پاکستانی صوبے بلوچستان میں 2005ءکے بعد سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد لاپتہ یا قتل ہوچکے ہیں، یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہوچکا ہے، تاہم متعدد حلقوں کو توقع ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئے گی۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
اس احتجاجی کیمپ کو قائم ہوئے گیارہ سو سے زائد دن گزار چکے ہیں، یہ کیمپ لاپتہ اور قتل ہو جانے والے بلوچ افراد کے رشتے داروں کے گروپ وائس فار بلوچ مسنگ پرسن نے لگایا ہے۔ مرکزی شاہراہ پر واقع کیمپ کے اندر ایک جگہ چار افراد بیٹھے ہیں، جن میں سے نوعمر لڑکے ہیں۔انھوں نے انگلیوں سے وی یا فتح کا نشان بنایا ہوا ہے۔
اس کیمپ کے اندر لاپتہ ہوجانے والے متعدد افراد کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ زاہد علی بگٹی اس کیمپ کے انچارج ہیں، وہ ماورائے عدالت قتل و غارت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا ایک بھانجا دو سال سے لاپتہ ہے۔
زاہد”میری پوری قوم گمشدہ ہوچکی ہے، اسی لئے ہم یہاں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ ہمیں یہاں دھرنا دیئے ایک ہزار سے زائد دن گزار چکے ہیں، ہمارا احتجاج ان گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے ہے جنھیں ایجنسیوں نے اغوا کیا، اب تک چھ سو افراد قتل ہوچکے ہیں، جبکہ سولہ ہزار سے زائد غائب ہیں”۔
تاہم حکومتی اعدادوشمار کے مطابق گمشدہ افراد کی تعداد چند سو ہے اور ان میں سے بھی بیشتر بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاط سے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی گیس کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرا اہم صوبہ ہے۔مگر کافی برسوں سے یہ تشدد کی زد میں ہے، علیحدگی پسند گروپس کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے عام ہیں، جبکہ گیس پائپ لائنز کو بھی متعدد بار تباہ کیا گیا ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنماءڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی بھی علیحدگی پسند گروپس کے حامی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالحکیم”بلوچستان میں کوئی عسکریت پسندی نہیں، بلکہ یہ خودمختاری کے حصول کی جدوجہد ہے۔ہمارے خلاف فورسز نے اعلان جنگ کررکھا ہے، اور ہم اپنے دفاع کیلئے لڑ رہے ہیں۔ ہم دہشتگرد نہیں، تاہم حکومت کیلئے ہماری تحریک کو روکنا ناممکن ہے۔ ہمارے لوگ کو اغوا اور قتل کیا جاتا ہے، تاہم اگر کوئی سوچتا ہے کہ اس سے ہم خوفزدہ ہوجائیں گے تو یہ بالکل غلط ہے”۔
سعید سابازی ایک صحافی ہیں، وہ گمشدہ افراد کے رشتے داروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ ان کی کہانیاں میڈیا تک پہنچ سکیں۔
سعید”لگتا ہے کہ صوبے میں برداشت ختم ہوچکی ہے، ان مبینہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے انہیں بغیر ثبوتوں کے ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے اور پھر مار دیا جاتا ہے۔ اگر ان افراد کے کسی عسکریت پسند گروپس سے روابط بھی ہیں، تو بھی انہیں عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہئے”۔
گزشتہ سال سعید بھی اسی طرح غائب ہوگئے تھے۔
سعید”میری آنکھوں کو پٹیوں سے بند کرکے ایک جیل میں رکھا گیا۔ وہ لوگ مجھ سے چار روز تک پوچھ گچھ کرتے رہے، انھوں نے مجھ پر تشدد کیا اور مجھے ہر وقت زبردستی کھڑے رکھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میراکسی دہشتگرد یا عسکریت پسند گروپ سے تعلق نہیں، میں ایک صحافی ہوں اور میں گمشدہ افراد کے رشتے داروں کی مدد کرنے کی کوشش کررہا ہوں”۔
انہیں ایک ماہ بعد رہائی ملی۔متعدد بلوچ افراد بھی ایسی ہی کہانیاں سناتے ہیں، تاہم میڈیا کے سامنے وہ بولنے سے ڈرتے ہیں۔ عبدالحئی پاکستان ہیومین رائٹس کمیشن کے عہدیدار ہیں۔
عبدالحئی”یہ لوگ بولنے یا رہائی کے بعد دوران قید پیش آنے والے تجربات کے بارے میں سچ بولنے سے ڈرتے ہیں۔ ان پر بہت بری تشدد ہوا ہوتا ہے، اور اگر لوگ ہمارے پاس آکر بیانات درج کروائیں تو انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔ چند افراد نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے مگر پھر وہ مردہ پائے گئے”۔
وائس آف بلوچ مسنگ پرسنزکے مطابق 2005ءکے بعد سے اب تک دو ہزار سے زائد افراد غائب یا ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم مقامی میڈیا میں اس حوالے سے بہت کم کوریج سامنے آتی ہے۔صدیق بلوچ ایک سنیئر صحافی ہیں جو روزنامی آزادی کیلئے کام کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے بلوچ قوم پرست تحریک کو کور کرتے آرہے ہیں، ان کے تین ساتھی گزشتہ دو سال کے دوران قتل ہوچکے ہیں۔
صدیق بلوچ”گمشدہ افراد کی میڈیا میں کوریج نہ ہونے کے برابر ہے، میڈیا میں کوئی رپورٹ اس وقت آتی ہے جب کسی گمشدہ شخص کی لاش ملتی ہے، مگر اس شخص کو کب اغوا کیا گیا، ، یا اسے کہاں رکھا گیا اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں اس رپورٹ میں کچھ نہیں ہوتا۔بلوچستان کے لاپتہ افراد کے حوالے سے کوریج میں یہ حقائق بالکل غائب رہتے ہیں”۔
بلوچسان کے مسئلے پر انسانی حقوق کے کام کرنے والے گروپس کی جانب سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے بانیوں میں شامل عاصمہ جہانگیر بلوچ افراد کے ماورائے عدالت قتل پر طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کرتی آرہی ہیں۔
عاصمہ” پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور اسے حل کرنا چاہتی ہیں، مگر مجھے پورا یقین ہے کہ بلوچستان کے معاملے میں فوج کی رائے کو ہی حتمی حیثیت حاصل ہوگی، اور وہی فیصلے کرے گی۔ میں تمام سنیئر سیاستدانوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں”۔
اب واپس کیمپ کی جانب چلتے ہیں۔ نومنتخب حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں جمہوری اقدار میں مضبوط کی توقعات بڑھ ہیں، تاہم بلوچ افراد کے غائب ہونے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ زاہد علی بگٹی کا کہنا ہے کہ وہ مسئلہ حل ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔
زاہد”ہم عالمی برادری کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم کس قدر بے بس ہیں، کیونکہ مقامی میڈیا ہماری کہانیوں پر توجہ ہی نہیں دیتا۔ ہم آزادی چاہتے ہیں اور اسی لئے ہمیں مارا جارہا ہے”۔