ملائشیاءمیں چار ملکہ حسن لڑکیوں کو مس ملائیشیاءورلڈ کا مقابلہ چھوڑنے پر زبردستی مجبور کیا گیا، یہ اقدام وفاقی مفتی داتک وان زاہدی وان کے فتویٰ کے بعد کیا گیا، جس میں مقابلہ حسن کو اسلامی قوانین کے تحت حرام قرار دیا گیا تھا۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
چار نوجوان مسلم لڑکیوں کو مس ملائیشیا ورلڈ 2013ءکیلئے اس وقت نااہل قرار دیدیا گیا جب اس حوالے سے ایک فتویٰ سامنے آگیا۔ وفا جوہنا دے کورٹ اس مقابلے میں شریک ایک مسلم امیدوار ہیں۔
وفا جو ہنا دے”میرے خیال میں یہ غیرمنصفانہ امر ہے کہ ملکہ حسن کا تاج مسلم خواتین کے سر سے اتار دیا جائے، میرے پاس کئی لوگوں نے آکر کہا ہے کہ یہ غیرمنصفانہ ہے کہ مالےز ملائیشیاءکی نمائندگی نہیں کرسکتے”۔
وفاقی مفتی وان زاہدی وان نے مقابلہ حسن کی چار فائنلسٹ کی مکالفت کرتے ہوئے فتویٰ جاری کیا تھا کہ اس طرح کے مقابلوں میں شرکت غیراسلامی ہے۔حالانکہ ان مقابلوں کی انتطامیہ نے مسلم خواتین کے مناسب لباس کے پیش نطر اپنے ضوابط میں تبدیلی کی ہے۔ جون میں مس ورلڈ آرگنائزیشن کی چیئرپرسن جولیا مورلے نے تصدیق کی تھی کہ اب ملکہ حسن کے مقابلے میں تیراکی کے لباس کا استعمال ختم کردیا گیا ہے۔
وفا”انٹرویو سے قبل ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسلم خواتین کو مقابلے میں شرکت کی اجازت ہے، اس مقابلے کا فائنل بالی میں ہورہا ہے، بالی ایک مسلم ملک کا جزیرہ ہے جہاں بکنی پہنے کی اجازت نہیں،داتک ادنا نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملائشین راﺅنڈ کے دوران مسلم خواتین کو اسپورٹس ویئر پہننے کی اجازت ہوگی”۔
نااہل قرار دی جانے والی لڑکیوں میں سارا امیلا برنرڈ بھی شامل ہے، جس نے اس فتویٰ میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے، دوسری جانب مس ملائیشیاءورلڈ کی انتظامیہ نے ان لڑکیوں کی واپسی کیلئے کوشش شروع کردی ہے۔
وفا”انتظامیہ نے اس پابندی کو ختم کرنے کیلئے کچھ لوگوں سے بات کی ہے، انڈونیشیاءایک مسلم ملک ہے اور وہاں اس قسم کا کوئی فتویٰ اب تک سامنے نہیں آیا ہے”۔
وفا کالج میں زیرتعلیم ہیں اور وہ ماڈلنگ بھی کرتی ہیں انکا کہنا ہے کہ وہ اس مقابلے میں واپسی کیلئے پرامید ہیں۔