ٍ
اقوام متحدہ نے حال ہی میں زیادہ سے زیادہ بیت الخلاءتعمیر کرنے پر نیپال کو سراہا ہے، حالانکہ 1980ءمیں اس جنوبی ایشیائی ملک میں اس کی صرف تین فیصد آبادی کو بیت الخلاءکی سہولت دستیاب تھی۔ تاہم 2011ءسے نیپال میں اس حوالے سے ایک زبردست مہم چلائی جارہی ہے۔
ساٹھ سالہ ہرا بادُھر سُنار ایک گاﺅں سکھار پورکے رہائشی ہیں، یہ گاﺅں دارالحکومت کھٹمنڈو سے ایک سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ انہیں زبردستی ایک بیت الخلاءتعمیر کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
ہرا بادُھر سُنار” گاﺅں کے سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اگر میں نے ٹوائلٹ تعمیر نہ کیا تو مجھے گرفتار کرلیا جائے گا۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ میں اس کا بوجھ اٹھا سکتا ہوں یا نہیں”۔
ہرا بادُھر سُنارایک کچے گھر میں اپنی بیوی کالیکہ کے ساتھ رہتے ہیں۔
کالیکہ” دو ماہ قبل ہمارے گاﺅں میں ایک اجلاس ہوا، جس میں گاﺅں کے سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ ہر خاندان کو کم از کم ایک ٹوائلٹ تعمیر کرنا ہوگا۔ میرا بیٹا دوسرے قصبے میں رہتا ہے اور اسے ہماری کوئی پروا نہیں۔ ہمارے لئے ٹوائلٹ کی تعمیر کرانا مشکل تھا کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے”۔
اس گاﺅں میں چھ سو خاندان مقیم ہیں، مگر ایک تہائی سے کم افراد کو اپنے گھروں میں بیت الخلاءکی سہولت دستیاب ہے، اور پھر پولیس وہاں پہنچ گئی۔
کالیکہ”پولیس اہلکاروں نے کہا کہ آخر تمہارے گھر میں ٹوائلٹ کیوں نہیں؟ میں نے انہیں اپنے مسائل بتائے اور کہا کہ ہم اسے تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر بیت الخلاءجلد تعمیر نہ ہوا تو وہ ہمیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیں گے”۔
نیپال 2017ءتک کھلے عام رفع حاجت کی عادت ختم کرنے کے لئے پرعزم ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں دو سال پہلے ایک ملک گیر مہم شروع کی گئی، اور اب تک چھ سو دیہات کو اس بری عادت سے پاک قرار دیا جاچکا ہے،اور اب سکھار پور گاﺅں کی باری ہے۔
مقامی حکام اس مہم کو بہت سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں، ہومناتھ دَہال، گاﺅں کی ترقیاتی کمیٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہومناتھ دَہال” ہم نے انہیں کہا ہے کہ اگر انھوں نے بیت الخلاءتعمیر نہ کیا تو ہم انہیں زمین فروخت کرنے کی اجازت دینے یا شناختی کارڈ اور پاسپورٹس وغیرہ کیلئے ریفرنس فراہم نہیں کریں گے۔ ہم نے پولیس اس مہم کیلئے مدد کی درخواست کی ہے، پولیس کی جانب سے گاﺅں کے دوروں کے بعد اب تک یہاں سو سے زائد ٹوائلٹس تعمیر ہوچکے ہیں”۔
گرفتاری کے ڈر کی وجہ سے بہت سے افراد نے ادھار رقم لیکر بیت الخلاءتعمیر کیا۔
“میں نے اپنے پڑوسی سے دو سو ڈالرز ادھارلئے، اس رقم کی ادائیگی کیلئے مجھے اپنی زمین کا کچھ حصہ فروخت کرنا پڑا، میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا”۔
سِتالادیوی نامی اسکول میں اساتذہ طالبعلموں سے پوچھ رہے ہیں کہ ان میں سے کس کے گھر میں بیت الخلاءموجود ہے، جس پر وہاں موجود تمام بچوں نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔ ہیلتھ ٹیچر رامیش چاپائیگی کا کہنا ہے کہ ہمارا اسکول حکومتی مہم میں مدد کرنے کا خواہشمند ہے۔
رامیش چاپائیگی” اسکول کی اسمبلی کے دوران ہم ان بچوں کی علیحدہ قطار بناتے ہیں جن کے گھروں میں ٹوائلٹ موجود ہے، ہم تالیاں بجا کر انکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اس سے دیگر بچے متاثر ہوتے ہیں اور وہ اپنے والدین کو بیت الخلاءکی تعمیر کیلئے مجبور کرتے ہیں”۔
اب اسکول نے ایک اور قدم بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
رامیش چاپائیگی” فائنل امتحانات میں ان طالبعلموں کو اچھے نمبر دیئے جائیں گے جن کے گھروں میں بیت الخلاءہوگا اور وہ اسے استعمال کرتے ہوں گے، تاہم ان بچوں کو اوسط نمبرز دیئے جائیں گے جن کے گھر میں ٹوائلٹ بھی ہو اور وہ اسے استعمال نہ کرتے ہوں، یا جن بچوں کے گھروں میں سرے سے بیت الخلاءہی موجود نہ ہوگا انہیں کوئی نمبر نہیں دیا جائے گا”۔
مقامی این جی اوز کی مدد سے غریب خاندان اپنے گھروں میں بیت الخلاءتعمیر کررہے ہیں۔ سُشِیل گوتم ایک این جی او سیوک نیپال سے تعلق رکھتے ہیں۔
سُشِیل گوتم” حال ہی میں ایک گاﺅں کو رفع حاجت کی عادت سے پاک قرار دیا گیا، وہاں کے پندرہ غریب خاندان بیت الخلاءتعمیر کرانے کی سکت نہیں رکھتے تھے، ہم نے انہیں شروع میں ساٹھ ڈالرز دیئے، اگرچہ ٹوائلٹ کی تعمیر کیلئے انہیں 125 ڈالرز مزید خرچ کرنا پڑے، مگر کم از کم انہیں اس مقصد کیلئے مدد تو فراہم کی گئی”۔
کچھ این جی اوز ان غریب خاندانوں کو سیمنٹ، پلاسٹک کے پائپس اور دیگر اشیاءفراہم کرتے ہیں، تاہم پچاس سالہ مَدَن تامنگ تاحال مدد کے منتظر ہیں۔
دَن تامنگ” میرے پاس اپنے خاندان کو کھلانے کیلئے پیسے نہیں، آخر میں ٹوائلٹ کیسے تعمیر کروں؟ میری اہلیہ بیمار ہے اور حال ہی میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ میں اپنی تمام آمدنی اپنی بیوی پر خرچ کردیتا ہوں، جس کے بعد میرے پاس پیسے ہی نہیں بچتے”۔
ایک دوسرے گاﺅں میں لوگ رقص کرنے اور نعرے لگارہے ہیں، کیونکہ انہیں رفع حاجت سے پاک گاﺅں قرار دیدیا گیا ہے، تاہم اب بھی ہزاروں افراد کو ٹوائلٹس کی ضرورت ہے۔