فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ٹریفک جام روز کا معمول ہے، جبکہ گاڑیوں، بسوں اور موٹر سائیکلوں کی بھرمار کی وجہ سے شہر میں ہوائی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ اس مسئلے سے قابو پانے کے لئے ایک ادارے نے ماحول دوست گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں ایک رپورٹ۔
کبھی بار منیلا میں کہیں جانے کے لئے آپ کو ٹریک نامی سواری کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسی موٹرسائیکل ہوتی ہے جس میں سائیڈ کار بھی ہوتی ہے، اس سواری کو ٹریفک سے بچانے کے لئے فٹ پاتھوں پر چلایا جاتا ہے۔ٹریک بہت زیادہ شور اور دھواں پھیلانے والی سواری ہے۔
تاہم ایلفریڈو فوریلوکی ٹریک ایسی نہیں۔
چند ماہ قبل 38 سالہ الفریڈو نے اپنی پرانی سواری فروخت کرکے بیٹری سے چلنے والی ای ٹریک خریدی ت ھی، اب وہ آٹھ مسافروں کو اس میں بٹھا سکتے ہیں جبکہ اس کی آواز بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
الفریڈو “پرانی ٹریک نے مجھے بہت بیمار کردیا تھا، اسکی وجہ سے مجھے اکثر فلو، دمہ یا سردی کی شکایت ہوجاتی تھی”۔
مگر اب ایسا نہیں، ای ٹریک کو چلانا آسان ہے اور وہ پرانی کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ بھی ہیں۔
اس وقت منیلا بھر میں صرف پندرہ ای ٹریک دوڑ رہی ہیں، مگر ایشیائی ترقیاتی بینک کا منصوبہ ہے کہ آئندہ پانچ سال میں ان کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچادی جائے گی۔سہیل حسنی ایشیائی ترقیاتی بینک کے ای ٹریک پروگرام کے سربراہ ہیں۔
سہیل حسنی”فلپائنی حکومت سالانہ خام تیل کی درآمد پر آٹھ سے دس ارب ڈالرز خرچ کررہی ہے، اس کے علاوہ ان سواریوں میں ایندھن کا استعمال مناسب طریقے سے نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے پاس نئی ٹیکنالوجی اختیار کرنے کے لئے
زیادہ انتخاب موجود نہیں۔ آپ ایسی گاڑیوں پر سفر کرنا زیادہ پسند کریں گے جو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور ہوائی آلودگی کا سبب نہ بنے۔ ای ٹریک ان تمام مسائل کا واحد حل ہے”۔
انکا تخمینہ ہے کہ ای ٹریک سے منیلا کی فضاﺅں میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 4 ٹن تک کمی آئے گی، تاہم عالمی ماحولیاتی ادارے گرین پیس کی فلپائنی پروگرام منیجر بئاو بیکونگیز بیو کا خیال کچھ مختلف ہے۔
بیکونگیز “جب آپ لاکھوں ای ٹریک کو چارج کریں گے تو اس سے بہت زیادہ بجلی خرچ ہوگی، اس وقت فلپائن میں بجلی کی پیداوار کا زیادہ انحصار کوئلے پر ہے، ان گاڑیوں کے استعمال سے دھویں کا اخرام تو کم ہوگا مگر کوئلے کے پلانٹس سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں ماحول کو زیادہ آلودہ کردیں گی”۔
دیگر ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ای ٹریک کی کیتھم سے بنی بیٹریاں اتنی مفید ثابت نہیں ہوں گی جتنا سوچا جارہا ہے۔ ریڈکنسٹینٹینو منیلا میں قائم انسٹیوٹ فار کلائیمیٹ اینڈ سسٹینیبل سیٹیز کے ڈائریکٹر ہیں۔
ریڈ ” لیتھم بیٹریاں زیادہ مسائل کا سبب بنیں گی، ان کی لاگت زیادہ ہے اور ہمارے ملک میں ان کی فروخت کے بعد سروس کی سہولت موجود نہیں۔ اگر ان کا ایک پرزہ بھی خراب ہوگیا تو پوری بیٹری ہی بے کار ہوجائے گی کیونکہ ان کی مرمت ممکن ہی نہیں”۔
منیلا کے ایک شاپنگ سینٹر مکاتی سٹی کے باہر لوگ ان نئی گاڑیوں پر لٹک رہے ہیں اور سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے جارہے ہیں۔کنسٹینٹینوکا کہنا ہے کہ ماحولیات اور عوامی تحفظ کیلئے ای ٹرائیک سے بہتر متبادل بھی موجود ہیں۔
کنسٹینٹینو”گاڑی جتنی بڑی ہوگی، زہریلی گیسیں اتنی ہی کم خارج کرے گی اور توانائی کا استعمال بھی کم ہوگا۔ یہ ٹریک چھوٹی ہیں اور زیادہ فاصلے تک نہیں چلتیں، ان کی وجہ سے لوگ کچھ دور پیدل چلنے کی بھی زحمت نہیں کرتے، ہمارے خیال میں تو اے ڈی بی کے ای ٹریک پروگرام سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ جائیں گے، میرے خیال میں تو ان کی تعداد بڑھانے کی بجائے ان کی طلب میں کمی کی جانی چاہئے۔جہاں تک عوامی تحفظ کی بات ہے تو اکثر ڈرائیور ٹریفک قوانین کی پابندی ہی نہیں کرتے”۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے عہدیدار سہیل حسنی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان e-trikes کی بیٹریوں کی مرمت ایک بڑا مسئلہ ثابت ہوں گی، تاہم وہ بڑی گاڑیاں چلانے کے حق میں بھی نہیں۔
حسنی”بڑی گاڑیوں کیلئے آپ کو بڑی موٹر اور بڑی بیٹریوں کی ضرورت ہوگی، جن کے اخراجات وقت کے ساتھ بڑھتے ہی چلے جائیں گے”۔
انکا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر شہریوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں، جبکہ غریب افراد جیسے ایلفریڈو فوریلو ان ای ٹرائیک کے ذریعے مناسب روزگار حاصل کررہے ہیں۔
اب واپس الفریڈو کی جانب چلتے ہیں، جو ہمیں بتارہے ہیں کہ اس نئی گاڑی کی بدولت وہ زیادہ کما رہا ہے کیونکہ اب اس کے ایندھن کی بچے ہورہی ہے۔ہم نے پوچھا کہ کیا وہ دوبارہ گیس سے چلنے والی ٹریک چلانا پسند کریں گے؟