(Lady Gaga too ‘Pornographic’ for Indonesia) لیڈی گاگا کی آمد پر انڈونیشیاءمیں تنازعہ

 

(Lady Gaga too ‘Pornographic’ for Indonesia) لیڈی گاگا کی آمد پر انڈونیشیاءمیں تنازعہ

امریکہ کی معروف گلوکارہ لیڈی گاگا کی انڈونیشیاءآمد سے قبل وہاں ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے، اور اس میں شدت اس وقت آئی جب انڈونیشین پولیس نے بھی گلوکارہ کو جکارتہ میں شو کرنے کا اجازت نامہ دینے سے انکار کردیا.

لیڈی گاگا اپنے ایک معروف ترین گانے Poker Face کی دھن بجارہی ہیں۔ تاہم انڈونیشیاءمیں ان کے ہزاروں پرستار اسٹیج پر اپنی پسندیدہ گلوکارہ کے فن کا مظاہرہ براہ راست دیکھنے سے محروم رہ گئے، کیونکہ انڈونیشین پولیس نے گزشتہ دنوں اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی گلوکارہ کے کنسرٹ کیلئے اجازت نامہ جاری نہیں کرے گی۔ سعود عثمان پولیس ترجمان ہیں۔

سعود(male) “ہمیں انڈونیشین علماءکونسل اور ریاستی سیکرٹریٹ کی جانب سے خطوط ملے ہیں، ہم ان خطوط کو بنیاد بناتے ہوئے اور سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر لیڈی گاگا کو جکارتہ میں شو نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں”۔

انڈونیشیاءکی سخت گیر موقف والی جماعت ایف پی آئی نے شو میں مداخلت کی دھمکی دیتے ہوئے اپنے تیس ہزار کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لیڈی گاگا کو جکارتہ میں داخل نہ ہونے دیں۔ Salim Alatas جکارتہ میں ایف پی آئی کے سربراہ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ لیڈی گاگا شیطان کی نمائندہ ہے۔

 male) Salim Alatas) “ہمارا تعلق ایف پی آئی سے ہے، ہم لیڈی گاگا کے کنسرٹ کیخلاف احتجاج کریں گے، کیونکہ امریکی گلوکارہ انڈونیشیاءکے اخلاقی معیار کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ وہ شیطان کی نمائندہ ہے اس لئے ہم اس کے شو کو مسترد کرتے ہیں”۔

انڈونیشین حکومت نے موسیقی کے شوز کرانے والے افراد کو انتباہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی فنکاروں کو مدعو کرنے سے قبل ملکی ثقافت اور روایات کو مدنظر رکھا کریں۔وزارت سیاحت نے بھی زور دیا ہے کہ غیر ملکی فنکار اسٹیج پر مناسب لباس میں نظر آئیں، مگر جکارتہ کے متعدد نوجوانوں کا ماننا ہے کہ انتہا پسند گروپس کو ان کے حقوق غضب کرنے کا حق حاصل نہیں۔

اٹھارہ سالہ Giat جکارتہ کے ایک طالبعلم ہیں، جو ٹیوئیٹر نامی ویب سائٹ پر ایک اکاﺅنٹ چلارہے ہیں، جسے LadyGagaIndonesia کا نام دیا گیا ہے۔ Giatکا کہنا ہے کہ ان کے اکاﺅنٹ میں پولیس کے اعلان پر لوگوں کی جانب سے بہت زیادہ تنقید کی جارہی ہے۔

male) Giat) “وہ افراد جو لیڈی گاگا کو پسند نہیں کرتے وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، ہم سب کو معلوم ہے کہ لیڈی گاگا نے کبھی کسی سے نہیں کہا کہ وہ شیطان کی عبادت کرے، جیسے یہ لوگ اپنے دلائل میں جھوٹ بولتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔ چونکہ سب لوگ لیڈی گاگا کو نہیں جانتے اس لئے شرپسند اپنے پروپگینڈے کے ذریعے ان افراد کو بہکا کر امریکی گلوکارہ سے نفرت کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کنسرٹ منسوخ ہوجائے۔ یہ صورتحال میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے انتہائی مضحکہ خیز ہے”۔

