بابائے اردو مولوی عبدالحق مولوی عبدالحق سولہ نومبر 1872ءمیں ضلع غازی آباد کے علاقے ہاپور(Hapur) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر میرٹھ میں پڑھتے رہے۔ 1894ءمیں علی گڑھ سے بی۔ اے کیا۔ علی گڑھ میں سرسید کی صحبت میسر رہی۔ ان کی آزاد خیالی مولانا کے مزاج پر گہرا اثر پڑا۔
1895ءمیں آپ نے حیدرآباد دکن کے ایک سکول میں ملازمت کی،اس کے بعد ملازمت ترک کرکے اورنگ آباد کالج کے پرنسپل ہوگئے اور اسی عہدہ پر آخر تک فائز رہے یہاں تک کہ پنشن لی۔
جنوری 1902ءمیں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشن کانفرنس علی گڑھ کے تحت ایک علمی شعبہ قائم کیاگیا۔ جس کانام انجمن ترقی اردو تھا۔1912ء میں مولوی عبدالحق اس تنظیم کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔مولوی عبدالحق نے جنھیں انجمن کے حوالے اور اردو کی خدمت سے خواص و عوام نے ”بابائے اردو“ کا خطاب دیا انجمن کو غیرمعمولی ترقّی دی۔ اس کی خدمات کا دائرہ وسیع کیا۔ وقت کے جدید تقاضوں کے مطابق علمی اور ادبی منصوبے مرتّب کیے اور ان پر بڑی دل جمعی سے کام کیا۔مولوی عبدالحق نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بڑا کام کیا جس میں ایک جامعہ عثمانیہ کا قیام بھی ہے۔جامعہ عثمانیہ کے ساتھ ایک وسیع دار الترجمہ بھی قائم کر لیا۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے میں بڑی جاںفشانی سے کام لیا۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی منتقل کراکے مولوی صاحب خود بھی دہلی آگئے لیکن حالات سازگار نہ تھے لٰہذا کچھ عرصہ بعد کراچی آگئے اور یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کاکام شروع کر دیا۔ اور اردوسائنس کالج کی بنیاد رکھی، جو اب یونیورسٹی کی شکل میں ڈھل چکا ہے۔
عبدالحق نے اردو کی خدمت کے لیے تمام زندگی وقف کر دی تھی۔ انھوں نے 16اگست 1961ءکوکراچی میں وفات پائی۔