ایشیائی ممالک خصوصاًپاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش میں جغرافیائی محل وقوع اور موسمی حالات کے باعث خواتین کی بڑی تعداد گندمی یا سانولی رنگت کی حامل ہے، جسے یورپ اورامریکہ میں باعث کشش سمجھا جاتا ہے لیکن خود ہمارے معاشرے میںسرخ و سفید رنگت رکھنے والی خواتین کو حسین تصور کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ رشتے بیاہ کے معاملات میں گوری لڑکیوں کو پسندیدگی کی سند سے نوازا جاتا ہے ۔اس نوعیت کے سماجی رویے کے باعث سانولی رنگت کی خواتین احساس کمتری کا شکار ہو کر رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے استعمال کی جانب راغب ہوتی ہیں۔
تعلیم کی کمی اور جلد کی بیماریوں سے عدم آگہی کے باعث خواتین رنگ گورا کرنے والی کریموں اور اسکن بلیچ پروڈکٹس کے استعمال سے قبل ان میں شامل اجزاءکی تفصیل جاننے کی کوشش نہیں کرتیں ، جبکہ اس نوعیت کی پروڈکٹس میں جلد کیلئے انتہائی نقصان دہ کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے خصوصاًStrong steroidsجو کسی ماہر ڈرماٹولوجسٹ کے مشورے کے بغیرہر گز استعمال نہیں کرنے چاہئیں،اس کے علاوہ رنگ گورا کرنے والی مشہور زمانہ کریموں اور لوشنز میںجلد میں قدرتی طور پر موجود میلانن کو کنٹرول کرنے کیلئے خصوصی اجزاءکا استعمال کیا جاتا ہے جسکے باعث چند ہی دنوں میںرنگت میں واضح فرق آجاتا ہے،لیکن جیسے ہی ان کریموں کا استعمال روکا جائے چہرے کی پرانی رنگت لوٹ آتی ہے۔اشتہاری اور فارمولا کریموں کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں ہم نے انسٹیٹیوٹ آف اسکن ڈیزیزز سے منسلک اسکن اسپیشلسٹ ڈاکٹرشمامہ سے بات کی تو انھوں نے کہا:
مختلف برانڈڈ کریموں کے ساتھ ساتھ مقامی بیوٹی پارلرز بھی اس نوعیت کی پروڈکٹس متعارف کرواتے رہتے ہیں جو فوری طور پر رنگت کو صاف تو کر دیتی ہیں لیکن آگے چل کر جلد کیلئے خاصی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں:
کم عمر لڑکیوں میں رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال زیادہ دیکھنے میں آتا ہے جبکہ20سال سے کم عمر لڑکیوں کی جلد قدرتی طور پر حساس ہوتی ہے اور نقصان دہ کیمیکلز کے استعمال سے شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
“چند ہفتوں میں رنگ گورا”۔۔۔”اب ہر نگاہ آپ ہی کی جانب اُٹھے گی”۔۔یہ چند پر کشش جملے ہیںجو اشتہاری کمپنیاں رنگ گورا کرنے، کیل مہاسے ختم کرنے اورجلد کو بلیچ کرنے والی کریموں کی پبلسٹی کیلئے استعمال کرتی ہیں جن سے متاثر ہوکر خواتین اندھا دُھند ان پروڈکٹس کا استعمال کرنے کے بعد جلد کے انفیکشنز اور الرجی کو دعوت دیتی ہیں،جلدی امراض کی ماہر ڈاکٹرشمامہ کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اشتہارات کیلئے کوئی چیک اینڈ بیلنس پالیسی ہونی چاہئیے:
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یورپی ممالک میں سرخ و سفید رنگت کی حامل خواتین ،ایشیائی ممالک کی سانولی اور گندمی رنگت رکھنے والی خواتین کو نہ صرف پسند کرتی ہیں بلکہ اپنے چہرے کی رنگت اِن جیسی کرنے کیلئے ہزار جتن کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں کی خواتین پر کشش رنگت اور تیکھے نقوش کے باوجود احساس کمتری کا شکار رہتی ہیں۔
نقصان دہ اور کیمیکلز سے بھر پور مصنوعی اجزاءکا استعمال نہ صرف چہرے بلکہ پورے جسم کیلئے نقصان دہ ہے اسکے بجائے صحت مندغذا ، بھر پور نیند اور مناسب ایکسرسائز کی عادت نہ صرف ہمیں فٹ رکھتی ہے بلکہ دلکشی و تروتازگی کی صورت میںچہرے کو قدرتی چمک دمک عطا کرتی ہے۔
