بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک سوئس ادویات ساز کمپنی کی جانب سے ایک دوا رجسٹر یا پیٹینٹ کرنے کی درخواست مسترد کردی، یہ فیصلہ مغربی ادویات ساز کمپنیوں کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے جو بھارت میں اپنا کاروبار توسیع کرنے کی خواہشمند ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سوئس کمپنی نو وارٹس کی سات سالہ قانونی جنگ ختم ہوگئی، سنیئر وکیل آنند گروور نے عدالت میں کینسر پیشینٹس ایڈ ایسو سی ایشن کی پیروی کی، وہ اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔
آنند گروور”عدالت نے نو وارٹس کی درخواست مسترد کردی ہے اور درحقیقت اس نے ہماری اپیل منظور کرلی ہے۔ ہماری درخواست میں واضح کیا گیا تھا کہ یہ دوا موثر نہیں نہیں، اور اس میں تھری ڈی کی ضروریات پوری نہیں کی گئیں۔ اب تھری ڈی بہت اہم ہے اور نئے پیٹینٹ میں اس بات پر خاص توجہ دی گئی ہے کہ کسی بھی نئی دوا کو اس وقت تک رجسٹر نہ کیا جائے جب تک اس کی افادیت ثابت نہ ہوجائے”۔
نو وارٹس اپنی مقبول انسداد کینسر دوا گلیوس کو رجسٹر کرانا چاہتی تھی، یہ خون کے سرطان کے علاج کیلئے استعمال کی جاتی ہے، اس کے استعمال سے مریض کی زندگی کی مدت میں لگ بھگ بیس سال کا اضافہ ہوجاتا ہے، تاہم اس کا ماہانہ استعمال دو ہزار ڈالر کا پڑتا ہے۔مگر چالیس سالہ خون کے سرطان میں مبتلا نور عالم اس دوا کا جنرک ورژن استعمال کررہے ہیں جو دس گنا سستا ہے۔
عالم”میرے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں مجھے یہ دوا استعمال کرنا ہوگی۔یہ بہت سستی ہے اس لئے میں اسے استعمال کرتا ہوں، میں مہنگا علاج کا بار نہیں اٹھاسکتا”۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کواب بھارت میں کام کرنا ہے تو انہیں سستی ادویات تیار کرنا ہوں گی۔ اس فیصلے کا دیگر ضروری ادویات پر بھی اثر پڑے گا۔طبی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے گلیوس کو رجسٹر کرنے کی اجازت دیدی ہوتی تو دیگر ادویات کے لئے بھی اسے ایسا ہی کرنا پڑتا۔لینا میگھانے ، میڈیسن سینس فرنٹیئر سے تعلق رکھتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی فتح ہے۔
لینا “ہم ایچ آئی وی میں مبتلا دو لاکھ سے زائد افراد کا علاج کررہے ہیں، اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ترقی پذیر ممالک میں اسی لاکھ سے زائد افراد ایچ آئی وی کے شکار ہیں اور ان میں سے اسی فیصد کا
انحصار بھارتی ساختہ جنرک ادویات پر ہے۔ تو ہمارے مریضوں اور تھائی لینڈ، برازیل، افریقہ اور دیگر ممالک کے اسی لاکھ افراد کو اس فیصلے پر جشن منانا چاہئے کیونکہ یہ تمام مریضوں کی بڑی فتح ہے”۔
بھارت جنرک ادویات تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم موجود پیٹینٹ پالیسی کو نئی ادویات کیلئے تحقیق اور تیاری کے لئے رکاوٹ سمجھا جارہا ہے۔ یہ خیال نوارٹس انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر رنجیت شانی نے پیش کیا ہے۔
رنجیت شانی “مثال کے طور پر اس ملک میں ڈیٹا کے تحفظ کا کوئی احساس نہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام حقوق دانش کے متنازعہ قوانین کے باعث عالمی کمپنیوں کو وسیع سرمایہ کاری کی اجازت نہیں۔ بھارت میں پیٹینٹ ، دو ہزار پانچ سے ہے مگر اس وقت تمام سرمایہ کاری چین کی جانب جارہی ہے۔ واضح طور پر یہ نامناسب طریقہ ہے”۔
کچھ مغربی ادویات ساز کمپنیوں اور امریکی چیمبر آف کامرس نے بھی انہیں خدشات کا اظہار کیا ہے، تاہم متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس سے بھی زیادہ سخت ہونا چاہئے، تاکہ ادویات ساز کمپنیوں کیلئے آسانی سے منافع لینے کا عمل مشکل بنایا جاسکے۔ سمیر کول، نئی دہلی کے اپالو ہسپتال میں آنکالوجسٹ ہیں۔
سمیر کول”ہمیں منصفانہ کھیل کو یقینی بنانا ہوگا، آپ ایک نئی کمپنی کو مختصر وقت کیلئے تو کوئی دوا رجسٹر کرانے کی اجازت دے سکتے ہیں، مگر جب کسی دوا کی رجسٹریشن کا عمل دس یا بیس سال ہو تو میرے خیال میں یہ مضحکہ خیز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنی صنعت کے مفادات کا بھی خیال رکھنا ہے، اور آپ کو حقیقی تحقیق اور ترقی کیلئے بہت زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہے”۔