Pakistan Heads Towards M-Governanceپاکستانی موبائل گورنمنٹ

حکومت پنجاب نے جرائم اور ڈینگی کیخلاف لڑائی کیلئے ایک اسمارٹ فون اپلیکشن تیار کی ہے، اس سے پاکستان میں موبائل حکومت کی ایک مثال قائم ہونے کی توقع ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پولیس اہلکار محمد عمران ایک گاڑی چوری ہونے کی رپورٹ کے بعد جائے واردات کی جانب جارہا ہے۔ اس نے ایک تصویر لی اور کیس کی تفصیلات اپنے اسمارٹ فون میں لوڈ کرلی، جس کے بعد ایک موبائل اپلیکشن نے شہر کا جی پی ایس نقشہ بنادیا۔

ایس پی مصطفیٰ حمید ملک اس منصوبے کے سربراہ ہیں، انکا کہنا ہے کہ جی پی ایس نقشے کی مدد سے پولیس جرائم کی روک تھام کیلئے بہتر حکمت عملی بناسکتی ہے۔

مصطفیٰ حمید”جی پی ایس نقشہ گوگل میپ کا دلچسپ مجموعہ دکھاتا ہے، جس سے جرم کے وقت اور حقیقی مقام کا تعین ممکن ہوتا ہے، تو اس نقشے کی مدد سے ہم محدود وسائل کے باوجود بہتر طریقے سے جرائم پر کنٹرول کرسکتے ہیں”۔

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تین کروڑ کے قریب ہے جن میں سے پچاس فیصد کے قریب موبائل فون کے ذریعے اس مواصلاتی ذریعے کو استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کے انفارمیشن ٹیکنالو جی بورڈکا ماننا ہے کہ اسمارٹ فون خدمات کی فراہمی میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ چیئرمین عمر سیف کا کہنا ہے کہ یہ موبائل حکومت کا دور ہے۔

عمر سیف”یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسمارٹ فون کو خودکار حکومتی فنکشنز کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے، ہم اسمارٹ فونز دے رہے ہیں، جبکہ متعدد سرکاری ملازمین کے پاس پہلے سے ہی اسمارٹ فونز موجود ہیں، مگر ہم خوش مزید اسمارٹ فونز دیکر اچھا محسوس کررہے ہیں کیونکہ اس سے حکومتی کاموں میں بھی بہتری آئے گی”۔

ایک اور اپلیکشن کلین لاہور ہے جس کے ذریعے ڈینگی کی وباءکی روک تھام کا کام کیا جارہا ہے، پبلک ہیلتھ ورکرز کسی بھی علاقے میں مچھروں کی افزائش نسل کا سبب بننے والے پانی کی صفائی کے بعد وہاں کی تصاویر لیتے ہیں۔ عابد رضا سید واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی کے ایگزیکٹو انجنئیر ہیں۔

عابد رضا”اپ لوڈ کی گئی تصاویر سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ کام مکمل کرلیا گیا ہے، جس کا وقت، تاریخ، مقام اور دیگر شواہد یہ ہیں۔ یہاں تک کہ وزیراعلیٰ بھی گوگل میپ پرجیو ٹیگنگ کے ذریعے اس کی نگرانی کرسکتے ہیں”۔

اس سے یہ معلومات بھی سامنے آتی ہے کہ مچھر کے انڈے کہاں ہیں، اور ہسپتالوں میں ڈینگی کے کتنے مریض آچکے ہیں، اس سے حکومت کو ڈینگی کے وباءکے آغاز کی پیشگوئی کرنے میں مددملنے کا امکان ہے۔ عمر سیف کا کہنا ہے کہ موبائل پراجیکٹ میں توسیع کی جائے گی۔

عمر سیف”تعلیمی شعبے میں ہم اسمارٹ فون کے ذریعے اساتذہ پر نظر رکھنے کیلئے کوشاں ہیں، اسکولوں کا دورہ کرنے والے افسران اپنے ہمراہ اسمارٹ فونز لیکر جائیں گے، جس کے ذریعے ہم اساتذہ کی غیرحاضری پر نظر رکھ سکیں گے”۔