Nepalese Cloud Workers – نیپالی کلاوئڈ فیکٹری

نیپال کی بیس فیصد آبادی بیروزگار ہے ،وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ملکی بیروزگاری کی شرح میں اضافہ تشویشناک ہے، تاہم ایک نجی ادارہ نیپال میں ملازمتیں فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ بن گیا ہے، جس نے رواں سال کے اختتام تک پانچ ہزار افراد کو آن لائن بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کلاوئڈ فیکٹری نامی کمپنی کا دفتر کھٹمنڈو کے نواح میں ہے، اس کمپنی کے تین منزلہ دفتر کی ہر منزل پر ایک بڑا کمرہ موجود ہے، جن میں سینکڑوں کمپیوٹرز موجود ہیں۔ایک کمرے میں سو نوجوان کی بورڈز پر کام کررہے ہیں، تاہم کاوئڈفیکٹری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک سیار کا کہنا ہے کہ بارہ سو دیگر افراد آن لائن ہمارے لئے کام کررہے ہیں۔

مارک”یہ فیکٹری بادلوں پر واقع ہے، یہاں کلاوئڈ کمپیوٹنگ کا کام ہوتا ہے، یہاں کلاوئڈ سٹوریج ہے، یہاں تک کہ ہمارے کارکن بھی بادلوں کی طرح آزاد ہیں، وہ جہاں چاہے کام کرنے کے لئے آزاد ہیں،ان کارکنوں کو دنیا بھر میں اپنا کمپیوٹر ورک فروخت کرنے کا موقع میسر ہے”۔

کلاوئڈ فیکٹری دنیا بھر میں ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہے، مارک کو اس کاروبار کا خیال پانچ برس قبل نیپال کے نوجوان سافٹ ویئر ڈویلپرز سے ملاقات کے دوران آیا۔

مارک”یہ نوجوان ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر تعلیم یافتہ ہیں، یہ انگریزی بول اور لکھ سکتے ہیں، انہیں کمپیوٹر استعمال کرنا آتا ہے، یہ انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر سے منسلک ہیں، یہ لوگ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں، تاہم ان کی سب صلاحیتیں رائیگاں جارہی ہیں، کیونکہ ملک کو چلانے کے لئے بہت زیادہ امداد کی ضرورت ہے، مگر میرے خیال میں سب سے اہم چیز ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہے”۔

پارافل شکیا بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کررہے ہیں، اس کے کمرے کی دیواریں مختلف پاپ گلوکاروں کی پوسٹرز سے بھری ہے، اس نے پانچ ماہ قبل مالی خودمختاری کیلئے کلاوئڈ میں شمولیت اختیار کی۔

شکیا”ایک نوجوان کی حیثیت سے میں اپنی زندگی پوری آزادی اور مزے سے گزارنا چاہتا ہوں، میں اپنے دوستوں کے ساتھ نت نئے مقامات پر جانا چاہتا ہوں، میری عمر بیس سال ہے اور مجھے اپنے اخراجات کیلئے والدین پر انحصار کرنا پڑتا ہے، مجھے یہ اچھا نہیں لگتا، میں نے اپنی ماں کتابیں اور کپڑے وغیرہ کیلئے رقم مانگی تو انھوں نے انکار کردیا، یہ میرے لئے بہت برا تجربہ تھا، مجھے معلوم ہے کہ میری ماں مجھے کپڑوں کے لئے پیسے نہیں دے گی، کیونکہ میں نے گزشتہ ماہ ہی جینز کی دو پتلونیں خریدی تھیں”۔

پارافل اب کافی رقم کما کر مزے کررہا ہے، وہ اس وقت کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا ہوا کمپنی کی ویب سائٹ پر لاگ ان ہورہا ہے، اسکرین کی ایک طرف ایک گراف میں لکھا آرہا ہے کہ آج کیا کچھ کرنا ہے۔

پارافل”ہمارے پاس پہلا ٹاسک مکمل کرنے کے لئے ایک منٹ اور 50 سیکنڈ باقی ہیں، یہ ایک اعدادوشمار کا ٹاسک ہے، 27 اگر سال ہے تو ہمیں یہاں نشان لگانا ہوگا جیسا یہ اوپر لگا ہوا ہے۔ یہ نام اننا ہے، جبکہ M اس کا تصدیق کنندہ ہے تو آپ کو ایم ٹائپ کرکے ویب سائٹ پر انٹر کردینا ہے”۔

