پاکستان میں 1928 ءکے بعد13 بڑے سیلاب آئے ہیں لیکن جانی اور مالی نقصان کے اعتبار سے رواں سال کا سیلاب سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔حکومتی اعدادوشمار کے مطابق حالیہ سیلاب سے صرف خیبرپختونخواہ اور پنجاب میںایک کروڑ بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں ۔
سیلاب اور بارشوں سے سب سے پہلے آزادکشمیر کا علاقہ متاثر ہوا۔آزاد کشمیر اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین فاروق نیاز اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔
ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا کے مطابق حالیہ سیلاب صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑاسیلاب ہے،جس سے صوبے کی70 فیصد آبادی اور50 فیصد علاقہ متاثر ہوا ہے۔پشاور میں پی پی آئی کے بیورو چیف شہاب الرحمٰن صوبے میں سیلاب سے تباہی اور اس کے بعد وبائی امراض کے بارے میں بتارہے ہیں۔
صرف ضلع چارسدہ میں10لاکھ افراد سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس بارے میں ڈی سی او چارسدہ کامران رحمن خان کا کہنا تھا۔
ضلع نوشہرہ میںبھی سیلاب نے بے پناہ تباہی مچائی ہے۔ ڈی سی او نوشہرہ علی عنان قمروہاں کی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔
سیلاب سے پنجاب کا خطہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔دریائے سندھ، چناب اور جہلم میں طغیانی سے کئی علاقوں میں تباہی ہو ئی ہے اور اب تک صوبے بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ڈی سی اومیانوالی ،طارق محموداپنے علاقے میں ہونیوالے نقصانات اور اسکے ازالے کے بارے میں کہتے ہیں۔
ڈی سی اورحیم یارخان، ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ حفاظتی بند ٹوٹنے سے ضلع میں متعدد بستیاں زیرآچکی ہیں۔
بلوچستان میں اگرچہ دریا تو موجود نہیں مگر وہاں غیر متوقع شدید بارشوں کے سبب برساتی ندی نالوں نے قیامت بپا کردی ۔ اب سیلاب سندھ سے گزر رہا ہے جہاں کچے کے علاقے میں سینکڑوں دیہات زیرآب آچکے ہیں، جبکہ گڈو بیراج اور سکھربیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کی وجہ سے متعدد حفاظتی بندوں کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جس سے کئی علاقے بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔
اگر حکومتی ادارے محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں کے مطابق پہلے سے تیارہوتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔اس نااہلی اور غفلت پر سیلاب سے متاثرہ افراد بری طرح مشتعل ہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں سال ساون کی بارشوں میں 20 فیصد اضافے کا امکان ہے اور آئندہ دنوں میں متوقع بارشوں کا یہ سلسلہ تباہی اوربر بادی میں اضافہ کرسکتا ہے۔
اس فیچر میں ریاست آزاد جموں و کشمیر، صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بلوچستان اور سندھ میںبارشوں اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال، امدادی کارروائیوں اورحکومتی اقدامات کا احوال اگلے فیچر میں سنیے۔
