Koreans Couples Pay Big for Prestige of Marrying in Gangnam – کورین شادیاں

آپ نے گنگنم کے بارے میں تو سنا ہی ہوگا؟ یہ جنوبی سئیول کا وہ ضلع ہے جسے گلوکار سائی نے گزشتہ برس اپنے گانے گنگنم اسٹائل سے دنیا بھر میں معروف کردیا ہے، مگر یہ مقام کلبز کی وجہ سے نہیں شہرت نہیں رکھتا، بلکہ یہاں لاکھوں کورین جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ چکے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

این ان می اور نک ڈیررٹ کی شادی ضلع گنگنم میں ہورہی ہے، یہ جوڑا اس مقام کو شادی کیلئے انتہائی متبرک سمجھتا ہے۔

این”متعدد افراد کے خیال میں یہ مقام بہترین ہے اور وہ یہاں شادی کرکے اپنی حیثیت کی نمائش کرتے ہیں، مگر ہمارے معاملے میں ایسا نہیں”۔

ڈیرٹ”میرے خیال میں یہ تاثر پھیل چکا ہے کہ یہاں لوگ نمود و نمائش کیلئے آتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ گنگنم میں عروسی ملبوسات اور میک اپ وغیرہ کے متعدد مقامات ہیں، جس کی وجہ شادی کے انتظامات ایک ہی جگہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ لوگوں کیلئے گنگنم کا مقام بہت قابل عزت ہے”۔

جنوبی کوریا میں لوگ کسی شادی میں جو چیز سب سے پہلے دیکھتے ہیں، وہ اس کے منعقد ہونے کا مقام ہے، اور گنگنم میں شادی کا مطلب دولت اور اثررسوخ ہے۔

گنگنم کے اس بڑے شادی ہال کے اندر کئی تقریبات مختلف منازل میں ہورہی ہیں، جس کمرے میں ہم موجود ہیں یہ کسی یورپی گرجا گھر کی طرح سجا ہوا ہے، ایک دلہن کمرے میں داخل ہوئی اور تیس منٹ میں شادی کی رسومات ادا کردی گئیں، جس کے بعد دوسری شادی کی تقریب شروع ہوگئی۔

لی ڈونگ یونگ،راوم ویڈنگ ہال کے منیجر ہیں، جو کہ سیﺅل کے مہنگے ترین شادی ہالز میں سے ایک ہے۔

لی”اس کاروبار کیلئے مقام کی بہت اہمیت ہے، گنگنم کوریا کی بڑی کمپنیوں اور خاندانوں کا گھر سمجھا جاتا ہے، تو یہ سب قابل فہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شادیاں اپنے علاقے میں کرنا پسند کرتے ہیں”۔

تاہم جنوبی کوریا میں کہیں بھی کسی خاندان کیلئے کم خرچ شادی کا انعقاد ممکن نہیں، حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ایک شادی پر کم از کم ایک لاکھ ڈالرز خرچ ہوجاتے ہیں،
چھو ئی سیونگ ہی دس سال سے گنگنم میں شادیوں کے ایونٹس کرارہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ مقام ملک بھر میں شادی کیلئے سب سے اچھا سمجھا جاتا ہے۔

چھوئی”وہ افراد جو اس علاقے میں نہیں رہتے، وہ بھی گنگنم میں شادی کرانا پسند کرتے ہیں، تمام مہنگے برانڈز کے دفاتر یہاں موجود ہیں، لوگ اپنا وقت یہاں گزارنا پسند کرتے ہیں، اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ یہاں گزاریں، لوگوں کے اندر یہاں رہنے اور کام کرنے کا جنون موجود ہے،یہی معاملہ شادیوں کا بھی ہے”۔

چھو ئی کا کہنا ہے کہ انکا کام جوڑوں کو ایک ہی جگہ تمام سہولیات فراہم کرنا ہے۔

چھو ئی”تمام شادی ہالز، بیوٹی شاپس، کپڑوں کی دکانیں اور فوٹو اسٹوڈیوز وغیرہ سب یہاں موجود ہیں، دیگر شہروں کی خواتین یہاں آنا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پوری شادی کی تیاری یہاں ایک ہی جگہ میں ممکن ہے، انہیں یہاں وہاں گھوم کر چیزیں اکھٹی نہیں کرنا پڑیں گی، یہ علاقہ شادی کے کاروبار کیلئے انتہائی مناسب ہے، اور ہر متعلقہ شے یہاں آسانی سے ڈھونڈی جاسکتی ہے”۔

دلہنوں کو جن دکانوں میں چھو ئی لیکر جاتی ہے ان میں سے ایک ڈریس ڈیزائنر لی سیونگ می کی ہے، ان کا کام کئی بین الاقوامی جریدوں اور بیرون ملک فیشن شوز میں بھی شہرت حاصل کرچکا ہے۔

لی سیونگ می کا کہنا ہے کہ سیﺅل ہمیشہ سے شادیوں کیلئے پسندیدہ مرکز رہا ہے مگر ماضی میں گنگنم زیادہ مقبول نہیں تھا۔

لی سیونگ می”گنگنم اس وقت شادیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، مگر بیس سال پہلے ایسا نہیں تھا، جب میں نے ملبوسات کی تیاری کا کام شروع کیا،۔

اس وقت ایوہا وومن یو نیورسٹی کا قریبی علاقہ شادیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا، مگر دس سال قبل یہ مرکز دریائے ہین کے جنوب میں منتقل ہونا شروع ہوگیا، اور اب یہ گنگنم پہنچ گیا ہے”۔

انکا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے کوریا میں شادیوں کے رجحان میں تبدیلی کا اظہار ہوتا ہے۔

لی ایس ایم”جب میں نے اپنی پہلی دکان کھولی تو اس علاقے میں میرے ساتھ شادی کے سامان کی سو کے قریب دکانیں موجود تھیں، اس وقت بطور ڈیزائنر روایتی ملبوسات ہی زیادہ فروخت ہوتے تھے،مگر جب یہ مرکز گنگنم میں منتقل ہوا تو ہم مہنگے ترین ڈیزائن فروخت کرنے لگے”۔

لی ایس ایم کے ملبوسات سستے نہیں، انکا دو روزہ کرایہ ہی سات ہزار ڈالر ہے، تاہم شادی کا کافی خرچہ تو مہمان ہی پورا کردیتے ہیں، کیونکہ شادی میں آمد کے بعد وہ پیسوں سے بھرا لفافہ شادی ہال کے باہر بیٹھے کلرک کے ہاتھ میں تھماتے ہیں، ان کے نام اور رقم ریکارڈ میں درج کرلی جاتی ہے اور انہیں شادی کی تقریب کے بعد ضیافت کا کوپن تھما دیا جاتا ہے۔ چھو ئی سیونگ ہی تسلیم کرتی ہیں کہ موجودہ شادی کسی کاروباری تقریب جیسی ہوگئی ہیں۔

چھو ئی”ماضی میں کورین خاندان شادی سے قبل پوری رات ایک ساتھ رہتے تھے، کھانا پکاتے تھے اور ہر ایک کو کھانے پر مدعو کرتے تھے، وہ حقیقی برادری کا ایونٹ ہوتا تھا، مگر اب مغربی انداز اپنا لیا گیا ہے جس میں مہنگی تقاریب جلدی نمٹائی جاتی ہیں، آپ کو تو جوڑے سے بات کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا، بس لگتا ہے کہ صرف دولت کی نمائش ہورہی ہے”۔