Muhammad Ali Death Anniversary محمد علی کی بر سی

پاکستان کے معروف اداکار محمد علی انیس اپریل 1931ءکو بھارت کے شہر رام پور میں پیدا ہوئے اور تقسیم برصغیر کے بعد انہوںنے پاکستان آ کر اپنی فنی خدمات کا آغاز کیا۔
انہوںنے ابتداءمیں اپنے کیرئیر کا آ غاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا۔ ان کی بھرپور آواز نے انہیں ایک بہترین براڈکاسٹر کی حیثیت سے منوایا اور انہیں فلمی دنیا تک پہنچانے میں بھی ان کی آواز نے ہی اہم کردار ادا کیا۔
محمد علی نے انیس سو باسٹھ میں فِلم چراغ جلتا رہا سے بطور ولن فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور شروع کی چند فلموں میں منفی کردار نبھائے، بطور ہیرو ان کی پہلی فلم شرارت تھی، تاہم انہیں شہرت ملنے کا آغاز 1964ءمیں ریلیز ہونیوالی فلم خاموش رہو سے ہوا،اسی فلم پر انھوں نے بطور معاون اداکار پہلا نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
تاہم بطور ہیرو ان کی پہلی معروف فلم کنیز تھی جس پر انھوں نے بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کیا، جبکہ 1966ءمیں فلم آگ کا دریا نے انہیں سپر اسٹار ہیرو بنا دیا، جس کے بعد انہیں نے وہ عروج حاصل کیا جو بہت کم اداکار اپنی زندگی میں دیکھ سکے۔
انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب بھی دیا گیا اور ان کی فلمیں صاعقہ، وحشی، آس، آئینہ اور صورت، انسان اور آدمی سمیت حیدر علی ایسی فلمیں ہیں جن میں ان کی اداکاری عروج پر رہی۔
محمد علی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کا شمار ایشیا ءکے 25 بہترین اداکاروں کی فہرست میں ہوتا ہے۔
محمد علی نے 275سے زائد اردو ، پنجابی، پشتو ، ہندی، بنگالی فلموں میں کام کیا۔
وہ پاکستان کے واحد فلمی اداکار ہیں جنھیں حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا، جبکہ انہیں 1984ءمیں تمغہ حسن کارکردگی کا اعزاز بھی دیا گیا۔
مجموعی طور پر 10 نگار ایوارڈ جیتنے والے محمد علی کو بھارت کی جانب سے نوشاد ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
انھوں نے علی زیب فاﺅنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا، جس کے تحت تھلیسمیا کے مریض بچوں کو طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
19 مارچ 2006ءکو گردوں کی بیماری کے باعث لاہور میں ان کا انتقال ہوا، تاہم ان کی لازوال اداکاری کے نقوش آج بھی عوام کے دلوں میں نقش ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *