Malaysia’s PAS rejects draconian law, embraces multi-faith nation – ملائشین قانون پر تنقید

ملائیشین حکومت نے بغیر ٹرائل کے کسی کو گرفتار کرنے کے قانون کا دفاع کیا ہے، وزیراعظم نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ پرتشدد جرائم پر قابو پانے کیلئے پولیس کو زیادہ اختیارات کی ضرورت ہے۔ اس قانون پر ملائیشیاءمیں کافی تنقید ہورہی ہے، ان میں سے ہی ایک اسلامک پارٹی آف ملائشیاءکے رکن پارلیمنٹ خالد عبدالصمد بھی ہیں، ان کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں

خالید” باریسن نیشنل کی حکومت نے اپنے اس وعدے کی خلاف ورزی کی ہے کہ وہ ملائیشیاءکو زیادہ جمہوری اور کھلا معاشرہ بنائے گی، داخلی سیکیورٹی ایکٹ یا آئی ایس اے اور ایمرجنسی آرڈنینس ایکٹ کے بعد اب اس نے جرائم کے کنٹرول کے قانون میں بھی ترمیم کرتے ہوئے ٹرائل کے بغیر بھی دو سال تک گرفتار رکھنے کی اجازت دیدی ہے، جس میں دو سال کی مزید توسیع بھی کی جاسکتی ہے، ہمارے خیال میں اس قانون کے بعد ہر مقدمے میں گرفتار شخص کیلئے حالات ایسے بنادیئے جائیں گے کہ وہ اپنے ناکردہ جرم کو بھی قبول کرلے گا”۔

سوال” ملائیشیاءمیں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور حکومت سخت قوانین کے ذریعے اس پر قابو پانا چاہتی ہے، کیا یہ بات قابل فہم نہیں کہ حکومت جرائم کے انسداد کیلئے مضبوط اقدامات کررہی ہے؟

خالد”سخت قانون تو ٹھیک ہے، مگر کسی شخص کو محض شبہے کی بنیاد پر گرفتار کرنا ناانصافی کے مترادف ہے، ہم اس چیز کے خلاف ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ حکومت کو بہتر پولیسنگ پالیسیوں کو متعارف کرانا چاہئے، پولیس کو جرائم پر روک تھام کیلئے زیادہ بہتر تربیت دی جانی چاہئے اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف سخت کریک ڈاﺅن ہونا چاہئے”۔

سوال” آپ ریاست سلانگور کے علاقے شاہ عالم سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں، سلانگور کو بھی جرائم کی بلند شرح کا سامنا ہے، تو آپ اور اپوزیشن جماعت پاکاتان رکیات ملائیشیاءمیں جرائم کو روکنے کیلئے اس طرح کے قانون سے قطع نظر کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟

خالد” سیلینگو کی ریاستی حکومت نے کمیونٹی پولیسنگ کی تجویز پیش کی ہے، جو کہ ریاستی حکومت کے زیرتحت اضافی پولیس فورس ہوگی، جس سے ریاستی حکومت کو جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی”۔

سوال”وفاقی پولیس کی بجائے آپ ریاستی پولیس تشکیل دینے کی تجویز دے رہے ہیں؟

خالد”جی ہاں یہی میں کہنا چاہتا چاہتا ہوں، پولیس کی اضافی نفری گلیوں میں ہونے سے دن دیہاڑے ہونے والے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی، یعنی لوگوں سے ڈکیتیوں کی وارداتوں کو آسانی سے روکا جاسکے گا، اس وقت دو سو اسی افراد کی حفاظت کیلئے صرف ایک پولیس اہلکار ہے، جو قابل اطمینان شرح ضرور ہے، مگر پوری پولیس فورس میں سے صرف تیس فیصد اہلکار ہی جرائم کیخلاف جدوجہد کررہے ہیں۔گزشتہ سال وفاقی حکومت نے یہ ماننے سے انکار کردیا تھا کہ جرائم کی شرح بہت زیادہ ہوگئی ہے، مگر اب اچانک انکا کہنا ہے کہ ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں اور اس پر قابو پانے کیلئے ہمیں مزید اضافی اختیارات کی ضرورت ہے، ہم پولیس کو لوگوں کو مناسب ٹرائل کے بغیر قید میں رکھنے کا حق دے رہے ہیں”۔