برمی نوجوانوں کیلئے ملازمتیں تلاش کرنا کافی مشکل ہوتا جارہا ہے، سیاسی و اقتصادی اصلاحات کے باوجود نوجوانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
موئی ذا نے آٹھ سال قبل گریجویشن کی تھی، اس کے بعد سے وہ رنگون کی سڑکوں پر سبزیاں بیچ کر اپنی گزربسر کررہے ہیں۔
موئی ذی”میں نے بزنس منیجمنٹ میں ڈگری حاصل کی ہے، مجھے کئی ملازمتیں مل سکتی تھیں ،مگر مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ گریجویشن ڈگری کافی نہیں، مجھے مزید تیکنیکی کوالیفیکشن کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ میں سبزی فروش بن گیا”۔
مو ئی ذی کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد کمپنیوں میں درخواستیں دیں مگر وہ سب کی سب مسترد ہوگئیں۔وہ اس طرح نہیں رہنا چاہتے اور دوبارہ یونیورسٹی کا رخ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
موئی ذی”چیزیں فروخت کرنا کچھ وقت کیلئے تو ٹھیک ہے مگر بہتر مستقبل کیلئے زیادہ اچھا کام نہیں۔ ایسا کرنے پر ہمارا مستقبل بھی جدوجہد کرتے ہوئے ہی گزرے گا”۔
نیارنے بھی گریجویشن کررکھی ہے اور سول سروس میں کام کے دوران کم تنخواہ ملنے پر انھوں نے اسکوٹر ٹیکسی ڈرائیور بننے کا فیصلہ کیا۔ ان کے خیال میں اعلیٰ تعلیم پرانکا وقت ضائع ہوا ہے۔
نیار”مجھ جیسے گریجویشن ورکرز کی آغاز میں تنخواہ صرف اسی ڈالرز کے قریب ہوتی ہے، جوکہ ہمارے اخراجات کیلئے ناکافی ہوتی ہے، میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتا تھا مگر تنخواہ میں اضافہ تبدریج ہوتا ہے”۔
کمزور تعلیمی نظام اور ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے سے متعدد گریجویٹ نوجوان مشکلات کا شکار ہیں،رواں برس جنوری میں برما کے پہلے آمدنی و ملازمت کے اوپر ہونے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 37 فیصد افراد بیروزگار ہیں، اگرچہ حکومت نے سیاسی و اقتصادی کافی اصلاحات کی ہیں مگر نوجوانوں کی صورتحال میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔اونگ میو ون اور ان کے دوستوں نے گریجویشن کررکھی ہے مگر وہ کئی ماہ سے بیروزگار ہیں۔
اونگ”ہم اب تک کوئی کام ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، کیونکہ یہاں بہت زیادہ نوجوان ملازمت ڈھونڈ رہے ہیں۔ گارمنٹ فیکٹریاں ملازمتوں کی پیشکش تو کررہی ہیں مگر وہ صرف ہنرمند خواتین کو ہی منتخب کررہی ہیں، جو سلائی مشینیں چلانا جانتی ہیں، جبکہ ہم مرد ایسا نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی انگریزی، جاپانی، چینی یا کورین زبان جانتا ہو تو اسے بھی ملازمت مل جاتی ہے، مگر ہمارے لئے دفتری ملازمتیں ڈھونڈنا مشکل ہوگیا ہے”۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان گریجویٹ نوجوانوں کو ملازمت کے حصول کیلئے ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنی چاہئے،تھین سوئی ،اوپر چونیٹی جنرل کے ایڈیٹر ہیں۔
تھین سوئی”اصل مسئلہ تعلیمی قابلیت کا نہیں بلکہ ہنرمند نہ ہونے کا ہے، مثال کے طور پر کمپیوٹر چلانے والے گرافک لے آﺅٹ کیلئے درخواست بھیج دیں مگر اس کام کو کرنہ سکیں۔ تو اگر وہ ہنرمند نہیں ہوں گے تو انہیں ملازمتیں کیسے مل سکتی ہیں؟”
زوی ین نینگ برمی یوتھ یونین کے صدر ہیں، انھوں نے پارلیمنٹ سے اس صورتحال کے تدارک کا مطالبہ کیا ہے۔
زوی ین نینگ”ملک میں سرمایہ کاروں کی آمد کے بعد سرمایہ کاری کمیشن کو چاہئے کہ ان پر زور دے کہ وہ مقامی نوجوانوں کیلئے اپنے منصوبوں میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کریں”۔
موئی ذا کا کہنا ہے کہ وہ تیکنیکی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر اس کا بار نہیں اٹھا سکتے، تاہم زوی ین نینگ کا کہنا ہے کہ یہ صرف تیکنیکی تربیت کا ہی معاملہ نہیں۔
نینگ”اس وقت ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، میں اس کہاوت کی تردید نہیں کرتا جس میں کہا گیا تھا کہ ہر اس شخص کیلئے ملازمت موجود ہے جو پرعزم ہے، مگر موجودہ دنوں میں ملازمت کے مواقع دستیاب نہیں”۔