Eid and Bengles عید اور چو ڑیا ں

 

کانچ کی چوڑیاں اور مھندی صنف نازک میں ہمیشہ سے ہی مقبول رہی ہیں،اوربات عید جیسے تہوار کی ہو تو چوڑیوں اور مھندی کے بغیر تےاری نامکمل سی رہتی ہے،چوڑیوں اور مھندی کے اسٹالز تو رمضان کے پہلے عشرے سے سجنا شروع ہوجاتے ہیں۔اور آخری عشرے میں تو ان اسٹالز پر خواتین کا رش بہت بڑھ جاتا ہے،عید پر چوڑیوں کا اہتمام کیوں ضروری ہے،آئیے اس حوالے سے خواتین کے تاثرات جانتے ہیں،
ٓ
ویسے تو عید پر ہر طرح سے بھر پور تےاری کی جاتی ہے ،نت نئے فیشن ملبوسات،مصنوعی زیورات ،سینڈلز وغیرہ،لیکن اگر عید پر سوٹ کے ساتھ میچنگ کی چوڑیاں نہ ہوں تو عید پھیکی سی رہتی ہے،

عید کے موقع پر تحفے تحائف دینے کی روایت بہت پرانی ہے،آج سے کئی عشرے قبل بھی عید پر چوڑیوں کو بطور تحفہ اپنی ہم جولیوں کو بھیجواےا جاتی تھی،اور آج بھی یہ روایت اسی طرح سے قائم و دائم ہے،

رمضان کا مہینہ اور عید کا تہوار دونوں ہی میں لوگوں کو مالی لحاظ سے بہت فائدہ ہوتا ہے،چوڑیوں کا اسٹال لگانے والے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ عید پر خواتین کی دلچسپی کو مد نظر رکھ کر مختلف قسم کی چوڑیاں اسٹالز پر سجاتے ہیں،

چوڑیوں کی خریداری کا نمبر عید کی تےاریوں میں سب سے آخر میں آتا ہے ،اور اکثر چاند رات کو خواتین چوڑیوں کی خریداری کے لئے بازاروں کا رخ کرتی ہیں،اگرچہ حد سے بڑھتی مہنگائی نے چوڑیوں کے کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے ،لیکن عید کے لئے لازم تصور کئے جانے کے باعث مہنگائی کے باوجود خواتین من پسند چوڑیا ں خریدنے پر مجبور ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *