Pakistan Gives Away Babies on Live TV Show – پاکستانی شو

پاکستان کے ایک ٹی وی چینیل کے معروف پروگرام میں بچوں کو بطور انعامات بے اولاد جوڑوں کو دیا گیا، یہ بچے گلیوں اور کچرا گھروں میں پائے گئے تھے، ایک مقامی فلاحی ادارے کے مطابق ہر ماہ اس طرح پندرہ بچے ملتے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

امان رمضان نامی پروگرام ماہ رمضان کے دوران پاکستان میں سب سے مقبول پروگرام ثابت ہوا، جو کہ ایک امریکی شو دا پرائس از رائٹس کا پاکستانی ورژن تھا۔ اس پروگرام کے دوران اسٹوڈیو میں موجود افراد کو مختلف سوالات کے درست جوابات پر قیمتی انعامات دیئے جاتے تھے۔

ان انعامات میں موٹرسائیکلیں، مائیکروویو اوون، فریج اور رواں برس۔

بچے بھی شامل تھے۔ شو کے میزبان عامر لیاقت حسین نے ایک نومولود بچی کو ایک کامیاب جوڑے کے حوالے کیا۔

حسین”میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ اس لڑکی کو عائشہ کہہ کر پکارتے ہیں”۔

اس بچی کو چالیس سالہ گھریلو خاتون کشور سلطان کے حوالے کیا گیا، ان کی شادی کو سولہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

کشور سلطان”اب رمضان کے اس مقدس مہینے میں، میں ایک ماں بن گئی ہوں، میری بیٹی میرے ساتھ ہے اور میں بہت خوش ہوں”۔

اس بچی کو ایک مقامی این جی او نے کراچی کی گلیوں میں لاوارث پایا تھا، رمضان چھیپا، اس این جی او چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اکثر اس طرح لاوارث بچے ملتے رہتے ہیں۔

رمضان”ہم روز اول سے لوگوں سے اپیل کرتے آرہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو گلیوں میں نہ چھوڑیں، انہیں گلیوں، کچرا دانوں، سیوریج لائنز یا دیگر علاقوں میں نہ چھوڑیں، کئی بار کتے یا دیگر جانور انہیں کھا جاتے ہیں”۔

ان کے گروپ نے کراچی بھر میں ساٹھ ہنگامی مراکز قائم کررکھے ہیں، جہاں والدین اپنے بچوں کو محفوظ طریقے سے چھوڑ سکتے ہیں، ہر ماہ اس گروپ کو پندرہ بچے لاوارث ملتے ہیں۔

رمضان”ہم مسلسل عوامی شعور اجاگر کرنے کی مہم چلاتے رہتے ہیں تاکہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں، یہ ایک انسان کے قتل کا معاملہ ہے”۔

ماہ رمضان میں اس شو کے دوران پانچ بچوں کو بطور انعامات بے اولاد جوڑوں کو دیا گیا، عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ یہ کام نیک مقصد کیلئے کیا جارہا ہے، مگر ہر ایک اس بات سے متفق نہیں۔ رانا آصف بچوں کیلئے کام کرنے والی ایک این جی او انیشیئٹر آف ہیومن ڈیویلپمینٹ کے رضاکار ہیں۔
رانا آصف”بچوں کو خفیہ طریقے سے نہیں بلکہ لائیو شو میں دیا جارہا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس حوالے سے کسی اخلاقی اور سماجی اقدار کا احترام نہیں کیا جارہا۔ یہ بچے سب کے سامنے آجاتے ہیں اور جب وہ بڑے ہوں گے تو انہیں مستقبل میں بدنامی یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے”۔

مگر نئی ماں کشور سلطان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر کوئی شبہ نہیں کہ وہ اس بچی کیلئے ایک اچھی ماں بنیں گی۔

کشور”اب اللہ نے مجھے عائشہ سے نوازا ہے، میں اللہ تعالیٰ ، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور رمضان چھیپا کی شکرگزار ہوں۔