پاکستان بھر میںخواتین کی بہت بڑی تعداد مختلف فیکٹریوں، کارخانوں اور انڈسٹریز سے منسلک ہے ، یہ وہ طبقہ ہے جو بہت زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے، اعلیٰ ڈگریاں نہ ہونے کے باعث یہ خواتین فیکٹریوں میں پیکنگ،لیبلنگ اور دیگر کاموں کے ذریعے روزگار حاصل کر رہی ہیں۔تعلیم کی کمی اور اپنے حقوق سے آگہی نہ ہونے کے باعث خواتین فیکٹری ورکرز کو ملازمت کے دوران ان گنت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کی شکایات کے ازالے کیئے ملک بھر کی فیکٹریوں میںتاحال کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا ہے۔
فیکٹریوں میں تمام کارکنان کیلئے اوور ٹائم لازمی شرط سمجھی جاتی ہے جسکے باعث خواتین ورکرز خاصی دشواریوں کا سامنا کرتی ہیں،دن بھر ڈیوٹی اور بعد ازاں اوور ٹائم کے بعد کہیں جا کر انھیں چھٹی ملتی ہے اسکے بعد سائٹ اور انڈسٹریل ایریا سے شہر کے رہائشی علاقوں کی جانب لوٹنے میں انھیں ڈیڑھ سے دو گھنٹے درکار ہوتے ہیں، دفتری امور کے ساتھ گھریلو ذمے داریاں نبھانے والی خواتین کیلئے یہ انتہائی مشکل ہے کہ وہ شام ڈھلنے کے بعد اپنے گھر پہنچیں۔انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن آف گارمنٹس میں15سال سے ملازمت کرنے والی مسرت جبیں ٹریڈ یونین سے بھی منسلک ہیںاُن کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں میںسیکیورٹی کے انتظامات ناکافی ہوتے ہیں جسکے باعث حادثات اور دیگر نوعیت کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں:
فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین ،سپر وائزرز کے ناروا رویے کا بھی شکار رہتی ہیں ایسے میں مرد سپر وائزرز کی جانب سے خواتین ورکرز کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔اس سلسلے میں مسرت جبیں سمیت دیگر فیکٹری ورکرزکا کہنا ہے کہ اگر خواتین سپز وائزرز تعینات کی جائیں تو انھیں اپنے مسائل بیان کرنے میں مدد ملے گی اور وہ پر سکون ماحول میں کام کر سکیں گی:
سخت ترین اوقات کار میں محنت طلب کام کرنے والی خواتین فیکٹری ورکرز کو پنشن اور گریجوئٹی سمیت دیگر سہولیات کے حوالے سے بھی پریشانیوں کا سامنا ہے ،اُنھیں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اُجرت سے کم تنخواہ دی جاتی ہیںاسکے علاوہ فیکٹری مالکان کی جانب سے خواتین ورکرز کی سلیکشن کا اپنا طریقہ کار ہے جسکا میرٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے:
کراچی کی مقامی فیکٹری میں گزشتہ15سال سے ملازمت کرنے والی مسرت جبیں اور ان جیسی دیگر فیکٹری ورکرز کا مطالبہ ہے :
ضرورت اس بات کی ہے کہ گھریلوو معاشی مجبوریوں کے تحت فیکٹریوں سے منسلک خواتین کی شکایات کے ازالے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے قو انین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ خواتین ملازمین پر سکون ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں ادا کر سکیں۔
