Shafiq-ur-Rehman Death Anniversary شفیق الرحما ن کی بر سی

اردو کے معروف مزاح نگار شفیق الرحمن کو دنیا سے گزرے آج 12 برس بیت گئے۔
شفیق الرحمن 9 نومبر 1920ءکو مشرقی پنجاب کے علاقے کلانور میں پیدا ہوئے۔ شفیق الرحمن نے 1942 میں پنجاب یونیورسٹی کنک ایڈورڈ کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔
قیام پاکستان سے پہلے وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران مختلف محاذوں میں فوجی ملازمت کرتے رہے اور 1947ءکے بعد وہ پاکستان کی بحری فوج کا حصہ بن گئے، جہاں سے وہ 1979ءمیں سرجن رئیر ایڈمرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
انھوں نے دوران تعلیم ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور ان کی پہلی کتاب کرنیں 1938ءمیں اس وقت سامنے آئی جب وہ میڈیکل کے طالبعلم تھے۔
شفیق الرحمن مزاجاً ایک رومانوی افسانہ نگار ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ مزاح کے ساتھ ساتھ ان کی کتابوں میں رومان کی فضاءبھی پائی جاتی تھی۔ان کو اصل شہرت افسانوں کے دوسرے مجموعے شگوفے سے ملی، جس میں کرداروں کی دل برداشتگی اور پھر بکھرنے کے حوالے سے بڑا جذباتی مگر مقبول اظہار بیان شامل کیا گیا تھا۔ اس مجموعے کے ایک افسانے، ساڑھے چھ میں شفیق الرحمن کا وہ کردار شیطان متعارف ہوتا ہے جو بعد میں ان کے افسانوں اور مزاحیہ مضامین کا مستقل کردار بن گیا۔
قیام پاکستان سے قبل ان کے افسانوں کے مزید دو مجموعے مدو جزر اور پچھتاوے شائع ہوئے، اس میں عمومی اسلوب رومانی ہے، مگر اب کرداروں کے پس منظر میں صرف مناظر فطرت نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی جھلکیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔
دجلہ ان کا طویل مختصر افسانہ ہے، جس سے انھیں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔
اسی طرح حماقتیں اور مزید حماقتیں نامی کتب کو کون بھول سکتا ہے۔
شفیق الرحمن نے ریٹائر زندگی کے آخری کئی سال گوشہ نشینی میں گزارے اور 19 مارچ 2000ءکو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔
انہیں 2001ءمیں حکومت پاکستان کی جانب سے فوجی اور ادب کے میدان میں خدمات پر ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں مگر ان کی شگفتہ تحریریں آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *