Written by prs.adminJune 10, 2012
(Kashmir Report pushes for India law changes) کشمیر میں بھارتی قوانین میں تبدیلی کی سفارش
Asia Calling | ایشیا کالنگ . Politics Article
(Kashmir Report pushes for India law changes) کشمیر میں بھارتی قوانین میں تبدیلی کی سفارش
بھارتی حکومت کو ایک پارلیمانی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں اہم قوانین میں تبدیلیاں لانے کی سفارشات پیش کی ہے، یہ کمیٹی کشمیر میں دو برس قبل بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کے ہاتھوں سو سے زائد افراد کی ہلاکت پر قائم کی گئی تھی۔ تاہم اس کمیٹی کی سفارشات کو حریت پسندوں اور بھارتی قوم پرستوں نے مسترد کردیا ہے.
Dilip Padgaonkar مقبوضہ کشمیر کے لئے قائم بھارتی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔
male) Dilip Padgaonkar) “جموں و کشمیر میں مستحکم مذاکرات کیلئے یہ رپورٹ ایک آغاز ثابت ہوگی، اس بات چیت میں ماضی کے دلائل اور نظریات کو فراموش کرکے آگے بڑھا جائے گا”۔
Dilip Padgaonkar کا کہنا ہے کہ کشمیر تنازعے کو حل کرنے کیلئے بھارتی حکومت اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مذاکرات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔2010ءمیں کشمیر میں تین ماہ تک زبردست احتجاج کیاگیا، جس کے دوران درجنوں ہلاکتیں ہوئیں، جسکے بعد اس کمیٹی کا قیام عمل میں آیا، جسے اس مسئلے کے حل کی وجوہات اور انکے حل کیلئے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ Dilip Padgaonkar کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے اس مسئلے کے حل کیلئے نئی سوچ کے ساتھ کام شروع کیا۔
male) Dilip Padgaonkar) “میرا ماننا ہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے نئی سوچ کی ضرورت ہے، اور یہ کوئی ناممکن بات نہیں، نئی سوچ کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے علیحدگی پسند جذبات کو فروغ دیا جائے گا، بلکہ اس سے جموں و کشمیر کی انفرادیت کا تحفظ کیا جاسکے گا”۔
اس کمیٹی نے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اس کی سفارشات میں کسی قسم کے ریفرنڈم یا حریت پسندوں کے دیگر اہم مطالبات جو بھارتی آئین کی حدود میں نہیں آتے،پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں جو سب سے اہم سفارش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نئی دہلی حکومت کشمیر میں 1952ءسے نافذ قوانین پر نظرثانی کرے، ان میں وہ قانون بھی شامل ہے جس کے ذریعے مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کو بے پناہ اختیارات دیدئیے گئے ہیں۔ 1952ءسے قبل کشمیر اور سرینگر کو بھارتی آئین کے تحت خصوصی درجہ حاصل تھا، اور اس وادی کو دفاع، مواصلات اور خزانہ کے سوا دیگر معاملات میں خودمختاری حاصل تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ 1952ءسے پہلے کا انتظام ہی خطے میں استحکام کا واحد راستہ ہے۔ غلام نبی رتن پوری نیشنل کانفرنس کے سنیئر رہنماءہیں۔
رتن پوری(male) “بھارت کو 1953ءکے بعد کئے جانے والے اقدامات واپس لینا ہوں گے، ہمیں یقین ہے کہ اگر ہمیں وہ اختیارات واپس مل جاتے ہیں تو ہم لوگوں کو احتجاج کرنے سے روکنے میں کامیاب ہوسکیں گے”۔
تاہم سنیئر صحافی اجے شکلا کا کہنا ہے کہ اب یوٹرن لینا ممکن نہیں۔
شکلا(male) “یہ بات واضح ہے کہ نئی دہلی اور سرینگر کے درمیان تعلقات میں تبدیلی اس وقت تک نہیںآسکتی، جب تک ملک بھر میں وفاقی نظام میں تبدیلیاں نہیں کی جاتیں۔یہ بات واضح ہے کہ اب سرینگر کو خصوصی درجہ دینا ممکن نہیں”۔
بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے، اس کا الزام ہے کہ اس سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی موقف کمزور ہوا ہے۔ Sheshadari Chari بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔
male) Sheshadari Chari) “جموں و کشمیر کا پرامن حل حریت پسندوں کی شرائط پر نہیں بلکہ بھارتی شرائط پر ہی ممکن ہے۔اس رپورٹ میں جس طرح حریت پسندوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔آپ انہیں متاثرین قرار دے رہے ہیں، آپ وادی کے لوگوں کو متاثرین کہہ رہے ہیں، حالانکہ اصل متاثرین کشمیری ہندو ہیں، جو اپنے گھر چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں بے گھر ہوکر زندگی گزار رہے ہیں”۔
تاہم حریت پسند بھی اس رپورٹ پر خوش نہیں اور اکثر نے اسے مسترد کردیا ہے۔ سنیئر رہنماءسید علی گیلانی نے اس کمیٹی کو بھارتی حکومت کا ایک اور تاخیری حربہ قرار دیاہے۔
سید علی گیلانی(male) “ہم شروع سے جانتے ہیں کہ اس کمیٹی سے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ہم نے اس بات چیت کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی سنجیدہ نہیں اور نہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی خواہشمند ہے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply