(North Korean Refugee Beats the Odds) شمالی کورین پناہ گزین

 

(North Korean Refugee Beats the Odds) شمالی کورین پناہ گزین

 

ہزاروں شمالی کورین شہری اس وقت اپنے وطن کو چھوڑ کر جنوبی کوریا میں مقیم ہیں۔ یہ سفر بہت مشکل ہے اور صحت مند اور چاق و چوبند افراد ہی اس کو طے کرسکتے ہیں۔اگر آپ ایک ہاتھ اور ٹانگ سے معذور ہو تو یہ بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے۔

ہر ہفتہ کے روز Ji Seong-ho اور دیگر انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے رضاکار جنوبی کورین دارالحکومت کے مصروف بازاروں میں احتجاج کرتے ہیں۔ یہ خاموش احتجاج ہوتا ہے جس کے دوران وہ ہاتھوں میں شمالی کورین حکومت کی مذمت کے نعروں سے بھرا بینرز اٹھائے کھڑے رہتے ہیں۔ Ji Seong-ho، 2006ءمیں شمالی کوریا سے یہاں آئے تھے۔

 (male) Ji Seong-ho “میں شمالی کوریا میں اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کیلئے کوئلہ چرا کر فروخت کرتا تھا۔ میں یہ کوئلہ چلتی ہوئی ٹرینوں سے چراتا تھا، 1996ءمیں جب میری عمر 15 سال تھی، تو میں ٹرین سے نیچے ٹریک پر گرگیا اور ٹرین میرے اوپر سے گزر گئی”۔

اس حادثے میں Ji Seong-ho کا بایاں بازو اور ٹانگ کٹ گئی تھی۔ انکا کہنا ہے کہ اگر اس وقت گھر والے مدد نہ کرتے تو وہ زندہ نہ رہ پاتے۔ شمالی کوریا کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی ہے، کئی بار تو وہاں ادویات نہ ہونے کے باعث کھارے پانی سے مریضوں کے زخم صاف کئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اس ملک میں خوراک کی بھی قلت ہے، جس کی مثال یہ ہے کہ جب Ji Seong-ho کو کھانا ملتا تھا تو اس کے بھائی اور بہن بھوک رہتے تھے۔علاج کے بعد بھی Ji Seong-ho کیلئے زندگی آسان نہ تھی۔

 (male) Ji Seong-ho “وہ سال 2000ءتھا جب میں اور میرے دوست دریائے Tumen عبور کرکے خوراک کی تلاش میںچین آئے۔ میں نے یہاں دیکھا کہ جانوروں کو بھی ہم سے اچھی غذا دستیاب ہے۔ میں یہ دیکھ کر اداس ہوگیا، کیونکہ میری دادی بھوک کی وجہ سے مر گئی تھیں۔ میں نے شمالی کوریا کے حکمران Kim Jong-il کے خاندان کے بارے میں جانا اور معلوم ہوا کہ وہ ہم لوگوں سے کتنی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب شمالی کوریا میں نہیں رہنا”۔

تاہم اس وقت وہ اپنے فیصلے پر عمل نہیں کرسکے اور چین سے واپس اپنے گھر آگئے۔تاہم جلد ہی انہیں ملک سے بھاگنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

 (male) Ji Seong-ho “میرا گھر دریائے Tumen سے صرف چار کلومیٹر دور تھا۔ ایک دن چند شمالی کورین پولیس افسران ہماری طرف آئے، انھوں نے دیکھا کہ میرے پاس چین سے آنیوالی خوراک اور کپڑا ہے، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ میں سرحد پار کرتا رہتا ہوں، وہ مجھے پولیس اسٹیشن لے گئے اور ایک ہفتے تک مارتے رہے۔ انکا کہنا تھا کہ میں معذور ہونے کے باعث شمالی کوریا کیلئے باعث شرم ہوں، ایک ٹانگ سے معذور شخص کو گھر سے باہر ہی نہیں نکلنا چاہئے”۔

