New Comedy Talent From Inside Indonesia’s Prisons – انڈونیشین جیلوں میں کامیڈی مقابلہ

انڈونیشیاءمیں کامیڈی پروگرامز تیزی سے مقبولیت حاصل کررہے ہیں اور جگہ جگہ کامیڈی کلب قائم ہورے ہیں، یہاں تک کہ جیل کے اندر بھی قیدیوں نے اپنی خوفناک زندگی کی تلخیوں کو چھپانے کے لئے اس کا سہارا لیا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

الہ دین اور جن اپنا وقت جیل میں گزار رہے ہیں، یہ تین خواتین قیدیوں کا ایک ڈرامہ ہے، جس میں اندا وولانداری مرکزی کردار ادا کررہی ہیں۔

انداہ”جیل میں آنے سے قبل میں ایسی نہیں تھی، یہاں آنے کے بعد مجھے اپنی اس صلاحیت کا احساس ہوا، میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں، اگر میں یہاں نہیں آتی تو میں ایسی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرپاتی۔ مجھے یاد ہے کہ میری ماں ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتی تھیں، وہ کہیں تھیںوولین تم کچھ بھی کرسکتی ہوں اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گی”۔

ان کی ٹیم کو انڈونیشین جیلوں میں ہونے والے اس کامیڈی مقابلے کا فاتح قرار دیا گیا، وسطی جاوا کے ڈپٹی گور رسٹر ین انگسی بھی اس ایونٹ میں موجود تھیں اور وہ کسی بھی وقت اپنی ہنسی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

رسٹرین “یہ بہت اچھا شو ہے، اس نے ہر ایک کو دل سے ہنسنے اور اپنے تمام دکھ بھولنے پر مجبور کردیا ہے۔جیل کے اندر رہتے ہوئے قیدیوں کیلئے یہ اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے اور یہ سب بہت باصلاحیت ہیں۔ اگرچہ یہ سب سلاخوں کے پیچھے ہیں مگر وہ پھر بھی اپنا آپ منوا رہے ہیں، میری نظر یہ تو یہ بہت زبردست کام ہے”۔

یہ ایونٹ مقامی کامیڈی گروپ کلز نے منعقد کروایا تھا،اگوگ اینڈیا ت موکواس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد قیدیوں کو تفریح فراہم کرنا اور انہیں مثبت و تخلیقی سرگرمیوں کی جانب مائل کرنا ہے۔

اگوگ”متعدد افراد کا ماننا ہے کہ جیلوں کے اندر قیدی صرف بہتر مجرم بننے کی ہی تربیت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہاں کی ملاقاتیں اپنے جیسے قیدیوں سے ہی ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ غلط راستوں پر چلتے رہتے ہیں، تاہم اگر ہم انہیں کچھ مثبت کرنا سیکھائے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے”۔

بابافاتح ٹیم کی رکن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مزاح نے انہیں اپنے خیالات اور ذہنی تناﺅ کے اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔

بابا”جیل کے اندر رہنا آسان نہیں، مگر مزاح کے ذریعے ہم اپنے مسائل کو آواز دیکر اپنا پیغام پھیلا سکتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے دلوں کے جذبات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں مگر پہلے ہمیں کوئی موقع نہیں ملتا تھا”۔

اس مقابلے کیلئے ایک بین الاقوامی این جی اوانسٹیٹیوٹ آ ف انٹرنیشنل پیس بلڈ نے بھی تعاون کیا، جس کا مقصد قیدیوں کو جیل سے باہر نکلنے کے بعد معمول کی زندگی پر لانا ہے۔ این جی او کے ڈائریکٹر نور ہدیٰ اسمعیل کے مطابق مزاح رہائی کے بعد ان قیدیوں کیلئے اچھی زندگی گزارنے کا موثر طریقہ ثابت ہوگا۔

نور ہدیٰ”جرائم میں ملوث افراد اکثر ایک نئی زندگی گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، تبدیلی کی خواہش رکھنے والے ان افراد کی مدد کرنا ریاست اور نجی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے، تاکہ جیلوں میں موجود یہ افراد مستقبل میں ریاست اور اپنی برادری کے لئے بوجھ ثابت نہ ہوں”۔

قیدی جیسے آئدااپنے ساتھی قیدیوں کی پرفارمنس کو سراہتی ہیں۔

آئدہ”جیل کے اندر تفریح کے مواقع موجود نہیں، یہاں روزانہ ایک ہی معمول برقرار رہتا ہے، تو اس طرح کے مقابلے ہماری تفریح کیلئے بہترین ہیں، یہ بہت زبردست تجربہ ہے”۔