ہوسکتا ہے کہ سننے میں عجیب لگے مگر جکارتہ میں اکیلے ڈرائیونگ کافی پریشان کردینے والا کام ہوتا ہے، ایک برادری اس چیز کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
رپورٹر”میں اب مشرقی جکارتہ کے علاقے پٹری سے پرامکا اسٹریٹ تک لفٹ چاہتی ہوں، یہاں گاڑیوں پر لوگ اسی سمت پر جارہے ہیں، جبکہ میلیسامجھ سے بھی دور جانا چاہتی ہے، و ہ پولو گڈونگ جانا چاہتی ہے”۔
گاڑی میں موجود لوگوں کی ملاقات پہلی بار ہوئی ہے، تاہم وہ آن لائن پہلے بھی مل چکے ہیں کیونکہ یہ سب نیبینگرز برادری کے اراکین ہیں،نیبینگرز انڈونیشین لفظ ہے جس کا مطلب ہے مفت سیر کرانا، یہ ٹیوئیٹر کی ایک برادری ہے جس کا مقصد گاڑیوں کے مالکان کو اپنی اضافی سیٹیں مسافروں کو فراہم کرنے کیلئے تیار کرنا ہے، اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔دو سال قبل قائم ہونے والی اس برادری کے اب دو ہزار سے زائد متحرک اراکین ہیں، 26 سالہ آندریاس ادیتیہ سواسٹی اس کے بانی ہیں۔
سواسٹی”لوگ سوچتے ہیں کہ آخر ہم اپنی سواری کو شیئر کیوں کریں؟ میں ٹیکسی لے سکتا ہوں یا اپنی گاڑی وغیرہ ڈرائیور کرسکتا ہے، یہ ہمارے معاشرے کا خیال ہے کہ کسی دوسرے سے لفٹ لینا غربت کی نشانی ہوتی ہے یا انہیں مفت خور سمجھا جاتا ہے۔ مگرنیبینگر میں ہم نے ہر سواری کیلئے شرائط و ضوابط طے کررکھی ہے، لوگ ہمارے طے کردہ معیار کے مطابق گاڑیوں کو شیئر کرتے ہیں، ہمارے خیال میں سفر کے دوران سب کی حیثیت مساویٰ ہوتی ہے”۔
ان شرائط و ضوابط میں مشروبات یا کھانے پینے چیزوں کا تبادلہ بھی شامل ہے، اور ان شرائط کو کسی گاڑی پر سوار ہونے سے قبل ماننا ضروری ہے۔
آدتیہ”ہماری برادری تعاون اور شراکت کاری پر زور دیتی ہے، یہ ہر شخص کے فائدہ کا تعلق ہوتا ہے، چاہے آپ مسافر ہوں یا گاڑی چلانے والے”۔
نیبینگرز کے ساتھ ہر شخص گاڑیاں، موٹرسائیکلیں اور ٹیکسی وغیرہ شیئر کرسکتے ہیں، گما کوئیٹو ریےانتوری روزانہ اپنی موٹرسائیکل کی خالی سیٹ پر کسی کو بٹھانے کی پیشکش کرتا ہے۔
ریانٹوری”میں اپنی موٹرسائیکل متعدد افراد کے ساتھ شیئر کرچکا ہوں، کئی بار وہ میرے ساتھ اپنا ناشتہ، کولڈ ڈرنکس یا دیگر کھانے پینے کی چیزیں شیئر کرتے ہیں، میں اس سے بہت زیادہ خوشی محسوس کرتا ہوں، ایک دفعہ صبح ساڑھے چھ بجے میں نے اپنی موٹرسائیکل میں ایک خاتون کو لفٹ دی، جس نے مجھے ناشتہ دیا، حالانکہ میرا خیال ہے وہ اس نے اپنے لئے تیار کیا تھا، مگر کئی بار برے تجربات بھی ہوتے ہیں، یعنی جس شخص کو لفٹ دینا ہو وہ اس وقت پر نہ پہنچے جس پر ہم دونوں کے درمیان اتفاق ہوا ہوتا ہے”۔
تیئیس سالہ ریفی فیبریا ن بھی اس برادری کی رکن ہیں۔
