Ongoing Conflict in Southern Thailandجنوبی تھائی لینڈ کا تنازعہ

جنوبی تھائی لینڈ میں آزاد ریاست کے قیام کیلئے تحریک ایک دہائی سے جاری ہے، اور وہاں سیکیورٹی فورسز اورعلیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں،اسی حوالے سے سوئیڈن کی پارلیمنٹ میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہال جلد ہی بھر گیا، سو سے زائد ان افراد میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی تھائی لینڈ سے ہے، یہ سب ملائی مسلمان ہیں جو اپنے آبائی علاقے پٹا نی کے نام سے پکارتے ہیں۔

مہمت کپلان سوئیڈش پارلیمنٹ کے رکن ہیں، انھوں نے حال ہی میں جنوبی تھائی لینڈ کا دورہ کیا تھا۔

مہمت کپلان”میں نے اپنے حالیہ دورے میں وہاں انتہائی دبا ہوا معاشرہ دیکھا، خصوصاً نوجوانوں کو ملکر محسوس ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ کس طرح اپنی ثقافتی شناخت کو آزادانہ طور پر بیان کریں”۔

پٹانی میں ایک دہائی سے تشدد کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مسلم برادری نے اپنی خودمختار ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا، اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں ملائیشیاءاور یورپ میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

پارلیمنٹ میں اس کانفرنس میں تھائی مسلمانوں کی حالت و زار کا ہی جائزہ لیا جارہا ہے، یہاں موجود تھائی مسلمان اپنے وطن سے ہزاروں کلومیٹر دور اپنے خدشات کا اظہار کررہے ہیں، ہم نے ان لوگوں سے اپنے تجربات بیان کرنے کا کہا تو سب نے ہمیں ابو یاسر فخری کی جانب بھیج دیا، وہ علیحدگی پسند گروپ پولوکے اہم رہنماءہیں اور سوئیڈن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ابو یاسر”ہم 1976ءانیس سو چھہتر میں فیصلہ کرچکے تھے کہ حقوق کے حصول کا کوئی پرامن راستہ باقی نہیں رہا، پٹانی کے سب باسی اسے ایک آزاد ریاست کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں، ہم نے تھائی حکومت کے زیرتحت خودمختاری کے بارے میں بھی سوچا، مگر ہمارے پاس مناسب مذاکرات کار نہیں جو ہمارے اور تھائی ریاست کے درمیان بات چیت کا عمل آگے بڑھاسکے”۔

اس تنازعے کے نتیجے میں علاقے میں سخت گیر موقف والے مسلم گروپس کی تعداد بڑھ گئی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد تھائی فوجی یہاں تعینات ہیں۔

ڈاکٹر نیل میلون، سوئیڈن میں انٹر نیشنل پیس ریسرچ سینٹر کے عہدیدار ہیں، انھوں نے اس علاقے میں تحقیق کرائی ہے۔

نل”یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جو زبان، تعلیم، وسائل کی تقسیم اور دیگر وجوہات کی بناءپر پیدا ہوا، اس کا لنک کسی طرح بھی مذہبی تقسیم سے نہیں، تو میرے خیال میں اس وہاں ملے جلے خیالات پائے جاتے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ دونوں اطراف کے اپنے اپنے معاشی مقاصد ہیں”۔

جنوبی تھائی لینڈ میں سرمایہ کاری تھم چکی ہے، متعدد اسکول اور مندر بند ہوچکے ہیں، اور علاقے کے باسیوں کو فوج کی موجودگی کی بھاری قیمت چکانا پڑرہی ہے۔ ڈاکٹر نل میلون کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیلئے حکومت کو آگے آنا ہوگا۔

ڈاکٹر نل میلون”حکومت کو وہاں ایسی کوششیں کرنا ہوں گی کہ وہ علاقہ تھائی لینڈ کے قریب آئے یا وہاں ایسے مواقع پیدا کرنا پڑیں گے جس سے لسانی اور خطے کے مسائل کا حل نکالا جاسکے”۔

تھائی حکومت نے علیحدگی پسند تحریک سے خفیہ مذاکرات کئے ہیں اور نیشنل کار ڈی نیشن کمیٹی کے سابق کمشنراحمد سومبون باﺅ لنگ اسے اہم پیشرفت قرار دیتے ہیں۔

احمد سومبون باﺅ لنگ”جنوب کے مسئلے کا پرامن حل ایک طویل اور مشکل راستہ ہے، کیونکہ سیاسی طوفان بینکاک کیلئے بھی نقصان دہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم ینگ لک نے علیحدگی پسند تحریک کے رہنماﺅں سے ملاقات کی جو کہ بہت اہم پیشرفت ہے، اس سے امن عمل آگے بڑھنے میں مدد ملے گی”۔

اس ملاقات کے بعد توقع پیدا ہوئی ہے کہ بیرون ملک پناہ لئے ہزاروں مسلمانوں کو اپنے اپنے گھر واپس جانے کا موقع مل سکے گا۔ ابو یا سر فخری کے خیال میں غیرجانبدار ثالث کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

ابو یا سر فخری ” یہ داخلی سیاسی تنازعہ ہے، مگر ہم باہری دنیا سے پرامن حل کیلئے مدد لے سکتے ہیں”۔