پارافل صرف دس سیکنڈ میں اپنا کام مکمل کرنے پر خوش ہے، اس کے ساتھ ایک نیپالی روپیہ اس کے بینک اکاﺅنٹ میں جمع ہوگیا۔

پارافل جو جملے ہمیں دیئے جاتے ہیں، ہمیں یہ جملے سن کر ٹائپ کرنا ہوتا ہے، یہ ایک کام ہے، اس کے علاوہ ہمیں رسیدیں دی جاتی ہیں، اعداد و شمار اور بزنس کارڈ وغیرہ بھی کام کے لئے دیئے جاتے ہیں، گھر رہ کر پیسے کمانے کا موقع ملے تو پھر ہمیں کس چیز کی فکر کرنی چاہئے؟

بیس سالہ روجی لاواتی نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کررکھی ہے، تاہم وہ گزشتہ دو برس سے ملازمت کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہیں۔

روجی”مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ نیپال میں اب ملازمت ڈھونڈنا آسان نہیں، یہاں ہمیں اس وقت تک اہمیت نہیں جاتی جب تک انتظامیہ میں کوئی آپ کا جاننے والا نہ ہو یا آپ بہت زیادہ باصلاحیت نہ ہو”۔

روجی لاواتی نے بھی اب کلاوئڈ فیکٹری کیلئے کام شروع کردیا ہے، جبکہ وہ ایک ریستوران میں بھی کام کررہی ہے۔روجی نے آن لائن کام کرکے کئی پیشہ وارانہ چیزیں سیکھی ہیں۔

روجی”میری ٹائپنگ اسپیڈ بڑھ گئی ہے، یہاں آپ کو ہفتہ وار میٹنگ میں شامل ہونا ہوتا ہے، اس سے آپ کو دیگر افراد کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اور ہم ایک دوسرے کی زندگی اور ناکامیوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ ہم ہر ہفتے کمپنی کے اصولوں کے مطابق ایکشن پلان تیار کرتے ہیں اور ان کا اطلاق اپنی زندگیوں پر بھی کرتے ہیں”۔

روجی اس فیکٹری کیلئے کام کرکے ماہانہ دو سو ڈالر کمارہی ہیں، نیپال میں یہ کسی نجی ادارے میں کام کے آغاز کے لحاظ سے بہت اچھی تنخواہ ہے۔ مارک سیارس ا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو بھی کلائڈکے ماڈل کو اپنانا چاہئے۔

مارک”ہم نے اگلے پانچ سال کیلئے اپنے اہداف طے کرلئے ہیں، جس کے تحت ہم ترقی پذیر ممالک کے دس لاکھ افراد کو مستحکم بنیادوں پر کمپیوٹر کے حوالے سے کام سے جوڑنا چاہتے ہیں، ہمیں توقع ہے کہ آئندہ پانچ برس میں نیپال سے ایسے افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگے کہ دس لاکھ افراد کو ایک جگہ جمع کرنا دیوانہ پن اور ناممکن ہے، مگر ہمارا مانناہے کہ یہ دس لاکھ بھی کوئی زیادہ تعداد نہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے صارفین ہمارے کام سے خوش ہیں، حالانکہ ابھی ہمارا کام ابتدائی سطح پر ہے، ہمارا ماننا ہے کہ اس کام کی مانگ میں اتنا اضافہ ممکن ہے کہ دس لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا جاسکے”۔

حال ہی میں کلاوئڈنے نیپال کے ایک اور شہر میں اپنا نیا دفتر کھولا ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برس میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے گی۔
اب واپس پارافل کے گھر یا دفتر کی جانب آتے ہیں، اب وہ مالی خودمختاری ملنے پر کافی خوش ہے۔

پارافل”جی ہاں میں نے اپنے پیسوں سے ایک موبائل فون لیا ہے، یہ میرا سب سے بہترین تجربہ تھا، کیونکہ اس سے پہلے میں موبائل خریدنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ایسی متعدد اشیاءہیں جنھیں میں کام کرکے خریدنا چاہتا ہوں، جیسے گیتار کا اسٹینڈ، کچھ کپڑے اور مہنگے ترین موبائل وغیرہ۔ اب میرا ارادہ ہے کہ آئندہ میں گبسن گٹارخریدو،اس کی قیمت شاید پانچ سو ڈالر ہے اس لئے کچھ وقت تو لگے گا مگر مجھے یقین ہے کہ میں اسے خرید لوں گا”۔