کہا جاتا ہے کہ کتاب کا سرورق دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ نہ کریں، مگر اس اصول کا نیپالی پولیس پر اطلاق نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ وہ لمبے بالوں اور ٹیٹوز وغیرہ پر گزشتہ دنوں ایک ہزار سے زائد افراد پکڑ لئے گئے۔
ایوریسٹ ایرِش پب کھٹمنڈو کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہے، یہاں اَشیش ڈونگل گیتار بجانے اور گانا گانے میں مصروف ہیں، ان کے بال بہت لمبے ہیں، جبکہ دونوں کانوں میں بالیاں پڑی ہیں۔
اَشیش ڈونگل “ میرے والد اور ماں ہمیشہ مجھ سے کہتے ہیں، آخر تم اپنے بال کیوں نہیں کٹواتے؟ یہ بہت لمبے ہیں اور بہت برے لگتے ہیں، جب میں اسکول میں تھا تو مجھے بال نہ کٹوانے پر کلاس سے باہر پھینک دیا گیا تھا، مگر مجھے لمبے بالوں سے محبت ہے، مجھے اپنے کانوں کی بالیاں بھی بہت پسند ہیں، اکثر موسیقاروں کے بال لمبتے ہیں اور یہ ہمارا حق ہے۔ یہی ہماری آزادی ہے”۔
تاہم اپنے حلیے کے باعث وہ مشکل میں پھنس چکے ہیں۔
اَشیش ڈونگل “ جب میں باہر نکلتا ہوں تو ہمیشہ ٹوپی پہن کر ہی جاتا ہوں، کیونکہ میں پولیس کی حراست میں جانا نہیں چاہتا۔ وہ میرے بال کاٹ دیں گے، تو یہ میرے لئے کافی مشکل صورتحال ہے، جیسا آپ کو معلوم ہے کہ مجھے لمبے بال پسند ہیں اور اسی وجہ سے مجھے پولیس پکڑ سکتی ہے۔ ایک بار میں ان کی حراست میں جاچکا ہوں، اس وقت انھوں نے مجھے سے کاغذات پر دستخط کرائے اور کہا کہ تمہارے بال بہت لمبے ہیں، تم جیسے لوگوں کا رویہ عام افراد سے مختلف ہوتا ہے، اسی وجہ سے تمہیں حراست میں لیا گیا ہے”۔
اَشیش ڈونگل کے ساتھ ساتھ لبمے بالوں، بالیاں اور ٹیٹوز والے سینکڑوں دیگر نوجوانوں کو بھی پکڑا گیا تھا۔
کھٹمنڈو کے پولیس سربراہ ،رانا بہادُر چاند اس مہم کے روح رواں ہیں، انکا کہنا ہے کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے یہ مہم لازمی ہے۔
رانا” جرائم پر ہماری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر جرم کرنے والے 15 سے 22 سال کی عمر کے نوجوان ہوتے ہیں، اور انکا حلیہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان مشتبہ نوجوانوں کو پولیس دفتر لیکر آئے، ہم نے انکے
والدین کو طلب کیا اور ان سے سیکیورٹی مشاورت کی۔ ہم نے نوجوانوں کو سمجھایا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے روئیے کا اظہار نہ کریں”۔
تو کیا اس کا مطلب ہے کہ بالیاں، ٹیٹوز یا لمبے بال سیکیورٹی رسک ہیں؟
رانا” آپ لمبے بال رکھ سکتے ہیں، آپ بالیاں بھی پہن سکتے ہیں، تاہم ہر معاشرے کی اپنی اقدار اور روایات ہوتی ہیں، آپ کو ان پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ ہم آزادی کی بات تو کرتے ہیں، تاہم کسی کو ہماری ثقافت کو تباہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ ہم ایک قابل برداشت معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں اور پولیس کا ردعمل اس مقصد کیلئے ہے۔ ہمارے اوپر والدین کا دباﺅ بھی ہے، تاہم ہمارے اقدامات قانون کے دائرے میں ہوتے ہیں”۔
جب سے اس مہم کا آغاز ہوا ہے، پولیس نے بارہ سو افراد کو ڈریکونیئن پبلک آفنس ایکٹ کے تحت پکڑا ہے، جس کے تحت اسے بغیر الزامات کے ہی لوگوں کو پچیس روز تک قید میں رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ قانون 70ءکی دہائی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ٹنکا آریال نیپالی سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔
ٹنکا آریال” یہ نیپالی پولیس کا ظالمانہ اور غیرمنصفانہ آپریشن ہے۔ یہ بالکل بھی قابل برداشت نہیں”۔
انکا کہنا ہے کہ حالیہ پولیس مہم سے عوام کے آئینی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
ٹنکا آریال” لوگوں کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی اس وقت تک حاصل ہے، جب تک میری وجہ سے کسی اور کے حقوق متاثر نہ ہو۔ مجھے لمبے بالوں یا بالیاں پہننے وغیرہ سے لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی نظر نہیں آرہی، میرے کیال میں ہمیں اس معاملے کو اتنا نہیں اچھالنا چاہئے، اگر آپ کسی چھوٹے قد کے شخص کو جرم کرتا ہو دیکھیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگلے روز تمام چھوٹی قامت کے افراد کو مجرم قرار دیکر پکڑنا شروع کردیں”۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ والدین اور ایسے ہی دیگر رشتے داروں کی تجویز پر شروع کی گئی ہے، تاہم ٹنکا آریالاس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
ٹنکا آریال” ہوسکتا ہے کہ والدین چاہتے ہوں کہ ان کے بچے صاف ستھرے کلین شیو یا چھوٹے بال رکھتے ہوں، مگر معاشرہ اب آگے بڑھ چکا ہے اور نوجوانوں کی پسند ماضی کے مقابلے میں مختلف ہے۔ اس مہم میں ہمیں لوگوں کی پسند کا احترام کرنا ہوگا اور لوگوں کے اظہار رائے کی آزادی کے حق کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم ان پر پرانی روایات تھوپ نہیں سکتے”۔
اس مہم کے خلاف احتجاج کیلئے کھٹمنڈو پولیس آفس کے سامنے ایک میوزک کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا، متعدد معروف نیپالی گلوکاروں نے اس احتجاجی ہجوم میں شرکت کی، اور یہ احتجاج ایک دستخطی مہم کے ساتھ ختم ہوا، جس میں پولیس پر اس طرح کے کریک ڈاﺅن مستقبل میں نہ کرنے پر زور دیا گیا۔
ایک گروپ نے فیس بک پیج ،ٹو گیدر اگینسٹ پُو لیس ایٹروسِٹی تشکیل دیا ہے، جبکہ نوجوان وکلاءنے پولیس کیخلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔ آئرش پب میں موجود آشیش کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے لمبے بالوں کی ایک تصویر ٹیوئیٹر کے ذریعے وزیراعظم کو بھیج دی ہے۔
ٹنکا آریال” آپ لمبے بالوں والے، بالیاں اور ٹیٹو لگائے ڈاکٹرز، انجنئیرز اور پائلٹس کو دیکھتے رہتے ہیں، ہم اس وقت 21 ویں صدی میں رہ رہے ہیں اور پولیس اب تک 70ءکی دہائی میں زندہ ہے۔ میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ پولیس محکمے میں اصلاحات ہونی چاہئے، ہم پولیس کے محکمے میں کھلے ذہن کے افراد چاہتے ہیں۔