محمد ہاروں کو باڈی بلڈنگ کے ایک مقابلے میں مسٹر افغانستان کے خطاب سے نوازا گیا، فٹبال کے بعد باڈل بلڈنگ افغانستان کا دوسرا سب سے مقبول کھیل بن چکا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
بیس سے زائد افراد نے مسٹر افغانستان باڈی بلڈنگ مقابلے میں شرکت کی۔
اور رواں برس تیس سالہ محمد ہارون کو چیمپئن قرار دیا گیا۔
محمد”جب میں اسٹیج پر تھا اور میرا نام مسٹر افغانستان کے طور پر پکارا گیا، تو مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی، میں اس اعزاز کا خواب بچپن سے دیکھ رہا تھا، اب میں یہاں نہیں روکو گا، میری خواہش ہے کہ عالمی سطح پر بھی کئی اعزازات اپنے ملک کیلئے حاصل کروں”۔
محمد ہارون گزشتہ دس برس سے باڈی بلڈنگ کررہے ہیں، ہر صبح وہ اسپورٹس کلب میں آکر ایک گھنٹے تک ورزش کرتے ہیں، انھوں نے تیس سے زائد مقامی و غیرملکی مقابلوں میں شرکت کی۔
میں نے ہالی وڈ فلمیں دیکھی ہیں اور میں آرنلڈ شوازینگر کو پسند کرتا ہوں، ان فلموں کے باعث میرا باڈی بلڈنگ میں دلچسپی بڑھتی رہی، اور ایک بار جب میں نے ورزش شروع کی تو میں نے سخت محنت کا فیصلہ کیا، 2011ءاور 2012ءمیں، میں نے ساﺅتھ ایشین باڈی بلڈنگ مقابلوں میں دوسری پوزیشن حاصل کی”۔
طالبان کے عہد میں کھیلوں میں ہر ایک کو شمولیت کاحق حاصل نہیں تھا، خواتین پر سختی سے پابندی عائد تھی اور مردوں کو اجازت تھی مگر وہ بھی مناسب لباس کے ساتھ، منصور بہادوری ایک سابق باڈی بلڈر ہیں۔
منصور”میں طالبان کے دور میں ورزش کرتا تھا، تو مجھے بڑی پتلون پہننا پڑتی تھی اور مجھے جسم کی نمائش کی اجازت نہیں تھی، ہر بار جو لوگ مجھے دیکھنے آتے میرا حلیہ دیکھ کر مجھے پر ہنستے تھے”۔
بتیس سالہ سالہ ناصر احمد ایک ٹرینر ہیں اور کابل میں ان کا اپنا باڈی بلڈنگ کلب بھی ہے، انکا کہنا ہے کہ طالبان عہد کے مقابلے میں اب نوجوانوں میں زیادہ جوش نطر آرہا ہے۔
ناصر”پہلی بات تو یہ ہے کہ شہر کی آبادی بڑھی ہے، دوسری بات یہ کہ عوامی حالت بھی بہتر ہوئی ہے، اور سب سے آکر میں اب ہمیں زیادہ آزادی حاصل ہے اور ہمارے پاس مشق کیلئے نئے آلات موجود ہیں۔میرے کچھ طالبعلم جسمانی فٹنس کیلئے ورزش کرتے ہیں، کچھ صحت کیلئے مگر بہت کم افراد پروفیشنل باڈی بلڈر بننے کیلئے آتے ہیں، رواں برس ہمارے پاس کچھ خواتین بھی ورزش کیلئے آئی ہیں”۔
یہئس سالہ یونیورسٹی کے طالبعلم سید حسین نے حال ہی میں باڈی بلڈنگ شروع کی ہے۔
سید”جب میں بچہ تھا تو اس وقت سے ایک ایتھلیٹ بننا چاہتا تھا، یہی وجہ ہے کہ میں نے باڈی بلڈنگ شروع کی، میں متناسب جسم چاہتا ہوں اور اچھا اور طاقتور نظر آنا چاہتا ہوں، دو ہفتے کے بعد مجھے اپنے جسم میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور میرے خیال میں میری صلاحیت بھی بڑھی ہے”۔
باڈی بلڈنگ افغانستان کا دوسرا مقبول ترین کھیل بن چکا ہے، رواں برس افغان باڈی بلڈنگ ٹیم نے ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں چھ گولڈ میڈلز بھی اپنے نام کئے، افغان باڈی بلڈنگ فیڈریشن اب نوجوانوں کو جم میں جانے کیلئے حوصلہ افزائی مہم چلارہی ہے، منصور بہادری اس فیڈریشن کے سربراہ ہیں۔
منصور”باڈی بلڈنگ کے بہت زیادہ فوائد ہیں، اس سے لوگ مشکلات سے بچاتے ہیں، لوگ صحت مند اور اچھے نظر آتے ہیں، اور جب وہ قمیض پہنتے ہیں تو انہیں لڑکیوں کو متاثر کرنے میں مدد ملتی ہے، ہم طویل عرصے اس کھیل پر توجہ دے رہے ہیں مگرحالیہ دور میں لوگوں میں جوش زیادہ بڑھا ہے”۔