Multiracial Education Under Fire in Malaysia – ملائیشین نطام تعلیم

ملائیشیاءکا کثیر النسلی تعلیمی نظام خطرے کی زد میں ہے، اقلیتی فرقے جیسے عیسائی اور بھارتی نژاد افراد نے حالیہ انتخابات میں حکمران اتحاد کے خلاف ووٹ ڈالا، اب اعلیٰ ریاستی عہدیداران کثیر اللسانی تعلیمی نظام کو اس تفریق کا سبب قرار دے رہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سابق ججداتک محمد عبداللہ نور نے اپنی تقریر کے دوران تامل اور چینی اسکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

عبداللہ”آئین کے مطابق ہمارے ملک میں قومی اسکول قائم ہونے چاہئے، ابھی یہاں سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ، چینی، بھارتی اور دیگر نجی اسکول بھی کام کررہے ہیں، اس عوامی تقسیم پیدا ہورہی ہے”۔

ملائیشیاءمیں والدین اپنے بچوں کو قومی ملائے زبان، چینی یا تامل کسی بھی اسکول میں بھیجنے کا حق رکھتے ہیں، طالبعلموں کو کس زبان میں تعلیم دی جائے، یہ معاملہ ملائیشیاءمیں ہمیشہ سے گرما گرم بحث کی وجہ بنا رہا ہے، سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے حال ہی میں تعلیمی نظام یکساں کرنے پر زور دیا تھا۔

مہاتیر”ہمیں الگ الگ تعلیمی نظام کے رجحان میں کمی لانی چاہئے، مثال کے طور پر ہمیں ایسے قومی اسکول قائم کرنے چہائے جہاں ہر کوئی پڑھ سکے، اور ہمیں اقلیتیوں کی زبانوں کا بھی تحفظ کرنا چاہئے، یعنی ان فرقوں کے بچوں کو ان کی زبان لازی پڑھائی جائے مگر یہ سب ایک ہی اسکول میں ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں اس طرح کے اقدامات سے ملائیشیاءزیادہ مستحکم اور پرامن ملک بن سکے گا”۔

مگر تامل اور چینی ماہرین تعلیم کا اصرار ہے کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہئے۔ایس پیسوپیتھے ملائیشیاءمیںتامل فاونڈیشن کے صدر ہیں۔

پپاسو پیتھی”آپ کو ملک میں ان پالیسیوں کو دیکھنا چاہئے، جس میں نسلی اعتبار سے امتیازی سلوک کی بو آتی ہے، یہاں مخصوص زبانوں سے امتیازبرتا جاتا ہے، مخصوص تعلیم سے بھی امتیازی سلوک ہوتا ہے، ان سب وجوہات کی بناءپر مختلف برادریوں میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے”۔

بھے جنگ کنگ ایک نجی یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں، یہاں آنے سے پہلے وہ ایک چینی اسکول میں زیرتعلیم تھے، وہ اس حوالے سے ملی جلی رائے رکھتے ہیں۔

جنگ”اچھا راستہ تو یہ ہے کہ آپ دیگر برادریوں کے دوستوں کے ساتھ گھل مل کر رہے، مگر برا راستہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی مرضی کی زبان میں پڑھنے کا موقع نہ ملے۔ اگر ہمیں زبردستی ملائے اور انگریزی زبان سیکھنے پر مجبور کیا جائے تو یہ ہمارے لئے برا ہوگا، اس وقت متعدد افراد ایسے ہیں جو مندارن زبان لکھ یا پڑھ نہیں سکتے”۔

چینی اور تامل اسکولوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زبانوں کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پاسو پیتھی اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔

پاسو “آپ کو سمجھنا چاہئے کہ جو زبان آپ سیکھ رہے ہیں وہ صرف لکھنے یا پڑھنے کے کام نہیں آئے گی، بلکہ زبان کسی بھی شخص کی روح ہوتی ہے، اور اس سے قوموں کی ثقافت جڑی ہوتی ہے۔ ثقافتی یکجائی رابطہ زبان سیکھنے سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگ اپنی برادری کے ساتھ خود کو جڑے ہوئے محسوس کرتے ہیں”۔