ریفی”پہلی بار مجھے کسی مشکل ہوئی، مگر میرے دوستوں کو اندازہ نہیں کہ کسی سواری کو شیئر کرنا کتنا پرلطف کام ہے۔ یہ مختلف پس منظر اور شخصیات کے مالک نئے دوستوں سے ملاقات کا نیا طریقہ ہے۔ اس سے ہمیں زیادہ لوگوں کو جاننے کا موقع ملتا ہے، ہم سواری کے ساتھ ساتھ علم بھی ایک دوسرے کیساتھ شیئر کرتے ہیں”۔
جکارتہ بھر میں تیس لاکھ گاڑیاں اور ایک کروڑ موٹرسائیکلیں روزانہ سڑکوں پر دوڑتی ہیں،سڑکوں پر گنجائش ختم ہوجانے کی وجہ سے جکارتہ میں آئندہ برس سے ٹریفک جام کا مسئلہ انتہائی سنگین ہوجانے کا خدشہ ہے۔ اب نیبینگربرادری اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے اپنے اراکین کیساتھ کوشش کررہی ہے۔ وہ ٹریفک جام کو کم کرنے کیلئے لوگوں کو گروپس کی شکل میں اکھٹے سفر کرنے کی ترغیب دیتی ہے، تاکہ سڑکوں پر کم گاڑیاں نکلیں، تیس سالہ پٹری سینٹانو،نیبینگرزکی بانیوں میں سے ایک ہیں۔
پٹری”ہم ایک برادری بنانا چاہتے تھے اور ہم جکارتہ کو عوام کیلئے زیادہ اچھا مقام بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ کام گاڑیاں شیئر کرنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، ہم اپنی برادری میں توسیع چاہتے ہیں اور لوگوں کو انکی منزل تک پہنچانے کیلئے تسلی بخش طریقے سے مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جکارتہ کے شہری ایک دوسرے کو جانے، اگر آپ سیکیورٹی کے بارے میں فکرمند ہیں، تو اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ ہمارے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں جانتے، تو ہم نہ صرف ٹریفک نظام بہتر بنانے کی کوشش کرہے ہیں، بلکہ لوگوں کی ایک نئی سماجی زندگی بنانے کی بھی کوشش کررہے ہیں”۔
اس وقت نیبینگرزکے اراکین کا تحفط یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اب اس برادری نے اپی موبائل اپلیکشن بھی تیار کرلی ہے۔پٹری”مقامات کے نقشے والی اس اپلیکشن کے ذریعے ہم اپنے گھر یا دفتر کے قریب کسی کو آرام سے ڈھونڈ سکیں گے، جو ہمارے ساتھ اپنی سواری شیئر کرسکے، یہ زیادہ موثر طریقہ ہے اور ہمیں ٹیوئیٹر یا دیگر ذرائع پر محنت نہیں کرنا پڑے گی۔
تاہم اب بھی متعدد افراد اجنبیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھانا زیادہ پسند نہیں کرتے، جبکہ پٹری کا بھی کہنا ہے کہ لفٹ دینے کے حوالے سے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی، تاہم ایک دوسرے کے بارے میں مثبت سوچ رکھنا زیادہ بہتر ہے۔
پٹری”کئی سوال یکساں سوالات کرتے ہیں، کہ یہ سروس کس طرح کام کرتی ہے، آخر ہم کسی پر اعتماد کرسکتے ہیں، اور کیا یہ محفوظ ہے یا نہیں؟ شکوک و شبہات فطری امر ہے، اور اکثر افراد کو لگتا ہے کہ جکارتہ کی گلیاں محفوظ نہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری برادری میں شامل لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے جارہے ہیں۔اور جب ایک بار ایسا ہوجائے گا تو تمام شبہات غائب ہوجائیں گے”۔