پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں آج ماﺅں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،دنیا بھر میں یہ روایت قائم ہو چلی ہے کہ کوئی سا ایک دن کسی بھی ہستی کیلئے مخصوص کر دیا گیا ہے ان میں وہ ہستیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کر دی جیسے ماں۔۔۔
ماں ہی وہ ہستی ہے جو بچے کو اپنے قدموں پہ کھڑا ہونااور زمانے کی بھیڑ کا سامنا کرنا سکھاتی ہے اس امید پر کہ یہ ننھے پودے جب تناور درخت بنیں گے تو ان کی ٹھنڈی چھاﺅں میں اپنی زندگی کے تمام غم بھلا دے گی لیکن ماں کے آنچل میں پناہ لینے والی اولاد بڑھاپے میں ماں کو ایک چھت کا سائبان بھی نہیں دے پاتی اور ایسی بد قسمت خواتین کا مقدر ٹھہرتا ہے اولڈ ہومز یا فلاحی اداروں کے دارالامان ۔۔۔آج ماﺅں کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان بھر میں قائم مختلف اداروں میں پناہ لئے کئی مائیں اپنے راج دلاروں کی راہ دیکھ رہی ہیں کہ شاید بچپن سے ہاتھ چھڑائے جوانی کی دہلیز پہ کھڑی اولاد ایک بار پھر اُنکے پاس لوٹ کر آئے گی۔ایدھی ہوم میں پناہ لئے ہوئے چھ بیٹوں کی ماں فاطمہ کی نگاہیں ہر لمحے منتظر رہتی ہیں کہ شاید انکے گھر سے کوئی ان سے ملنے آئے گا۔۔۔ پر انکی آس محض آس ہی رہتی ہے:
سال کا کوئی سا بھی دن کسی ہستی کیلئے مخصوص کرنے کی روایت کی طرح مشرق نے اولڈ ہومز کی روایت بھی مغربی معاشرے سے مستعار لی ہے ۔ابھی کچھ سالوں پہلے تک ہمارے خاندانی نظام میں بوڑھے بزرگ گھر کے سربراہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر اہم فیصلہ انکے مشورے سے کیا جاتا تھاپر آج جہاں آسائشات نے رشتوں کی جگہ لے لی ہے وہیں گھر کے بزرگ افرادکو فالتو سامان کی طرح اولڈ ہومز میں جمع کروا دیا جاتا ہے جہاں وہ محض یادوں کے سہارے زندگی کے بقیہ دن گزاردیتے ہیں ،جانتے ہیں کراچی کے ایدھی ہوم میں پناہ لئے ہوئے ایک ماںفرمینہ کے اپنی اولاد کے بارے میں کیا جذبات ہیں:
ایدھی ہوم کے ترجمان انور قاضی کا کہنا ہے کہ معاشرہ زبوں حالی کا شکار ہے اور لوگوں کے گھروں میں ہی نہیں دلوں میں بھی جگہ کم پڑگئی ہے ، رشتوں میں تناﺅ ، بدترین معاشی حالات اور حساسیت کا فقدان ان بدنصیب ماﺅں کو اولڈہومز تک لے آتا ہے ،انور قاضی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اولڈ ہومز اور ایسے مراکز موجود ہیں جہاںاولاد کے ہاتھوں ستائی ہوئی بزرگ خواتین اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہی ہیں:
دوسری جانب ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ بزرگ سایہ دار درخت کی مانندہوتے ہیں جو پورے خاندان کو اپنی مہربان وسعتوں میں سمیٹے رکھتے ہیں،ہمارے ہی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مکافات عمل سے ڈرتے ہیںاور ماں کی دعاﺅں کو کامیابی کی علامت قرار دیتے ہیں:
جس ہستی نے تمام عمر اپنی اولاد کیلئے وقف کر دی ، جسکے قدموں تلے جنت کی بشارت سنا دی گئی ،کیا عجب بات ہے کہ اُسی ہستی کیلئے ہم سال بھر میں محض ایک دن مخصوص کرتے ہیں اور وہ دن بھی اولڈ ہومز میں موجود بے شمار بدنصیب مائیںاس آس اور امید میں گزار دیتی ہیں کہ شاید آج کے دن انکی اولاد ان سے ملنے آئے ،شاید انکے لئے بھی کوئی پھول بھجوائے اور شاید کوئی اُنکے پاس آئے اور انکے جھریوں زدہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہے۔۔۔ماں تجھے سلام!