسے زیادہ تر افراد بے روزگار ہوتے ہیں، اور Hobbit House ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں ان بونوں کو ملازمتوں سے نکالا نہیں جاتا۔فلپائن کے سرکاری دفاتر یا کلبوں میں ملازمت کے لئے لمبے قد کو لازمی تصور کیا جاتا ہے۔
بونوں کو انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں انتہائی بے دردی سے مذاق اڑانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس صنعت کیلئے کام کرنے والے بونوں کو عام قامت کے لوگوں کے مقابلے میں پیسے بھی کم دیئے جاتے ہیں۔ Christina Torralba ایک بونی ہیں جو Hobbit House میں کیشئیر کی حیثیت سے کام کررہی ہیں۔انکا کہنا ہے کہ باہر کی دنیا بہت ظالم ہے۔
(female) Christina Torralba “ہم جب باہر گھوم رہے ہوتے ہیں، تو لوگ ہمارے قد کا مذاق اڑاتے ہیں، شروع میں تو ہمیں بہت اذیت ہوتی تھی، تاہم اب میں اور میرے ساتھیوں نے اس طرح جینا سیکھ لیا ہے”۔
Christina Torralba اور ان کے شوہر ایک گروپ Little People’s Association of the Philippines کے رکن ہیں۔ یہ گروپ 1980ءکی دہائی میں قائم کیا گیا تھا۔یہ گروپ اپنے قیام کے بعد کافی عرصے تک غیرمتحرک رہا، تاہم 2011ءمیں اس میں ایک نئی جان پیدا ہوئی، اور اب اس کے اراکین ماہانہ بنیادوں پر اجلاس کررہے ہیں۔ اس گروپ کا سب سے بڑا خواب بونوں کے شہر کی تعمیر ہے، ایک ایسا مقام جو صرف ان کے لئے ہو اور جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکے۔ اس سلسلے میں انہیں Montalban نامی قصبے میں جگہ بھی مل گئی ہے۔Edward Vito اس گروپ کے ترجمان ہیں۔
(male) Edward Vito “ایک امیر شخص نے ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہوئے یہ زمین دی، مگر اس جگہ پر ابھی کافی کام ہونا باقی ہے۔ ہمیں یہاں اپنے قدوقامت کے مطابق گھر تعمیر کرنے ہیں، ہم یہاں ایک کلب، گرجا گھر اور دکانیں وغیرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں، مگران سب کیلئے کافی پیسوں کی ضرورت ہے”۔
بونوں کے شہر دیگر ممالک میں بھی تعمیر ہوئے ہیں، جس کی ایک حالیہ مثال چین کا شہر Kunming ہے، جہاں تعمیر کئے جانے والے گھر چھوٹے ہیں اور اس کے رہائشی پریوں کی کہانیوں جیسا لباس پہنتے ہیں۔ جب فلپائن کا یہ عجیب و غریب شہر تیار ہوگا، تو توقع ہے کہ متعدد چھوٹے افراد اس گروپ کا حصہ بن جائیں گے۔حکومت بھی اس شہر کی تعمیر کے سلسلے میں مدد پر غور کررہی ہے
Ria dela Paz، گھروں کی تعمیر کیلئے قرضے دینے والے سرکاری ادارے کی ایگزیکٹو سیکرٹری ہیں۔انکے ادارے نے بونوں کے خواب کو تعبیر دینے کا وعدہ کیا ہے۔
(female) Ria dela Paz “ہم اس گروپ کو شہر کی تعمیر کیلئے حسب ضرورت مدد فراہم کریں گے، ہمارے لئے سب سے اہم چیز ان بونوں کی تعداد کے بارے میں جاننا ہے،اس بارے میں ہم نے بونوں کے اس گروپ کے اراکین سے پوچھا بھی ہے، تاکہ ہمیں اندازہ ہوسکے کہ اس شہر میں کتنے گھر تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہوگی۔ ان کی معاونت سے ہم اس برادری کو ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کریں گے”۔
Christina Torralba انتہائی بے تابی سے بونوں کے شہر کی تعمیر کا انتظار کررہی ہیں۔
(female) Christina Torralba “اس وقت ہم منیلا میں کرائے کے گھروں میں رہ رہے ہیں، تاہم مجھے یقین ہے کہ ہمیں معاونت ملے تو ہم دیگر افراد کی طرح عملی زندگی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں روزگار کیلئے بھی مالی معاونت فراہم کی جائے”۔