(Malaysia womens rights) ملائیشیاءمیں خواتین کے حقوق
ملائیشیاءمیں آج کل خواتین سیاسی نمائندگی اور یکساں حقوق کیلئے مہم چلارہی ہیں۔
کہر آلود دن ہونے کے باوجود ملائیشین دارالحکومت کوالالمپور کے نواح میں واقع Petaling Jaya نامی شہر میں خواتین مظاہرین کا جذبہ ماند نہیں پڑا ہے۔ یہ Women’s Voice for Change Alliance کا پہلا عوامی مظاہرہ ہے، جس کا مقصد امور نسواں کو سیاسی ایجنڈے کی اولین ترجیح بنانے کے لئے دباﺅ ڈالنا ہے۔ دو ہزار سے زائد خواتین ہاتھوں میں سفید دستانے اور ارغوانی قیمضیں پہنے گلیوں میں مارچ کررہی ہیں۔ سفید دستانوں کا مطلب شفاف حکومت جبکہ ارغوانی رنگ خواتین کی مضبوطی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ان خواتین کے مطالبات تو کئی ایک ہیں، تاہم مرکزی مطالبہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی ہے۔ملائیشیاءکی تقریباً 3 کروڑ آبادی کا پچاس فیصد سے کچھ کم حصہ خواتین پر مشتمل ہے، مگر اس وقت پارلیمنٹ میں خواتین اراکین کی تعداد محض 24 ہے۔Hannah Yeoh، Subang Jaya ریاستی اسمبلی کی رکن ہیں۔
Hannah Yeoh(female)”پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی تیس فیصد کے قریب ہونی چاہئے، ہم سیاست میں خواتین کی زیادہ تعداد کو سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں، صرف ریاستی سطح کے لئے نہیں بلکہ مقامی بلدیاتی سطح پر بھی، میرا نہیں خیال اس وقت ملک میں خواتین کونسلرز کی تعداد بہت زیادہ ہوگی”۔
خواتین کا یہ الائنس پندرہ اداروں کے اتحاد سے تشکیل دیا گیا، اور اس میں ہر قسم کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے ادارے شامل ہیں۔یہ ملائیشیاءمیں سماجی شعور میں اضافے کا حصہ ہے، جس میں Bersih مہم بھی شامل ہے۔ یہ مہم قومی سطح پر شفاف انتخابات کیلئے ہے۔ Women’s Voice for Change Alliance نے حکومت سے چھ مطالبات کئے ہیں۔اس الائنس کی رہنماءMeera Samanther اس بارے میں بتارہی ہیں۔
Meera Samanther(female)”ہمارا پہلا مطالبہ کرپشن سے پاک حکومت کا قیام ہے۔ہمارے دیگر مطالبات میںشفاف انتخابات، تنخواہوں میں اضافے، بدعنوانی روکنے، خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام اور Peaceful Assembly Act کی منسوخی شامل ہیں”۔
Peaceful Assembly Act گزشتہ برس دسمبر میں منظور ہوا تھا، جس کے بارے میں سول سوسائٹی گروپس کا کہنا
ہے کہ اس مقصد ملک میں عوامی مظاہروں کو محدود کرنا ہے۔ ایک بڑے اتحاد کا مطلب مطالبات میں وسعت بھی ہوتا ہے، مثال کے طور پر Faridah Anak Gokham ایک قبائلی برادری سے تعلق رکھتی ہیں، وہ اپنی برادری کا تحفظ چاہتی ہیں۔
Faridah Anak Gokham(female)” اگر ہم Orang Asli برادری کی بات کریں، تو حکومتی عناصر صرف اپنی پسند کے خیالات کو سننا ہی پسند کریں گے۔ وہ اپنے فیصلے ہماری بات سنے بغیر کرتے ہیں۔ ہم ان کی زمینوں کی منتقلی کی پالیسیوں سے متفق نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ان کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ یہ ہماری برادری کے لئے سب سے اہم مسئلہ ہے”۔
وزیراعظم نجیب رزاق کی جانب سے جلد ہی انتخابات کے انعقاد کا اعلان متوقع ہے، Meera Samanther اپنی اراکین پر زور ڈال رہی ہیں کہ وہ ایسے انتخابی امیدواروں کی حمایت کریں جو الائنس کے مقاصد کی حمایت کرتا ہو۔
Meera Samanther(female)”ہمیں اپنی آواز کو مضبوط بنانا ہوگا، تاکہ انتخابات میں حصہ لینے والے ہمارے مطالبات کو سنیں، اور اگر وہ ان سے اتفاق کریں اور اس حوالے سے منشور پیش کریں تو ہمیں ان کو رکن پارلیمنٹ بنانا چاہئے”۔
Hannah Yeoh کا کہنا ہے کہ انہیں مطالبات پر کوئی اعتراض نہیں۔
Hannah Yeoh(female)”میں یہاں خواتین سے اظہار یکجہتی اور ان کے چھ مطالبات کی حمایت کرنے کیلئے آئی ہوں۔ میری نظر میں سب سے اہم ترین چیز شفاف و آزاد انتخابات اور اس کے بعد شفاف حکومت کا قیام ہے۔اگر ہماری حکومت کرپشن سے پاک نہیں ہوگی تو ملک میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکے گی”۔
