Pakistani Schools to Teach Human Rights – انسانی حقوق پاکستانی اسکولوں کے نصاب میں شامل

دو ہزار پندرہ سے پاکستانی اسکولوں میں انسانی حقوق کو بھی بطور مضمون نصاب کا حصہ بنایا جائے گا، صوبہ سندھ میں یہ سب سے پہلے متعارف کرایا جائے گا، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

زبیر علی خاصخیلی نے ایک پٹیشن دائر کرکے حکومت پر زور دیا تھا کہ اسکولوں میں انسانی حقوق کی تعلیم بھی دی جائے۔

زبیر علی”اگر آپ اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لیں تو اس میں بنیادی انسانی حقوق کا کوئی تصور ہی موجود نہیں، اس کی کمی کافی محسوس کی جاتی ہے، تو میں نے ضروری سمجھا کہ قانون کی عملداری کیلئے اس مسئلے پر آواز اٹھائی جائے، کیونکہ جب لوگوں کو اپنے حقوق کے بارے میں معلوم ہوگا تو وہ اس کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں گے”۔

گزشتہ ماہ سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو سرکاری اسکولوں میں انسانی حقوق کو نصاب حصہ بنانے کی ہدایت کی، یہ نیا مضمون 2015ءسے پانچویں کلاس کے طالبعلموں کو پڑھایا جائے گا۔ زبیر علی کا ماننا ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی انسانی حقوق کے حوالے سے شعور بیدار ہونے سے ملک میں امن اور تحمل کا کلچر فروغ پائے گا۔

زبیر علی”کم عمری میں جب آپ کچھ سیکھتے ہیں تو وہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے، اسی طرح آپ بڑی عمر میں مستقل مزاجی سے آگے بڑھنے کی راہ ڈھونڈ سکتے ہیں”۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل طویل عرصے سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے، یعنی ماورائے عدالت ہلاکتیں، لوگوں کو جبری طور پر غائب کرنا اور تشدد وغیرہ، وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بیس ماہ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے آٹھ ہزار مقدمات درج ہوئے۔زہرہ یوسف ہیومین رائٹس پاکستان کمیشن کی چیئرپرسن ہیں۔

زہرہ یوسف”ہم سالانہ بنیادوں پر رپورٹ جاری کرتے ہیں، جس میں بچوں، خواتین، مزدوروں سمیت ہر شعبے کو شامل کیا جاتا ہے، اظہار رائے کی آزادی، اداروں کی آزادی وغیرہ، تو میرے کیال میں ہر طرح کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، لوگوں کو عسکریت پسند ہونے کے شبہے میں اٹھا کر غائب کردیا جاتا ہے، سوات سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ غائب ہوئے”۔

کمیشن اس حوالے سے عدالتی فیصلے پر حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کا خواہشمند ہے۔

زہرہ یوسف”ایک پینل تشکیل دیا جائے تو نصاب پر نظرثانی کرکے سفارشات حکومت کو ارسال کرے، مناسب خیالات کو متعارف کرایا جائے، میرے خیال میں عالمی کنونشنز کو بھی متعارف کرایا جانا چاہئے، ہمیں سندھ حکومت کے موجود اقدام کی حمایت کرنی چاہئے”۔

کمیشن کی خواہش ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔

زہرہ یوسف”ہمیں انسانی حقوق کے حوالے سے متوسط طبقے میں شعور اجاگر کرنا ہوگا، کیونکہ وہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باعث اپنے حقوق سے ناواقف ہیں، میں وزراءسے بات کروں گی اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ انسانی حقوق کا مضمون صرف نجی اسکولوں میں ہی نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں میں بھی متعارف کرایا جائے”۔

ایک اسکول میں پڑھانے والی شبانہ مجید کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے مضمون کیلئے تیار ہیں۔

شبانہ”یہ اچھا فیصلہ ہے، اس سے طالبعلموں کو کم عمری میں ہی اپنے حقوق کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا، ہم انہیں امن کیساتھ زندگی

گزارنے کی تعلیم دیتے ہیں، مگر ہمارے پڑھانے کا انداز پرانا ہے، نصاب میں موجودہ دور کے چیلنجر کی مطابقت سے نئی چیزیں شامل کی جانی چاہئے”۔