Nepalese Students Studying in the Darkنیپال میں بجلی کا بحران

نیپال میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور دن بھر میں بارہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ نے عوامی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، خصوصاً سردیوں کے موسم میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوگیا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سولہ سالہ ڈکشیا دیوکوٹاموم بتیوں کی روشنی میں اپنے اسکول کا کام کرنے میں مشکل محسوس کررہی ہے، ہر ایک کی طرح رواں موسم سرما میں بھی اس نوعمر طالبہ کو روزانہ بارہ گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈکشیا دیوکوٹا”جب بھی میں پڑھنے کیلئے بیٹھتی ہوں تو بجلی اچانک غائب ہوجاتی ہے، جس سے میری تیاری متاثر ہوتی ہے”۔

یہ وہ وقت ہے جب اسے تعلیمی سرگرمیوں پر غور کی زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ وہ گریجویشن کے امتحانات دینے والی ہے۔

اس کے اسکول میں کمپیوٹر کلاسز بھی موجود ہیں، مگر وہ ڈیوائسز چل ہی نہیں پاتیں، رتنا رجیا ہائر سیکنڈری اسکول کے ایک استاد تلسی رام دھکال کا کہنا ہے کہ بجلی ہی موجود نہیں۔

تلسی رام”لوڈشیڈنگ کے باعث ہم کمپیوٹر کی ایک کلاس بھی مناسب طور پر پوری نہیں کرسکے، اسے چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے”۔

ہائیڈروپاور کے وسیع مواقعوں کے باوجود نیپال اپنی طلب کے مقابلے میں صرف پچاس فیصد بجلی ہی پیدا کرپاتا ہے،نیپال الیکٹریسٹی اتھا رٹی کے ترجمان شیر سنگھ بھگت کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں بجلی کا بحران زیادہ شدید ہوجاتا ہے۔

شیرسنگھ”موسما سرما میں دریاﺅں میں پانی کی شرح بہت کم ہوجاتی ہے، برف پگھلتی نہیں اور بارشوں کی اوسط کم ہوجاتی ہے، جس سے موسم سرما اور فروری و مارچ کے خشک موسم میں بجلی کی طلب و رسد میں فرق بڑھ جاتا ہے”۔

نیپال کے صرف چالیس فیصد افراد ہی بجلی کی سہولت سے مستفید ہوپاتے ہیں، مگر شہری علاقوں میں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ڈکشیاکی دادی لیلیٰ دیوی دیوکوٹا طویل لوڈشیڈنگ کے باعث پریشان ہیں۔

لیلیٰ دیوی دیوکوٹا”جب ہم لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تو بجلی نہیں ہوتی، جب ہم کھانا پکارہے ہوتے ہیں تو بھی اندھیا ہوتا ہے، مجھے اس پر بہت غصہ آتا ہے اور کھانے کے دوران لوڈشیڈنگ مجھے اپ سیٹ کردیتی ہے”۔

حکومت اب کئی ہائیڈروپاور پلانٹس کی تعمیر کا منصوبہ بنارہی ہے، مگر تعمیراتی کام کی رفتار کافی سست ہے، طالبہ ڈکشیاکا ماننا ہے کہ لوگوں کو بھی توانائی کی بچت کے رجحان کو فروغ دینا چاہئے۔

“ہمیں دن کے اوقات میں لائٹس بند رکھنی چاہئے، اور رات میں بھی بلاضرورت انہیں جلانے سے گریز کرنا چاہئے، اور صرف ضرورت کے وقت ہی ان سے کام لینا چاہئے”۔