Malka e Trannum Noor Jahan’s Death Anniversary – مشہور و معروف اداکارہ و گلوکار ملکہ ترنم نور جہاں

ملکہ ترنم نورجہاں لاہور کے قریب قصور میں اکیس ستمبر 1926میں پیدا ہوئیں۔اور انکا نام والدین نے اللہ وسائی رکھا ۔میڈیم نورجہاںکے کئیرئیر کا آغاز1935میں آٹھ سال کی عمرمیں کلکتہ اوربمبئی کی چند فلموں میں بطور چائلڈ اسٹار ہوا ۔پلے بیک سنگر کے طور پر جب پہلا گیت گایا تو وہ بارہ برس کی تھیں۔اسکے بعد لاہور واپس آئیں اور گل بکاو¿لی، سسی پنوں، یملا جٹ اور چودھری نامی فلموںسے باقاعدہ طورپر کیرئیر کا آغازکیا۔پاکستان بننے سے پہلے نورجہاں نے کئی سپرہٹ فلموں میں بطور ہیروئین کام کیا۔

انیس سو بیالیس میں ان کی بےحد مقبول فلم خاندان ریلیز ہوئی،اس فلم کا گانا ’تو کون سی بدلی میں ہے میرے چاند آجا‘ بہت مقبول ہوا۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور آگئیں۔

وہ تقریباً بارہ سال تک فلموں میں ہیروئین اور گلوکارہ دونوں حیثیتوں میں کام کرتی رہیں۔ دوپٹہ، گلنار، انتظار، لخت جگر، کوئل، نیند ان کی مشہور فلموں میں شامل ہیں۔

میڈیم نے چھبیس فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے علاوہ تقریبا ایک ہزار فلموں کے لیئے گانے گائیں۔کچھ عرصے بعد انہوں نے اداکاری چھوڑ دی اور اپنی فنی صلاحیتیں گلوکاری کےلئے وقف کردیں۔انکی آوازقدرت کا انمول عطیہ تھی جسکو انہوںنے بے پنا ہ ریاض سے سنوارا۔انکی آواز سننے کے بعد ہی اپنے وقت کی عظیم مغنیہ کجن آرا بیگم نے انکا نام نورجہاں رکھا۔انیس سو ساٹھ اور سترکی دہائیوں میںموسیقار،گھونگھٹ اور ہیر رانجھا نے انکی گائیکی کے باعث خصوصی شہرت حاصل کی۔میڈیم نور جہاںکے اردو زبان میں گائے ہوئے گیتوںکے علاوہ پنجابی زبان میں گائے ہوئے گیتوں کو بھی خوب شہرت حاصل ہوئی۔

غزل اور نظم کی گائیکی میں بھی میڈیم کا اپنا منفرد اندا ز تھا۔

میڈیم نور جہاں کو ملی نغموں اور قومی ترانوں کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔انیس سو اٹھانوے میں ملکہ ترنم نورجہاں نے فلم سخی بادشاہ میں اپنا آخری فلمی گیت ’ کی دم دا بھروسہ یار، دم آوے نہ آوے‘گایا اور دو سال بعد تئیس دسمبر دو ہزار کو طویل علالت کے بعد کراچی میں تہتر برس کی عمر میں وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی ،جو بڑے بڑے موسیقاروں کی دھنوں کو زندہ و جاوید کر دیا کرتی تھی۔