Malaysia theatre exposes conditions of political detainees – ملائیشین سیاسی قیدی

ملائیشیاءمیں سیاسی قیدیوں کا معاملہ ایک بار پھر ایک اسٹیج ڈرامے کے باعث عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ایک اسٹیج ڈرامے کے دوران ملائیشین جیلوں کے قیدیوں کو دستیاب علاج معالجے کی سہولیات کو دکھایا جارہا ہے، یہ ڈرامہ حسام الدین رئیس کا پیش کردہ ہے جو ایک معروف سیاسی کارکن ہیں۔

حسام الدین”اس ڈرامے کا خیال ہمیں متعدد سیاسی قیدیوں کی تحاریر سے آیا، یہ کئی قیدیوں کے تجربات کا مجموعہ ہے،اس کا پیغام یہ ہے کہ بغیر کسی ٹرائل کے لوگوں کو قید رکھنا غلط ہے، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے”۔

داخلی سلامتی ایکٹ یا آئی ایس اے کسی بھی شخص کو بغیر ٹرائل کے قید میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے، اور کئی قیدی تو دوران قید مر بھی گئے،کوا کیا سونگ کو 1987ءمیں ایک سو چھ سیاسی کارکنوں اور اپوزیشن رہنماﺅں کے ہمراہ نسلی تناﺅ بڑھانے کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔

سُونگ”آئی ایس اے کے تحت گرفتار ہونے والے افراد کی بڑی اکثریت کو کافی مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ حکومت انہیں قومی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتی ہے”۔

انھوں نے ایک انسانی حقوق کا گروپ سوآرامقائم کیا تھا جس کے زیرتحت یہ اسٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا ہے، اسی گروپ کی کوششوں سے 2012ءمیں آئی ایس اے ایکٹ کو کالعدم قرار دیدیا گیا تھا۔

کوا کیا سونگ”ہمیں چونکہ آئی ایس اے کا خوفناک تجربہ ہوچکا تھا، اس لئے ہم نے سوچا کہ ہمارے بھائیوں کو اس تجربے سے گزرنے سے بچانے کیلئے جدوجہد توکرنا ہی پڑے گی”۔

تاہم انکا کہنا ہے کہ یہ جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی، کیونکہ ابھی بھی سیکیورٹی آفیسرز ایکٹ اور پریوینیشن آف کرائم ایکٹ کے تحت بھی لوگوں کو کسی ٹرائل کے بغیر قید میں رکھا جاسکتا ہے، احمد سائیوکری ابد رزاب،سوارام کے کوآرڈنیٹر ہیں۔

احمد”ان خطرناک قوانین کے تحت پولیس کو کسی بھی شخص کو بغیر ٹرائل کے گرفتار کرنیکی اجازت ہے، تو ہمارا اس تھیٹر ڈرامے کے ذریعے پیغام یہ ہے کہ لوگ اس بات کو سمجھیں کہ اگر انھوں نے ان قوانین کے خلاف جدوجہد نہ کی تو اس کے تحت گرفتار افراد کو پھانسی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے، جیسا کہ آئی ایس اے ایکٹ کے تحت بھی ہوچکا ہے”۔

حکومت کا ماننا ہے کہ جرائم پر قابو پانے کیلئے پولیس کو ان قوانین کے تحت اختیارات ملنے چاہئے، مگر کوا کیا کا کہنا ہے کہ یہ قوانین سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔

کوا کیا” درحقیقت ابھی تک بغیر ٹرائل کے جیلوں میں لوگوں کو ڈالنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے”۔

حسام الدین رئیس کا کہنا ہے کہ اس مہم کیلئے وہ اپنے ڈرامے کو بیرون ملک بھی لیکر جائیں گے۔

حسام الدین”ہم ایک ماہ کیلئے برطانیہ جارہے ہیں، جہاں ہم ملائیشین برادری کی مدد سے اس ڈرامے کا انعقاد کریں گے، تاکہ ٹرائل کے بغیر قید کرنے کے خلاف مہم کو آگے بڑھایا جاسکے، وہاں ہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مہمان ہوں گے”۔