تھائی لینڈ میں قانونی یاغیر قانونی پچیس لاکھ سے زائد تارکین وطن ورکرز موجود ہیں، ایسے غیرملکیوں کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے دی گئی ڈیڈلائن آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں برما، کمبوڈیا اور لاﺅس کے شہری زیادہ متاثر ہورہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سائی سائی تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے جنوبی علاقے میں واقع ایک فش کیننگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں، وہ پانچ سال قبل غیر قانونی طریقے سے تھائی لینڈ پہنچے تھے، وہ ایک بروکر کے ذریعے یہاں آئے تھے اور وہ وہ اسی کے ذریعے ورک پرمٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس مقصد کیلئے انھوں نے چار سو ڈالرز ادا کئے ہیں، جو ان کی دوماہ کی تنخواہ کے برابر ہے۔
سائی”میرے دیگرچند دوستوں کے مقابلے میں مجھے اپنا قیام قانونی بنانے پر زیادہ پیسے خرچ کرنا پڑے ہیں، میرے دوستوں نے صرف ایک سو ساٹھ ڈالرز ادا کئے تھے، اس سے پہلے میں نے کبھی بروکر کو کوئی رقم نہیں دی، مگر جب سے میرا ورک پرمٹ بنا ہے، مجھے اپنی تنخواہ کا تین فیصد حصہ اسے دینا پڑ رہا ہے”۔
سائی سائی ان لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن میں سے ایک ہیں، جو تھائی لینڈ میں نچلی ملازمتیں کرنے میں مصروف ہیں، یہ لوگ نہ صرف مالکان بلکہ بروکرز کے استحصال کا بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ تھائی حکومت نے ایسے غیرقانونی ورکرز کو قانون کے دائرے میں لانے کیلئے اقدامات کررہی ہے اور اس حوالے سے ڈیڈلائن آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے، مگر رجسٹریشن کا عمل کافی طویل اور مشکل ہے۔ عالمی ادارہ محنت آئی ایل اے کے عہدیدارمیکس تونون کا کہنا ہے کہ بروکرز کی شمولیت نے اس عمل کو کافی پیچیدہ بنادیا ہے۔
تو نو ن”مالکان اور ملازمین بروکرز کو چن سکتے ہیں اور یہاں متعدد بروکرز موجود ہیں، بلکہ یہ تو ایک صنعت بن چکی ہے، یہ ایک انتہائی منافع بخش کام بن چکا ہے اور یہ بروکرز تارکین وطن کو پرمٹ دلانے کیلئے تھائی کرنسی میں دس سے بیس ہزار روپے لے رہے ہیں، حالانکہ اس کی اصل لاگت صرف پانچ ہزار کے قریب ہے”۔
اس پرمٹ کی حقیقی لاگت ایک سو ساٹھ ڈالرز ہے مگر بروکرز ورکرز سے ساڑھے چھ سو ڈالرز تک لے رہے ہیں، قانونی دستاویزات کے بغیر ان غیرقانونی ورکرز کو ملک بدر کیا جاسکتا ہے، اسی لئے ان کے پاس بروکرز کو رقم ادا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔میکس تو نو ن مزید بتارہے ہیں۔
میکس تونون”ہمیں تشویش اس بات کی ہے کہ ان بروکرز کیلئے کسی قسم کے قوانین ہی موجود نہیں، وزارت محنت کی جانب سے ان بروکرز کے طریقہ کار پر نظر بھی نہیں رکھی جاتی، تھائی قوانین میں ان اداروں کیلئے تو قوانین موجود ہیں جو تھائی ورکرز کو بیرون ملک بھیجتے ہیں، مگر تھائی لینڈ میں کام کرنے والے غیرملکی ورکرز کے تحفظ اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے کوئی قوانین موجود نہیں”۔
آئی ایل او اس رجسٹریشن طریقہ کار کیلئے سخت قوانین کیلئے مہم چلارہی ہے، اورمیکس کا کہنا ہے کہ تھائی حکومت نے قانون میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم قانونی ورک پرمٹ سے بھی تارکین وطن کیلئے کام کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔سائی سائی کا کہنا ہے کہ اب بھی اس کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سلوک ہوتا ہے۔
سائی “دستاویزات کے حصول کے بعد میں کافی بہتر محسوس کرنے لگا ہوں، مگر ورکنگ کنڈیشنز اب بھی بہتر نہیں ہوسکی، قانون کے مطابق کام کے دوران ہمیں تیس منٹ کا وقفہ ملنا چاہئے، مگر ہمیں بارہ گھنٹے تک بلاتعطل کام کرنا پڑتا ہے۔یہ تھائی ورکرز اور ہمارے درمیان روا رکھے جانے والی ناانصافی ہے۔ تھائی ورکرز کو ہماری طرح سخت کام نہیں کرنا پڑتا، اگر وہ کام کے دوران سو جائیں تو کوئی شکایت نہیں کرتا، ان کی تنخواہیں بھی زیادہ ہیں”۔