A Doctor’s Quest to Save Pakistani Babies – پاکستانی ڈاکٹر

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق پاکستان میں نو عمر بچوں کی ہلاکتوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، ہر دس میں سے ایک بچہ پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی چل بستا ہے، تاہم ایک خاتون ڈاکٹر اس صورتحال کو تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

یہ پہلی بار ہے کہ شبانہ نے ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنی، اسے اس ایمبولینس میں بچے کی پیدائش کیلئے ہسپتال لے جایا جارہا ہے، دایہ گل نواز بھی شبانہ کے ہمراہ ہے۔

گل نواز”یہ میری زندگی میں پہلی بار ہے کہ جب میں نے کسی مریض کو ایک ایمبولینس میں طبی مرکز جاتے ہوئے دیکھا، یہ سب ڈاکٹر انیتا اور ان کی ٹیم کا کارنامہ ہے جو بچوں اور خواتین کو بچانے کی جنگ لڑرہے ہیں”۔

شبانہ کراچی کے نواح میں واقع ایک گاﺅں ریڑھی گوٹھ کی رہائشی ہے، وہ مچھلیاں دھونے کا کام کرکے روزانہ دو سو روپے تک کمالیتی ہے۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ پانچ سال کی عمر سے قبل ہلاک ہوجاتا ہے، جو کہ عالمی اموات کی شرح سے بہت زیادہ ہے، ریڑھی گوٹھ میں گزشتہ چالیس سال سے کوئی طبی مرکز ہی نہیں، ڈاکٹر انیتا زیدی کراچی یونیورسٹی میں پیڈیایٹرکس ڈیپارٹ منٹ کی سربراہ ہیں۔

انیتا”یہاں قریب کوئی ہسپتال نہیں اور بچوں کو عموماً غیرتربیت یافتہ دایہ کی مدد سے ہی بچوں کو جنم دینا پڑتا ہے، زچگی کے عمل کے دوران اگر خواتین کو پیچیدگیوں کا سامنا ہو تو بچے اکثر مرجاتے ہیں، جبکہ خواتین کو طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے”۔

ڈاکٹر انیتا نے بچوں کی اموات کی شرح میں کمی کیلئے گزشتہ دہائی میں ریڑھی گوٹھ میں کام شروع کیا، ان کے کام پر انہیں ایک امریکی ادارے ٹیڈ کیپلو کی جانب سے دس لاکھ ڈالرز کا انعام بھی ملا۔

انیتا”میں اس برادری کے بارے میں جانتی ہوں، مجھے ان کے مسائل کے بارے میں علم ہے اور اس انعام کا حصول برادری کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک اچھا امر ہے”۔

اب اس گاﺅں میں حاملہ خواتین کیلئے بہتر طبی سہولیات دستیاب ہیں، ڈاکٹر انیتا کو ملنے والی انعام رقم حاملہ خواتین کی خوراک اور مڈ وائفز وغیرہ کی تربیت پر خرچ ہوگی، جبکہ وہ پیچیدگیوں کی شکار خواتین کو ہسپتال تک لانے کیلئے ٹرانسپورٹ کا نظام بھی قائم کیا جارہا ہے۔

انیتا”حاملہ خواتین کو دوران حمل دو بار طبی معائنہ کرانا چاہئے، انہیں ملٹی وٹامنز دی جانی چاہئے تاکہ صحت مند بچوں کی پیدائش ہو اور اگر وہ کم خوراکی کا شکار ہیں تو انہیں غذا دی جانی چاہئے”۔

ڈاکٹر قدسیہ عظمیٰ کا تعلق ایک این جی او سیو دی چلڈرن سے ہے، انکا کہنا ہے کہ حکومت کو اس کام کیلئے آگے آنا چاہئے۔

قدسیہ”بنیادی مسئلہ تربیت یافتہ طبی ورکرز کی کمی، درست آلات اور ماﺅں تک میڈیکل سپلائی پہنچانے کا ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں جہاں ان کی ضرورت سب سے زیادہ ہے”۔

ہسپتال واپس چلتے ہیں جہاں شبانہ نے ایک صحت مند بچی کو جنم دیا ہے۔

شبانہ”میں اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی شکرگزار ہوں، مجھے اچھی طبی سہولیات دستیاب ہیں اور اب اس علاقے کی ہر عورت کو طبی سہولیات مل سکیں گی”۔