امریکی گلوکارہ پر تمام تر الزامات کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ انڈونیشیاءمیں لیڈی گاگا کے پرستاروں کی تعداد کروڑوں میں ہے، اب تک ان کے شو کے 52 ہزار سے زائد ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں، اور ان کے شو کو ایشیاءکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام قرار دیا جارہا ہے۔لیڈی گاگا کے شو کا انتظام کرنے والے ادارے Big Daddy productions کا کہنا ہے کہ وہ انتظامیہ سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ اس شو کی منسوخی سے دنیا بھر میں انڈونیشیاءرسوا ہوکر رہ جائے گا۔ ہیومین رائٹس واچ کی ایشیاءمیں ڈپٹی ڈائریکٹر Elaine Pearson نے کہا ہے کہ سخت گیر گروپس جیسے ایف پی آئی کے اقدامات میں جارحیت بڑھ رہی ہے۔

female) Elaine Pearson) “مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ انتہاپسند گروپس دن بدن اپنا موقف سخت کرتے جارہے ہیں، ہم نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران دیکھا ہے کہ انھوں نے اقلیتی فرقوں کی عبادت گاہوں پر حملے کئے ہیں،میرے خیال میں لیڈی گاگا کا شو منسوخ ہوا تو ان گروپس کی ہمت اور بڑھ جائے گی، کیونکہ حکومت ان کی سرگرمیاں روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔یہ گروپس انڈونیشین عوام کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں”۔

ایف پی آئی کی جانب سے گزشتہ دنوں جکارتہ میں ایک کینیڈین مصنف کی کتاب متعارف کرائے جانے کی تقریب کے موقع پر بھی حملے کی دھمکی دی گئی تھی، جسکے بعد پولیس نے وہ تقریب ہی منسوخ کرادی تھی۔

انڈونیشیاءدنیا میں سب سے بڑا مسلم ملک ہے، جہاں چوبیس کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں، ان میں سے اکثریت معتدل مزاج افراد کی ہے، مگر ایف پی آئی نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی سرگرمیوں سے کافی توجہ حاصل کی، متعدد حلقوں کی جانب سے ایف پی آئی کے ساتھ انتظامیہ کے خصوصی سلوک پر کافی تنقید کی جاتی ہے۔ Elaine Pearson کا کہنا ہے کہ ایف پی آئی جیسے گروپس انڈونیشیاءکے معتدل مزاج افراد کی آوازوں کو دبا رہے ہیں۔

female) Elaine Pearson) “میرے خیال میں طویل عرصے سے پولیس اس گروپ کی سرگرمیوں کو دیکھ رہی ہے، مگر بدقسمتی سے پولیس اقلیتی گروپس کے حقوق کے تحفط کی بجائے شور مچانے والوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ انڈونیشیاءمیں اس وقت زیادہ شور اور جارحیت کا مظاہرہ کرنے والے اہمیت پارہے ہیں، ہمیں تو یہ نظر آرہا ہے کہ اس گروپ اور پولیس کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہے۔ کئی واقعات میں پولیس نے اس منطقی استدلال اپنانے کی بجائے اس انتہاپسند گروپ کا ساتھ دینا پسند کیا”۔

جکارتہ کے نوجوان جیسے Giat کا کہنا ہے کہ ایف پی آئی کی سرگرمیوں کے باوجود انہیں اپنی پسندیدہ گلوکارہ کا لائیو شو دیکھنے کا حق حاصل ہے۔

male) Giat) “میرے خیال میں ہر شخص کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہے، مگر یہ گروپ اپنی غلط بات منوانے کے لئے مذہب کا سہارا لے رہا ہے، جو کہ میرے خیال میں بالکل غلط ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *