پاکستان ریلوے نے گزشتہ ماہ یعنی جولائی میں خسارے میں چلنے والی مزید 6 ٹرینیں بند کردیںجبکہ مجموعی طور پر 28 ٹرینیں بند کی جاچکی ہےں۔
۔اس وقت پوری دنیا، بالخصوص غیرترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سفر کے لیے سب سے سستا ذریعہ ٹرین سروس کوہی سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھرمیں اس پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔لیکن پاکستان میں ریلوے کو مختلف حکومتوںکی غفلت اور ریلوے کے اعلیٰ افسران کی نا اہلی اور بد عنوانی نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ٹرینوں کی بندش کے حوالے سے جنرل منیجر ریلوے اشفاق احمد خٹک کا کہنا ہے۔
شالیمار ایکسپریس جو کراچی اور لاہورکے درمیان چلائی جاتی تھی اور جسکا شمار پاکستان کی نفع بخش ٹرینوں میں ہوتا تھا، کو خسارے میں شمار کرکے بند کردیا گیا ہے۔ 2008ءمیں شالیمار ایکسپریس 18بوگیوں پر مشتمل تھی اور اس میں اے سی، لوئراے سی اور پارلر کار کے 4ڈبے شامل تھے، مگر 2010ءمیں ان چاروں ڈبوں کو ختم کرکے صرف اکانومی کلاس کے 14 ڈبے رکھے گئے، جس سے 30فیصد نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح ملک کی قدیم ترین تیزرو ایکسپریس کو بھی نقصان دہ قرار دے کر بند کردیا گیا ہے۔تیزروکراچی سے پشاور تک جاتی تھی اور اس میں ہر روز اوسطاً 3 سے 4ہزار افراد سفر کرتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ٹرین کی آمدنی 2007ءمیں روزانہ 18سے 22لاکھ روپے، جبکہ اخراجات 10سے 12لاکھ روپے تھے اورالمیہ دیکھیے کہ تیز رو کو خسارے میں ظاہر کرنے کے لیے اس کی بوگیاں18 سے کم کرکے صرف5 کر دی گئیں، جس سے تیزرو واقعی خسارے میں چلی گئی۔مجموعی طور پر اے سی، لوئراے سی اور پارلر کار کی 80فیصد بوگیاں ختم کر دی گئیں۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ناقص منصوبہ بندی اورغلط ٹائم ٹیبل ریلوے افسران کی ٹرانسپورٹ مافیا سے ملی بھگت کا نتیجہ ہے ۔ ریلوے میں موجود کرپٹ عناصر فنی طریقے سے منافع بخش ٹرینوں کو خسارے میں ڈالتے ہیں، اس کے بعد انہیں بند کردیا جاتا ہے۔ ٹرینوں کو خسارے میں ڈالنے کے لیے پہلے ان کی حالت خراب کی جاتی ہے، پھر ان کی بوگیاں کم کی جاتی ہیں اور اسی دوران کرایوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے اور پھر خسارہ یقینی ہے۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال موجودہ ٹرینوں کو بھی درپیش ہے۔ دراصل ریلوے میںموجود بعض عناصر ادارے کو تباہ کر کے ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیںکیونکہ ہزاروں مسافروں نے سفر کیلئے انٹرسٹی ٹرانسپورٹرز سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے،جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ریلوے کی حالت زار پر عوام کیا کہتے ہیں۔
دوسری جانب ناقص منصوبہ بندی اور نا اہلی کی انتہا ملاحظہ کیجئے کہ آزادی کے وقت پاکستان ریلوے کے ٹریک کی مجموعی لمبائی تقریباً10ہزار کلومیٹر تھی جس میں 63سال کے دوران اضافے کی بجائے تقریباً 20سے 25فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس وقت ہمارا ریلوے ٹریک مجموعی طور پر 8ہزار کلو میٹر سے بھی کم رہ گیا ہے، جس میں سے تقریباً70فیصد ریلوے ٹریک نے اپنی طبعی عمر پوری کرلی ہے اور صرف 30فیصد ریلوے ٹریک ایسا ہے جو فنی طور پر قابل استعمال ہے۔اسی طرح سگنل کا نظام بھی 1947ءکے مقابلے میں 2010ءمیں بدترین تباہی کا شکار ہے۔ ان دو وجوہ کی بنا پر ایک اندازے کے مطابق پورے ملک میں ہر روزکوئی چھوٹا یا بڑا حادثہ پیش آتا ہے اور ان حادثات کے نتیجے میں روزانہ اوسطاً ایک بوگی تباہ ہوتی ہے، جبکہ تقریباً ہر 15 دن میں ایک انجن تباہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس 520انجن ہیں، جن میں سے 318خراب ہیں، جبکہ تقریباً 5 ہزار بوگیوں میں سے تقریباً 3ہزارخراب یا قابل مرمت ہیں۔
پاکستان ریلوے کی تباہی کا ایک سبب مشرف دور کے وزیرریلوے جاویداشرف قاضی بنے جنہوں نے چین سے 144 ریلوے انجنوں کی خریداری کا معاہدہ کیا اور ان میں سے 69انجن منگوالیے، جن میں صرف دو سال کے اندر ہی خرابیاں نکلنا شروع ہوئیں اور اب تک 40انجن خراب ہو چکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود موجودہ حکومت سابقہ معاہدے کے مطابق 75انجن اسی کمپنی سے دوبارہ خرید رہی ہے حالانکہ معاہدے کے مطابق اس کمپنی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔
پاکستان ریلوے ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری محمد نصراللہ خان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بندش کی وجوہات مالی خسارہ نہیں، بلکہ کرپٹ بیوروکریسی اور وزراءہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ٹرینوں کے ذریعے سفر کو منافع بخش بنانے کی کوشش نہیں کی جاتی، بلکہ اسے عوامی سہولت کیلئے فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر ہمارے ملک میں ٹرینیں ہی بند کی جا رہی ہےں۔ اب بھی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی تو پھر بعید نہیں کہ آیندہ 3سے 5سال میں پاکستان ریلوے کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوجائے،کیونکہ ریلوے کے مسائل کا حل ٹرینوں کی بندش ہر گزنہیں۔