اس واقعے کے بعد شمالی کورین حکومت پر انکا اعتماد بالکل ختم ہوگیا، اور انھوں نے اپنے گھروالوں کے ساتھ ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ سب سے پہلے ان کی والدہ اور بہن 2004ءمیں گھر چھوڑ کر گئیں، جس کے بعد وہ اور انکے بھائی نے دو سال بعد دریا کو عبور کیا۔

 (male) Ji Seong-ho “ہم دونوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا، تاکہ دونوں ایک ساتھ پکڑے نہ جاسکے۔ ہم نے وعدہ کیا کہ جنوبی کوریا میں ایک بار پھر ملیں گے، وہ جدائی بہت افسردہ کردینے والی تھی۔ کئی ماہ تک میں چین کی سرزمین پر روزانہ بارہ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتا رہا۔ میں نے تین ہزار ڈالرز اسمگلرز کو دیئے، جنھوں نے مجھے جہاز میں بٹھا کر جنوبی کوریا پہنچا دیا، جب میں یہاں پہنچا تو مجھے خود پر فخر کا احساس ہوا”۔

دیگر شمالی کورین پناہ گزینوں کی طرح Ji Seong-ho کو بھی یہاں مفت طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

 (male) Ji Seong-ho “ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ جو بھی شمالی کورین پناہ گزین یہاں آئے، ان میں کوئی بھی میری طرح معذور نہیں۔ ڈاکٹروں نے پہلے مجھے بیساکھی فراہم کی اور پھر مصنوعی ہاتھ اور ٹانگ لگادی۔ جس کے بعد میں معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوگیا”۔

Ji Seong-ho خود کو خوش قسمت مانتے ہیں۔انکا پورا خاندان جنوبی کوریا میں مل چکا ہے اور اب وہ سیﺅل کی یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انھوں نے اپنا انسانی حقوق کا گروپ بھی بنایا ہے، جس کے تحت ریڈیو پروگرامز بھی تیار کئے جاتے ہیں۔

 (male) Ji Seong-ho “ہمارے پروگرام واشنگٹن کے فنڈز سے چلنے والے ریڈیو فری ایشیاءپر نشر ہوتے ہیں۔ ان پروگرامز میں شمالی کوریا کی زندگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ شمالی کورین تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تاریخ کی تعلیم جھوٹی ہے”۔

وہ جنوبی کوریا میں اپنی زندگی کی تعمیرنو میں کامیاب رہے، تاہم شمالی کوریا سے آنیوالے بیشتر افراد ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس وقت جنوبی کوریا میں 23 ہزار شمالی کورین شہری مقیم ہیں، تاہم جسمانی معذوری ہی چیلنج نہیں انہیں نفسیاتی امراض کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ Kion Won-hyoung، Hanawon میں ایک حکومتی رہائشی عمارت میں ماہر نفسیات کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

 (male) Kion Won-hyoung ” Hanawon میں بہت کم لوگ معذور ہیں، کچھ لوگ سفر کے دوران یا کسی نامعلوم مرض کے باعث معذور ہوجاتے ہیں۔ مگر یہاں آنیوالے اکثر افراد زخمی ہوتے ہیں، یہ زخم اکثر تشدد کا نتیجہ ہوتے ہیں، آپ ان کے جسموں میں مار پیٹ کے نشانات واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ نفسیاتی طور پر مختلف امراض کا بھی شکار ہوجاتے ہیں”۔

یہاں پناہ گزینوں کو زندگی گزارنے کیلئے کافی جدوجہد کرنا پڑتی ہے، تاہم Ji Seong-ho کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کو پسند کرتے ہیں، خصوصاً اس بات کو کہ یہاں معذور افراد کیساتھ کیسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ان کے مطابق یہاں کی زندگی کا تو شمالی کوریا میں خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔

 (male) Ji Seong-ho “میرے خیال میں اگر کسی ملک میں جمہوریت نافذ ہو اور معاشرے کو بہتر تعلیم ملے تو لوگ معذور افراد کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرتے ہیں۔ میری نظر میں تو جنوبی کوریا کسی جنت سے کم نہیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *