Pakistan Islamic Body Rules Against Using DNA Test for Rape Cases – اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

جنسی زیادتی کے واقعات کیلئے دنیا بھر میں ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال عام ہے، مگر گزشتہ ماہ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ اس طرح کے مقدمات کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کو مرکزی شہادت کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ماہ رمضان کا آغاز ہونے والا ہے ، جس کے دوران مسلمان دوسروں کی زیادتیاں معاف کردیتے ہیں، مگر پچاس سالہ بریان اس شخص کو معاف کرنے کیلئے تیار نہیں جس نے ان کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

بریان”اگر میری بیٹی کسی حادثے میں ماری جاتی تو میں اس شخص کو معاف کردیتا، مگر میری بیٹی معصوم تھی، میں اسے زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندے کو کسی صورت معاف نہیں کرسکتا”۔

ان کی بیٹی صرف دس سال کی تھی کہ اس کے ایک رشتے دار نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا، اس کی لاش کراچی کے ساحل پر پائی گئی۔ پولیس نے اس کے رشتہ دارکو گرفتار کرلیا اور ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوگیا کہ اسی نے زیادتی کی ہے، یہ مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے اور متاثرہ خاندان کو جلد فیصلہ آنے کی امید ہے، مگر حقوق نسواں کیلئے کام کرنے والی رخسانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو انصاف نہیں مل سکے گا۔

رخسانہ”وہ بچی اب دنیا میں نہیں رہی، تو صرف ڈی این اے ٹیسٹ ہی ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت ہے، مگر اب ہوسکتا ہے کہ عدالت ڈی این اے کو مرکزی شہادت کے طور پر نہ لے، جس کی وجہ اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ رائے ہے، اگر ایسا ہوا تو ممکن ہے کہ اس قاتل کو رہائی مل جائے”۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی حالیہ سفارشات میں کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کو ثانوی شہادت کے طور پر ہی استعمال کیا جاسکتا ہے،کونسل کا کہنا ہے کہ زیادتی کے واقعات میں مرکزی شہادت موقع واردات کو دیکھنے والے چار مردوں کی گواہی کو ہی مانا جائے گا۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کونسل کے سنیئر رکن ہیں۔

محمد طاہر”ڈی این اے کے بارے میں ڈاکٹروں کی تین مختلف آراءہے، کچھ کہتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ 98 فیصد تک ٹھیک ہوتے ہیں، کچھ اسی فیصد اور کچھ 75 فیصد درست قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں ایک مشتبہ شخص کو ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر پکڑا جاسکتا تھا اور پھر تفتیش کی جاتی تھی، مگر اسے گواہوں کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، اگر جبری زیادتی کے مقدمات تفتیش کے بعد زناءکے مقدمے کا روپ اختیار کرلیں تو پھر ہم مشتبہ شخص کو سزائے موت کیسے سناسکتے ہیں”۔

تاہم پولیس کی جانب سے ڈی این اے ٹیسٹ کو جنسی زیادتی کے مقدمات میں مرکزی شہادت کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، محمد وسیم اقبال ایک وکیل ہیں۔

محمد وسیم”زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ، طبی شواہد اور متاثرہ فریق کے بیانات ملزم کو سزا دلانے کیلئے کافی ہوتے ہیں، پوری دنیا میں یہی قوانین لاگو ہیں”۔

متعدد انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والے گروپس نے کونسل کی حالیہ سفارشات پر تشویش ظاہر کی ہے، مہناز رحمان عورت فاﺅنڈیشن کی عہدیدار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس سے جنسی مقدمات میں متاثر ہونے والی خواتین پر دباﺅ مزید بڑھ جائے گا، جن پر پہلے ہی معاشرے کی جانب سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مہناز رحمان”ہمیں سائنس اور طبی قانونی طریقہ کار کی مدد لینی چاہئے، آپ خود سوچ سکتے ہیں کوئی بھی ملزم چار مرد گواہوں کی موجودگی میں اس طرح کے جرم کا سوچ بھی نہیں سکتا، ایسا کون شخص ہوگا جو چار افراد کی موجودگی میں ایسا کرنے کی ہمت کرسکے؟”

گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ڈی این اے ٹیسٹ کو جنسی زیادتی کے مقدمات میں مرکزی ثبوت قرار دیا تھا، مگر نظریاتی کونسل کی موجودہ سفارشات کے بعد اب پارلیمنٹ نے فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ قوانین میں تبدیلی کی جائے یا نہیں۔ سماجی کارکن حکومت پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ کونسل کی سفارشات کو تسلیم نہ کرے، سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی رہنماءشرمیلا فاروقی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے ان سفارشات پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شرمیلا”ڈی این اے ٹیسٹ جنسی مقدمات میں لازمی ہونے چاہئے، دنیا بھر میں گواہوں کے مقابلے میں سائنسی اور فارنسک تفتیش کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے”۔

کچھ حلقے تو اسلامی نظریاتی کونسل کے ادارے کو ہی غیرضروری قرار دے رہے ہیں۔ زہرہ یوسف ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن ہیں۔

زہرہ یوسف”ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کررکھی ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے اور آئین کا بھی کہنا ہے کہ اسلامی اصولوں کے برخلاف کوئی بھی قانون منظور نہیں کیا جاسکتا۔ تو میرے خیال میں اس ادارے کی کوئی خاص ضرورت نہیں، ماضی میں بھی ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ ادارہ قدامت پسند اور خواتین مخالف رائے رکھتا ہے”۔