(Pakistan fire a disaster waiting to happen) سانحہ کراچی

 

کراچی میں گزشتہ دنوں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے ڈھائی سو سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے، اس سانحے سے پاکستان میں فیکٹریوں کی خطرناک صورتحال کھل کر سامنے آگئی۔

پچاس سالہ رقیہ احمد بلدیہ ٹاﺅن کراچی کی تباہ شدہ فیکٹری کے باہر دیوانہ وار اپنے پچیس سالہ بیٹے کو تلاش کررہی ہیں۔

رقیہ احمد(female) “اگر میرا بیٹا زندہ نہ ملا تو میں خودکشی کرلوں گی۔ انتطامیہ کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ بغیر باپ کے بچوں کی پرورش کتنا مشکل کام ہے”۔

رقیہ کا بیٹا کمال احمد اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا، اس فیکٹری میں متعدد لاشیں اتنی بری طرح جھلس گئی تھیں کہ ان کی شناخت ناممکن ہوگئی تھی۔ اس فیکٹری میں جب آگ لگی تو وہاں کام کرنے والے افراد کے پاس چار منزلہ عمارت سے باہر نکلنے کیلئے وقت کم تھا یا انہیں راستہ ہی نہیں ملا، یہی وجہ ہے کہ متعدد افراد نے کھڑکیوں سے چھلانگیں لگادیں، جس کے باعث درجنوں افراد کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ عبدالوحید بھی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر بچنے میں کامیاب رہے تھے۔

عبدالوحید(male) “فیکٹری کے اندر بالکل اندھیرا تھا، ہر شخص جہاں موجود تھا وہیں رک گیا تھا۔ اندر دھویں کی وجہ سے سانس لینا بھی ناممکن ہوگیا تھا”۔

درحقیقت زہریلے دھویں سے بھی متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔کاشان کاشف اس سانحے کے تحقیقات کیلئے قائم آزادانہ کمیشن کے رکن ہیں۔

کاشان(male) “وہاں fire extinguishers تو موجود تھے مگر کارکنوں کو اسے چلانے کی تربیت ہی نہیں دی گئی تھی۔ فیکٹری میں ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا۔ کراچی شہر میں درحقیقت بہت کم فیکٹریوں میں کارکنوں کے تحفظ کیلئے مناسب انتظامات کئے گئے ہیں۔ حکومتی انسپکٹرز، جنھیں کارخانوں کا معائنہ کرنا چاہئے، رشوت لیکر سب اچھا ہے کی رپورٹ دیدیتے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ ایسا حادثہ واقعہ پیش آیا ہو”۔

رﺅف صدیق اس واقعے کے وقت سندھ کے وزیر صنعت تھے، وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

رﺅف(male) “قانونی کارروائی جاری رہے گی، جبکہ فیکٹری مالکان کو ہر جاں بحق شخص کے ورثاءکو پانچ لاکھ جبکہ ہر زخمی کو دو لاکھ روپے دینے کا حکم دیا گیا ہے”۔

فیکٹری کے مالک شاہد بھائیلہ کا کہنا ہے کہ وہ جاں بحق افراد کے ورثاءاور زخمیوں کو معاوضہ ادا کریں گے۔

تاہم انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اتنی زیادہ ہلاکتیں فائر فائٹرز کے ناقص ردعمل کی وجہ سے ہوئیں۔ خصوصاً ایک بار تو فائر انجنز کا پانی تک ختم ہوگیا تھا۔ مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بدانتظامی کے باعث اس طرح کا حادثہ کسی بھی وقت ہوسکتا تھا۔ کروڑوں روپے سالانہ کمانے کے باوجود فیکٹری ملازمین کو روزانہ صرف تین سے پانچ سو ر وپے تک ادا کئے جارہے تھے۔کراچی کے ساتھ ساتھ اسی روز لاہور میں بھی ایک جوتا بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی سے اکیس افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔شمس الرحمن سواتی پاکستان نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر ہیں۔

شمس الرحمن(male) “یہ صرف حادثہ نہیں بلکہ معصوم افراد کا قتل ہے۔ صنعتی قوانین میں یہ بات واضح ہے کہ ہر صنعتی مرکز میں انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا چاہئے۔ مگر قوانین پر عملدرآمد نہیں ہوتا، مثال کے طور پر کراچی کی علی انٹرپرائز نامی متاثرہ فیکٹری میں دو ہزار سے زائد افراد ملازم تھے، مگر ان میں سے صرف ڈھائی سو سے زائد ہی محکمہ محنت کے پاس رجسٹرڈ تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ باقی افراد غیرقانونی طور پر رکھے گئے تھے، یہ بات تو سب کو ہی معلوم ہے کہ حکومتی مشینری نے سرمایہ داروں سے ہاتھ ملا رکھے ہیں”۔

حکومت نے اس سانحے کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کردیا ہے، جس کی سربراہی ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کررہے ہیں۔ تاہم لیبر یونینز اور سول سوسائٹی کے گروپس کو اس کمیشن پر اعتماد نہیں۔ سید شمس الدین ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سندھ میں کوآرڈنیٹر ہیں۔

سید شمس الدین(male) “میرے خیال میں حکومتی کمیشن کو آزادنہ تحقیقات کے بعد رپورٹ کو عام کرنا چاہئے، مگر ہم نے اب تک دیکھا ہے کہ اس طرح کے کمیشنز کی رپورٹ خفیہ رکھی جاتی ہے جبکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔”

کمیشن کی رپورٹ میں مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کیلئے سفارشات پیش کئے جانیکا امکان ہے۔ تاہم سید شمس الدین ذمہ داران کو بھی سزا ملتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

سید شمس الدین(male) “ہماری رائے میں یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ تو اس معاملے کی تحقیقات کرکے اس کی رپورٹ خفیہ رکھنے کے بجائے عوام کے سامنے پیش کی جائے اور تمام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *