(Overseas Malaysians fear delays to postal voting rights) بیرون ملک ملائیشین عوام کو ووٹنگ حقوق نہ ملنے کا ڈر

 

ملائیشیا میں رواں برس عام انتخابات کے انعقاد کا امکان ہے، تاہم بیرون ملک مقیم سات لاکھ ووٹرز اس سلسلے میں فکرمند ہیں۔ اس وقت صرف طالبعلموں اور سرکاری ملازمین کو ہی بیرون ملک سے بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔تاہم بیرون ملک مقیم ملائیشین افراد بھی اس حق کا مطالبہ کررہے ہیں

گزشتہ سال جولائی میں ہزاروں افراد نے ملائیشین دارالحکومت کوالالمپور میں آزاد و شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کے بعد ملائیشین حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی، جس نے متعدد سفارشات ملائیشین الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہیں، جن میں بیرون ملک مقیم افراد کو بذریعہ ڈاک ووٹنگ کا حق دینا بھی شامل ہے۔تاہم تین ماہ بعد انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد کے سلسلے میں سست روی کا مظاہرہ کرنے پر الیکشن کمیشن پر شدید تنقید شروع ہوگئی۔ پارلیمانی کمیٹی کے رکن Anthony Loke کا کہنا ہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو تین ماہ کی ڈیڈلائن دی تھی جو اب ختم ہورہی ہے۔

 (male) Anthony Loke “ہمیں اب تک الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں ملا، کمیشن کی جانب سے آخری مراسلہ جو ملا اس میں بتایا گیا تھا کہ سفارشات پر کام جاری ہے۔ ہم کمیشن پر اس سلسلے میں دباﺅ برقرار رکھیں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات سے قبل اصلاحاتی عمل کو مکمل کرے”۔

تاہم الیکشن کمیشن کے نائب سربراہ Wira Wan Ahmad Wan Omar کا کہنا ہے کہ کمیشن نے بیرون ملک مقیم افراد کو بذریعہ ڈاک ووٹ دینے کے سلسلے میں ضروری کام مکمل کرلیا ہے۔ کمیشن اب اس سلسلے میں متعلقہ وزراءسے ملاقاتیں کرکے مجوزہ منصوبے پر تبادلہ خیال کرے گا۔

 (male) Wira Wan Ahmad Wan Omar “ہم اس سلسلے میں تبادلہ خیال کرچکے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس پر عمل کیسے کرنا ہے، ہم اس حوالے سے وزراءکو رپورٹ پیش کریں گے اور قانونی مشیروں سے بھی مشاورت کریں گے کہ کس طرح قوانین میں تبدیلی کی جانی چاہئے”۔

ڈاکٹر Hoon Seong Teo بیرون ملک مقیم ان چھ ملائیشین افراد میں سے ایک ہیں، جنھوں نے بیرون ملک مقیم افراد کے ووٹنگ حقوق کیلئے الیکشن کمیشن پر مقدمہ دائر کررکھا ہے۔وہ فکرمند ہیں کہ کمیشن کی اصلاحات پر مقررہ وقت پر عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔

 (female) Hoon Seong Teo “ہم ان اصلاحات پر بروقت عملدرآمد چاہتے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم آئند عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہوجائیں گے”۔

Wan Saiful Wan Jan کا تعلق Institute for Democracy and Economic Affairs سے ہے، انکا کہنا ہے کہ عوام میں خدشہ بڑھ رہا ہے کہ بیرون ملک مقیم ملائیشین شہریوں کو آئندہ انتخابات میں ووٹنگ حقوق نہیں مل سکیں گے۔

 (male) Wan Saiful Wan Jan “یہاں دو مختلف معاملات سامنے آرہے ہیں، پہلی چیز یہ کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے مسائل پر غور کیا جارہا ہے، وہ چیلنجز کا جائزہ لیکر انہیں حل کرنیکی کوشش کررہے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ہم حکومتی کوششوں سے انکار نہیں کرسکتے، مگر اسکے ساتھ ساتھ عوام فکرمند بھی ہیں، انتخابات کے قریب آنے کے بعد سے عوام انتخابی بخارمیں مبتلا ہیں، اور وہ الیکشن سے قبل ان مسائل کو حل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ عوام کا ماننا ہے کہ آنے والے انتخابات ہماری تاریخ کے سب سے زیادہ اہم انتخابات ہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت اور الیکشن کمیشن جان بوجھ کر انتخابی اصلاحات کے عمل پر سست روی سے کام کررہے ہیں۔

 (male) Wan Saiful “مجھے لگتا ہے کہ عوامی اکثریت حکومت کے ساتھ نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ الزامات سامنے آرہے ہیں کہ حکومت جان بوجھ کر اصلاحات کے عمل پر سست روی سے کام کررہی ہے، کیونکہ حکومت کو معلوم ہے کہ اگر وہ بیرون ملک مقیم ووٹروں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتی ہے، تو یہ حکومت کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوگا”۔

بیرون ملک افراد کو ووٹ کا حق دلانے کیلئے حال ہی میں ایک ویب سائٹ JomBalikUndi کا بھی آغاز ہوا ہے، جو بذریعہ ڈاک ووٹ ڈالنے کیلئے مہم چلانے کے ساتھ لوگوں کو یہ مشورہ دے رہی ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کیلئے وطن واپس لوٹ آئیں۔ Chee Chin Lee کو توقع ہے کہ یہ ویب سائٹ ثابت کرے گی کہ بیرون ملک مقیم ملائیشین افراد اپنے ووٹنگ کے حق کے حوالے سے کتنے سنجیدہ ہیں۔

 (male) Chee Chin Lee “یہ امر ضروری ہے کہ ملائیشین عوام کو احساس دلایا جائے کہ بیرون ملک مقیم ان کے ہم وطنوں کا ووٹ کتنی اہمیت رکھتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس کریں اور ہمیں توقع ہے کہ بیرون ملک مقیم افراد وطن واپس آکر اپنا ووٹ ڈالیں گے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *