آئے آئے ون برما میں کام کرنے والی چند خواتین صحافیوں میں سے ایک ہیں، انہیں حال ہی میں امریکہ کے میسوری اسکو ل آ ف جر نلزم کی جانب سے صحافتی خدمات پر میسوری آنرمیڈل فار ڈسٹنگوش سروس2013 سے نوازا گیا، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
اپنے گھر میں آئے آئے ون فون کے ذریعے اپنی صحافتی اسٹوریز کیلئے لوگوں سے رابطے میں مصروف ہیں، ساٹھ سال کی عمر کے باوجود وہ انتہائی سرگرم صحافی ہیں۔
آئے آئے ون “میرے والد کو 1965ءمیںیو نے ون کے اقتدار میں آنے کے بعد قید کی سزا سنائی گئی تھی، وہ ہم بہن بھائیوں کو خط لکھ کر ہدایت کرتے تھے کہ تعلیمی میدان میں محنت کرو، انھوں نے مجھے کہا تھا کہ ہمیشہ صحت مند رہنا”۔
ان کے والد سین وین ایک معروف صحافی تھے، جو برما میں پریس کی آزادی کیلئے سرگرم تھے، ان کی ہی جاپانی طالبعلموں کی کہانی سے متاثر ہوکر آئے آئے ون اسکول میں پوری لگن سے تعلیم حاصل کی۔
آئے آئے ون “میرے والد کہتے تھے کہ جاپانی بچے اپنے اسکول کا سبق رات گئے تک یاد کرتے تھے، کیونکہ وہ اپنے ملک کو دیگر ممالک کے برابر لانا چاہتے تھے، مجھے یہ خیال بہت پسند آیا، یہی وجہ ہے کہ میں اپنی استعداد سے دوگنا زیادہ محنت کی”۔
انکے والد کو تین بار جیل جانا پڑا، جبکہ انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت بھی نہیں تھی، تاہم صحافت آئے آئے ون کے خون میں شامل ہے۔
آئے آئے ون “میں اس وقت کافی چھوٹی تھی جب میں نے جنوبی ایران کی شکت اور مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کے بارے میں پڑھا، میں مختلف مضامین کاٹ کر اپنے پاس محفوظ کرلیتی تھی، مجھے بچپن سے ہی سیاست میں دلچسپی ہے، اور میں ہمیشہ سے اپنے والد جیسا ہی بننا چاہتی تھی”۔
شروع میں تو ان کے والد نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔
آئے آئے ون “میرے والد نے اجازت نہیں دی کیونکہ یہ بہت خطرناک کام ہے، مگر جب انھوں نے مجھے اپنے ساتھ کام کرنے کا کہا، تو میں نے ان کیلئے نیوز اسٹوریز لکھیں، اس طرح مجھے صحافتی میدان میں قدم رکھنے کیلئے والد کی اجازت لینے میں دس برس لگے”۔
آئے آئے ون نے برما کے اندر امریکی خبررساں ادارے کے نمائندے کی حیثیت سے کام شروع کیا، اور بیس برس سے زائد عرصے تک برما میں پیش آنیوالے واقعات کی رپورٹنگ کی، جن میں 2007ءمیں بھکشوﺅں کا احتجاج، 2008ءکا نرگس طوفان اور 2011ءمیں سویلین حکومت کا قیام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ وہ غیرملکی نیوز ایجنسی سے تعلق کے باعث حکومتی واچ لسٹ میں بھی شامل رہ چکی ہیں۔
آئے آئے ون “ہمیں مضامین شائع ہونے کے بعد فوجی انٹیلی جنس سے دھمکیاں ملتی تھیں، مگر میں صرف صحافتی اصولوں پر عمل کرتی تھی، میں لکھنے کے بعد نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہتی تھی، میرے شوہر مجھ سے اکثر پوچھتے تھے کہ گرفتاری کے بعد میں کیا کھانا پسند کروں گی”۔
2007ءمیں انھوں نے فوجی حکومت کیخلاف بھکشوﺅں کے احتجاج کی کوریج کی، جس کے دوران انہیں فوجیوں کی فائرنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی میں انہیں امریکہ کے میسوری اسکول آف جر نلزم کی جانب سے صحافتی خدمات پر اعزاز سے بھی نواز گیا۔
آئے آئے ون “جمہوری حکومت بھی میڈیا کی نگرانی کو پسند نہیں کرتی، مگر میڈیا اور حکومت ملکر عوام کیلئے کافی کچھ اچھا کرسکتے ہیں، جب میڈیا کرپشن کے بارے میں لکھتا ہے تو حکومت کو اپنی غلطیاں سدھارنے کا موقع ملتاہے”۔
30 تیس سالہ نئین نئین نائنگ ایک برمی اخبار سیون ڈے نیوزکی ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں، ان کیلئے آئے آئے ون ایک قابل تقلید شخصیت ہیں۔
نئین نئین نائنگ “تمام سنیئر صحافیوں کے مقابلے میں ان کے سوالات زیادہ تندو تیز ہوتے ہیں، ان کا انداز مختلف ہے اور وہ اسمارٹ سوالات پوچھتی ہیں۔ میں سوالات پوچھنے کیلئے ان کی زبان سے بہت متاثر ہوں، وہ نوجوان خواتین صحافیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ مرد صحافیوں کیلئے بھی رول ماڈل ہیں”۔
اب آئے آئے ون اپنے والد کے کام کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔
آئے آئے ون”میں ایسا کچھ کرنا چاہتی ہوں جو میرے والد کا مشن تھا، یعنی صحافتی آزادی اور پریس کونسل کا قیام، میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ میرے والد کا مشن اگلی نسل بھی آگے بڑھائے”۔